لیفٹنٹ گورنر سے مداخلت کی اپیل، کہا فیصلہ وسیع تر عوامی مفاد میں منسوخ کرنا ناگزیر
سرینگر//انتظامیہ کی جانب سے رہبر جنگلات، رہبر زراعت، اور رہبر کھیل کے تحت ہوئیں تعیناتیوں کو موقوف کرنے اور ان پوسٹس کو جموں کشمیر سروس سلیکشن بورڈ کی جانب سے از سر نو مشتہر کرانے کے فیصلے پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے کہا ہے کہ من مانیوں پر مبنی اس طرح کے فیصلوں اور احکامات سے سابقہ سرکاری کے عوامی مینڈیٹ کی اعتباریت پر سوالیہ نشان کھڑا ہوجاتا ہے۔کشمیر نیوز سروس ( کے این ایس ) کے مطابق انہوں نے کہا کہ میڈیا رپورٹس کی وساطت سے منظر عام پر آنے والی یہ اطلاعات قابل تشویش ہیں کہ حکومت رہبر جنگلات، رہبر زراعت اور رہبر کھیل کے پوسٹس کو موقوف کرنے کا فیصلہ کرچکی ہے اور از سر نو بھرتیوں کیلئے سروس سلیکشن بورڈ کے ذریعے یہ پوسٹس مشتہر کئے جائیں گے۔انہوں نے اس فیصلے کو وسیع تر عوامی مفاد کے پیش نظر فوری طور پر منسوخ کرنے کی مانگ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے فیصلے کے انتہائی منفی نتائج برآمد ہونے کا احتمال ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیفٹنٹ گورنر انتظامیہ کی جانب سے متذکرہ سکیموں کے تحت کی گئی تعیناتیوں کو منسوخ کرنے کا مطلب اْن وعدوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے، جو سابقہ سرکاروں نے اس ضمن میں عوام کے ساتھ کئے ہیں۔’’انہوں نے کہا، ‘‘آج انتظامیہ نے ان پوسٹس کو موقوف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کل کوئی اور حکومت انہیں پھر سے بحال کرنے کا فیصلہ کرے گی۔ ایک جمہوری نظام میں حکومتیں اس طرح سے کام نہیں کرتی ہیں۔ ایسا کرنے سے پورا نظام ایک مذاق بن کر رہ جائے گا۔’’سید الطاف بخاری نے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا سے اس معاملے میں مداخلت کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس انسانی مسئلے، جس سے براہ راست یا بالواسطہ ہزاروں لوگوں کا روزگار جڑا ہوا ہے، پر ہمدردانہ رویہ اختیار کریں۔ انہوں نے لیفٹنٹ گورنر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ عوام کے وسیع تر مفاد میں متذکرہ فیصلے کو منسوخ کرنے کی ضرورت ہے۔










