dooran

زبان اور ثقافت کا تحفظ اور فروغ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے

انجمن ادب و ثقافت لولاب کا تفصیلی لایحہ عمل مرتب,سال بھر پر مشتمل پروگرام کا آغاز، گلشن اردو کشمیر کا آن لائن پروگرام منعقد

سری نگر//انجمن ادب و ثقافت لولاب کے زیر اہتمام آج یہاں ایک شاندار محفل کا انعقاد کیا گیا جس میں انجمن کے ممبران کے علاوہ چند زی عزت شہریوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر مقررین نے زبان اور تہذیب وتمدن کو قوموں کی انمول میراث قرار دیتے ہوئے ادیبوں اور ادب نوازوں کو تلقین کی کہ وہ اس اہم معاملے میں اپنی پوزیشن اور مقدور کے مطابق اپنا بھر پور تعاون دستیاب رکھیں۔ مقررین نے جموں وکشمیر کی واحد سرگرم اور فعال تنظیم ادبی مرکز کمراز کی کاوشوں کی بھرپور سراہنا کرتے ہوئے کہاکہ مرکز کی طرف سے کی گیی حالیہ پہل،جس کے تحت کشمیری زبان کو گوگل ٹرانسلیشن سروس میں شامل کرنے کیلئے عالمی سطح پر مہم شروع کی گیی ، کی زبردست سراہنا کرتے ہوئے اس کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔انجمن کی سرکاری طور رجسٹریشن کا عمل کامیابی سے مکمل ہونے پر ممبران نے مسرت کا اظہار کیا اس حوالے سے انجمن کے ایک فعال ممبر الیاس ارمان کا خاص طور سے شکریہ ادا کیا گیا جنہوں نے اس معاملے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں زبردست کوشش کی۔اس موقع پر انجمن کے صدر غلام نبی شاکر نے انجمن کے سالانہ لایحہ عمل کی تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ آنے والے مہینوں میں کشمیریوں زبان کے فروغ کے حوالے سے ضلع کپواڑہ کے تمام تعلیمی اداروں میں جانکاری پروگرام منعقد کیے جاء￿ یںگے۔اس کے علاوہ اپریل کے مہینے میں ایک شاندار تھیٹر کانفرنس منعقد کی جایے گی جس میں تھیٹر سے وابستہ مایہ ناز شخصیات کی عزت افزائی کی جائے گی۔ یہ بھی بتایا گیاکہ عنقریب کپواڑہ میں ایک شاندار ادبی کانفرنس منعقد کی جاییگی جس میں وادی کی تمام ادبی تنظیموں کو مدعو کیا جاییگا۔محفل کی دوسری نشست میں ایک محفل مشاعرہ منعقد ہؤا جس میں عبدالاحد حامی، ارشاد ابن مختار ،آفتاب طارق ، عادل طارق لولابی،فاروق سوگامی، احمد سجاد، جنید نجار، عامر مراد، صبا شبنم اور غلام نبی شاکر نے اپنا اپنا کلام سناکر حاضرین سے داد حاصل کی۔آخر پر انجمن کے دفتر پر بورڑ نصب کیا گیا۔اس دوران گلشنِ اردو کشمیر کے آفیشل واٹس ایپ پیج پر پروگرام ندرت بیاں کے تحت۔۔۔نظر۔۔۔لفظ پر اشعار لکھنے کی بہترین طبع آزمائی ہوئی۔ پروگرام گلشنِ اردو کشمیر کی سیکرٹری محترمہ رتبہ قریشی صاحبہ نے پیش کیا۔یہ پروگرام گلشن اردو کشمیر کے سرپرست اعلیٰ محترم مقبول فیروزی صاحب کی نگرانی میں منعقد کیا گیا۔ نظر، لفظ پر جن شعراء￿ کرام اور شاعرات نے اپنے بہترین تخلیقی اشعار پیش کرکے سامعین کو محظوظ کیا اور پروگرام کی زینت بڑھائی ان کے اسماء گرامی یوں ہیں۔۔نذیر جان صاحب۔ سلیم یوسف چلکی صاحب۔ ریحانہ کوثر صاحبہ۔ راشد منظور صاحب۔ محمد نعیم خان صاحب۔ بھارتی رینا صاحبہ۔ شبنم شبیر صاحب۔ چمن پنجوری صاحب۔ مولوی ریاض ہاکباری صاحب۔ منیر سرا? بلء صاحب۔ سید اسداللہ صفوی صاحب۔ ماہ جبین انکساری صاحبہ۔ ثاقب فہیم صاحب۔ نذیر طالب صاحب۔ سید مسعود ھاشم صاحب۔ محتاج گنستانی صاحب۔ رفاقت حفیظ صاحب۔ کسم در شاردا صاحبہ۔ مضروب بانہالی صاحب۔ گل تنویر صاحب۔ گمنام غنی صاحب۔ن ش گمنام صاحب۔غلام رسول شاداب صاحب۔منظور نونہ مء صاحب۔جاں نثار کشمیری صاحب۔سنتوش شاہ نادان صاحبہ۔عشرت گل صاحبہ۔خالدہ نبی صاحبہ۔غلام نبی دلشکن صاحب۔معصوم مقبول صاحب۔سرور بلبل صاحب۔اکرم صدیقی صاحب۔عتیقہ صدیقی صاحبہ۔نینسی چیتا صاحبہ۔شمینہ اعجاز صاحبہ۔وسیم علی کاظم صاحب۔اے کے ناز صاحب۔آسیہ نذیر صاحبہ۔ندا رحمان صاحب۔غلام حسین شبنم صاحب۔میر نثار حسین نثار صاحب۔خورشید احمد خورشید صاحب۔محمد شریف بیدار صاحب۔خورشید احمد وانی صاحب۔۔۔۔ سبھی شعراء کرام وشاعرات نے نظر لفظ پر اپنے بہترین اشعار پیش کرکے پروگرام کی رینت بڑھائی۔پروگرام کے دوران اور اختتام پر گلشنِ اردو کشمیر کے سرپرست اعلیٰ محترم مقبول فیروزی صاحب۔محترم غلام رسول وگے صاحب۔محترم اشوک کول صاحب۔محترم شبیر فہمی صاحب۔ محترم نذیر قریشی ابنِ شہباز صاحب۔محترم غلام نبی غافل صاحب۔ ن ش گمنام صاحب۔مضروب بانہالی صاحب کے علاوہ محترمہ عشرت گل صاحبہ۔ محترمہ رتبہ قریشی صاحبہ۔محترمہ فریدہ انجم صاحبہ۔ملک پروین صاحبہ۔محترمہ بھارتی رینا صاحبہ وغیرہ نے شرکا کا شکریہ ادا کیا اور فرداً فرداََ شعراء کرام کی حوصلہ افزاء کی اور گلشنِ اردو کشمیر کی پوری ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔ اور آیندہ بھی ایسے پروگرام جاری رکھنے پر زور دیا۔