سرینگر میں آٹھویں محرم کے جلوس میں ہزاروں اعزاداروں کی شرکت

عاشورہ کے جلوس کو روایتی راستے نکالنے کے سلسلے میں انتظامیہ غورخوض کررہی ہے ۔ انتظامیہ

سرینگر//جموں و کشمیر کے شہر سرینگر میں سوموار کو ہزاروں شیعہ عزاداروں نے آٹھویں محرم کا جلوس نکالا۔ اعزاداروں نے مرثیہ اور نوحہ پڑتے ہوئے گروبازار سے ڈلگیٹ براہ راست بڈشاہ پُل روایتی راستے سے جلوس نکالا ۔ اعزاداروں کیلئے انتظامیہ کی جانب سے پہلے ہی سہولیت بہم رکھنے کیلئے اقدامات اُٹھائے جاچکے تھے ۔ادھر انتظامیہ نے کہا ہے کہ عاشورہ کے جلوس کو روایتی راستے سے نکالنے کیلئے غورو خوض کیا جارہا ہے ۔دریں اثناء آٹھویں محرم الحرام کے جلوس کی نگرانی کے دوران ڈویژنل کمشنر کشمیر نے بتایا کہ انتظامیہ عاشورہ کے جلوس کو روایتی راستے نکالنے کیلئے غور کررہی ہے اور حتمی فیصلہ ابھی لینا باقی ہے ۔ ادھر آئی جی پی کشمیر نے بھی اس ضمن میں بتایا کہ پولیس اور سیول انتظامیہ اس معاملے پر غور وخوض کررہی ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق آٹھویں محرم کے سلسلے میں سوموار کے روز گروبازار سے روایتی راستے ڈلگیٹ تک اعزاداروں نے ماتمی جلوس نکالا جس میں ہزاروں کی تعداد میں اعزداروں نے شرکت کی ۔ اس جلوس کیلئے حکام نے منتظمین کی جانب سے پرامن اور نظم و ضبط کے ساتھ محرم کے جلوس کی یقین دہانی کراتے ہوئے تقریب کی اجازت دی تھی۔بڑی تعداد میں شیعہ عزاداروں نے اس جلوس میں شمولیت اختیار کی جو گرو بازار سے شروع ہو کر سرینگر شہر کے ڈلگیٹ علاقے میں اختتام پذیر ہوا۔یہ جلوس کربلا میں شمر کی فوج کے ہاتھوں نواسہ رسول امام حسین ؑان کے اہل خانہ اور حامیوں کی شہادت کی یاد میں نکالا جاتا ہے۔اس دوران آئی جی پی کشمیر زون وی کے بردی اور سول انتظامیہ کے افسران نے محرم کے جلوس کی نگرانی کی۔ آئی جی پی نے سوگواروں کو پانی اور ٹھنڈے مشروبات بھی پیش کئے۔اسلام کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے اور امام حسین کی عظیم ترین قربانی کو سراہتے ہوئے، عزاداروں نے پورے جلوس میں ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور سماج دشمن عناصر کو فرقہ وارانہ جذبات کو ہوا دینے کی کوئی وجہ نہیں دی۔مقامی سماج کے تمام طبقات نے انتظامیہ کی طرف سے سری نگر میں 8ویں محرم کے جلوس کی اجازت دینے کے فیصلے کو سراہا ہے۔ جموں و کشمیر میں مسلح تشدد شروع ہونے کے 30 سال کے وقفے کے بعد پچھلے سال بھی اس کی اجازت دی گئی تھی۔دریں اثناء آٹھویں محرم الحرام کے جلوس کی نگرانی کے دوران ڈویژنل کمشنر کشمیر نے بتایا کہ انتظامیہ عاشورہ کے جلوس کو روایتی راستے نکالنے کیلئے غور کررہی ہے اور حتمی فیصلہ ابھی لینا باقی ہے ۔ ادھر آئی جی پی کشمیر نے بھی اس ضمن میں بتایا کہ پولیس اور سیول انتظامیہ اس معاملے پر غور وخوض کررہی ہے ۔