گزشتہ دو برسوںمیں جے کے پی ایس سی ، جے کے ایس ایس بی کے ذریعے 11,526 اَسامیاں پُر کی گئیں
جموں//وزیر برائے زراعت جاوید احمد ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیر میں گزشتہ چار برسوں میں جنوری 2025 ء تک ممکن ، تیجسوانی ، پی ایم اِی جی پی ، آر اِی جی پی جیسی سکیموں کے ذریعے کل 9.58 لاکھ خود روزگاری اورروزگار کے مواقع پیدا کئے گئے ہیں۔وزیرموصوف ایوان میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے رُکن اسمبلی مبارک گل کے ایک سوال کا جواب دے رہے تھے۔اُنہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں بے روزگاری کی شرح 2019-20 ء میں 6.7 فیصد سے کم ہو کر 2023-24 ء میں 6.1 فیصد ہو گئی ہے یعنی اس میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں ہوا۔انہوں نے مزید بتایا کہ جے کے پی ایس سی اور جے کے ایس ایس بی کے ذریعے 11,526 بھرتیاں کی گئی ہیں جبکہ صنعتی شعبے میں گزشتہ دو مالی برسوں کے دوران 45,688 نجی روزگار پیدا ہوئے ہیںجبکہ ایم جی نریگاکے تحت جنوری 2025 ء تک 3.01 کروڑ ایام کار پیدا ہوئے ہیں جس سے 8.07 لاکھ گھرانوں کو روزگار فراہم کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر حکومت نے خود روزگاری اور کاروبار کے فروغ کے لئے مشن یووا کا آغاز کیا ہے جس کے ذریعے 5 لاکھ ممکنہ کاروباری افراد کی نشاندہی، مدد اور بااختیار بنانے کے لئے ایک منظم اور ٹیکنالوجی پر مبنی حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔ اس سکیم کے اہم اہداف میں مختلف شعبوں میں 1,37,000 سے زائد نئے کاروبار قائم کرنا اور پانچ برسوں میں 4,25,000 سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر نے مزید کہا کہ گزشتہ چار برسوں میں 246 ’’جاب میلوں‘‘ کا انعقاد کیا گیا جس میں 2,760 کمپنیوں کی جانب سے 4,893 افراد کو روزگار ملا جبکہ 6,640 امیدواروں کو ہنر کی تربیت کے لئے منتخب کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ بے روزگاری کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے حکومت نے متعدد اقدامات اُتھائے ہیںجن میں ’’پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی)‘‘کے ذریعے سرکاری صنعتی تربیتی اداروں (آئی ٹی آئیز) کی اپ گریڈیشن، ’’ سٹرائیو(ایس ٹی آر آئی اِی)‘‘ منصوبہ، ٹاٹا ٹیکنالوجیز کے تعاون سے گورنمنٹ پولی تکنیک جموں اور گورنمنٹ پولی تکنیک بارہمولہ میں ’’ سی آئی آئی آئی ٹی‘‘ کا قیام شامل ہے۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ 3342، 3048، 1331، 7851 نوجوانوں کو بالترتیب سی ٹی ڈِی پی، بی ٹو وِی فور، پی ایم کے وِی وائی اور خواتین کے ایس ایچ جیز کے تحت تربیت دی گئی ہے۔وزیر نے کہا کہ اندراج شدہ 4429 امیدواروں میں سے 3249 امیدواروں کو سنکلپ کے تحت سرٹیفکیٹ دیا گیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت مرکزی معاونت والی سکیموں پی ایم کے وِی وائی اور سنکلپ کو آسانی سے اور کامیابی سے عملا رہی ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت نے سکل اِنڈیا پروگرام کو 2026 ء تک جاری رکھنے کی بھی منظوری دی ہے جس کا کل بجٹ 8,800 کروڑ روپے ہے۔










