غیر تصدیق شدہ ہدایات پر عمل کرنے کے کسی بھی منفی نتائج کی ذمہ دار ی متعلقہ افسرواہلکار پر عائد
سری نگر//حکومت نے بدھ کے روز سائبر مجرموں کی طرف سے ہدایات پہنچانے کیلئے ای میلز، ٹیلی فون نمبرات جیسے پلیٹ فارم پر واٹس ایپ اور دیگر پیغام رسانی کی ایپلی کیشنز کے غلط استعمال کے سلسلے میں سرکاری افسران اور اہلکاروں کی شناخت کیلئے ایڈوائزری جاری کی۔جے کے این ایس کے مطابق جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے 18مئی2022کوجاری کردہ ایک سیکولر زیر نمبر17-JK(GAD)آف 2022بعنوان’ سائبر کرائم حملے: اس کیلئے سیکورٹی ایڈوائزری‘میں کہاگیا ہے کہ سائبر جرائم جیسے ہیکنگ، فشنگ، شناخت کی چوری وغیرہ کے واقعات روزانہ کی بنیاد پر ملک کے کونے کونے سے رپورٹ ہو رہے ہیں۔ اعداد و شمار کی وسیع اور غیر محدود دستیابی اور انٹرنیٹ پر دستیاب تکنیکی معلومات تک رسائی کی وجہ سے ان جرائم کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک سرکیولرمیں مزید لکھاگیاہے کہ حکومتی تنظیمیں اور حکام خاص طور پر مختلف وجوہات کی بناء پر ان سرگرمیوں کا نشانہ بنے ہیں۔ایڈوائزری میں مزید بتایاگیاکہ حال ہی میں جموں وکشمیر کے مختلف سرکاری افسران واہلکاروں کی طرف سے اس طرح کے واقعات کی اطلاع ملی ہے، جس میں، ای میلز، ٹیلی فون نمبروں جیسے پلیٹ فارمز پر واٹس ایپ اور دیگر میسجنگ ایپلی کیشنز کے ساتھ یونین ٹریٹری کے سینئر عہدیداروں کی شناخت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ایڈوائزری میں لکھا گیا ہے کہ اس معاملے کی سنگینی کے باعث تمام محکموں کو سرکیولرہدایات جاری کرنے کی ضرورت پڑ گئی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ سائبر مجرموں کے ذریعے سرکاری ملازمین کی شناخت کا غلط استعمال نہ کیا جائے۔جاری ایڈوائزری کے مطابق، حکومت نے تمام انتظامی سیکرٹریوں، مختلف سرکاری اداروں اور کارپوریشنوں کے ایچ او ڈیز اور منیجنگ ڈائریکٹرز کو حکم دیا کہ وہ کسی بھی سرکاری افسر سے موصول ہونے والی کسی بھی ہدایات کو ان پر کارروائی کرنے یا اس پر عمل کرنے سے پہلے تصدیق کریں۔محکمہ ان سائبر حملوں،دھوکہ دہی کے بارے میں اپنے افسران واہلکاروں کو بھی حساس بنائے گا۔ان غیر تصدیق شدہ ہدایات پر عمل کرنے کے کسی بھی منفی نتائج کی ذمہ دار ی متعلقہ افسرواہلکار پر عائد ہوگی۔ ایسے پیغامات کے سلسلے میں کوئی کارروائی نہیں کی جانی چاہئے جو کسی بھی بہانے سے قواعدوہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوں۔










