رویت ہلال کمیٹی کا قیام اور شبانہ بس سروس نیک شگون:سنجے صراف

سری نگر//راشٹریہ لوک جن شکتی پارٹی کے قومی جنرل سیکریٹری سنجے صراف نے ماہ رمضان کی آمد پر لوگوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے انتظامیہ سے اس متبرک ماہ میں بجلی،پانی اور صفائی کے علاوہ اشیاء ضروریہ کی دستیابی پر زور دیا۔جے کے این ایس کے مطابق سرینگر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنجے صراف نے کہا کہ ماہ رمضان میںسحری اور افطار کے وقت معقول بجلی کی دستیابی کو یقینی بنایا جانا چاہے۔ صراف نے وقف بورڈ کی سربراہ ڈاکٹر درخشاں اندرابی کی جانب سے مستقبل میں مقامی رویت ہلال کمیٹی کی تشکیل کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل سے لوگوں میں ماہ رمضان اور عیدین کے بارے میں تذبذب دور ہوگا اور ان میں کھلبلی کا ماحول بھی نہیں رہے گا۔ صراف نے صوبائی کمشنر کشمیر کی جانب سے ماہ رمضان میں شبانہ بس سروس کے آغاز کو بھی نیک شگون قرار دیتے ہوئے اسکا خیر مقدم کیا۔ان کا کہنا تھا کہ اس بس سروس سے لوگ مساجدوں اور درگاہوں میں آسانی کے ساتھ پہنچ کر عبادت کر سکتے ہیں۔انہوں نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ بازاروں کو معائنہ بھی متواتر کرتے رہیں تاکہ اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ نہ کیا جائے۔ سنجے صراف نے نوراترا کے موقعہ پر بھی لوگوں کو مبارکباد پیش کی ہے۔راشٹریہ لوک جن شکتی پارٹی کے جنرل سیکریٹری نے انتظامیہ کی جانب سے سرکاری اراضی پر ناجائز قبضے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مندرون کی اراضی کو بحال کیا جانا چاہے۔ انہوں نے کہا کہ سال 1988-89میں ایک سرسری تخمینے کے مطابق مندروں کے پاس2ہزار کروڑ روپے کی اراضی تھی،تاہم وہ کہاں گئی یہ خود ایک سوال ہے۔صراف نے انتظامیہ اور لیفٹنٹ گورنر پر زور دیا کہ اس بات کی تحقیقات کی جائے کہ اس اراضی کو فروخت کرنے والے کون لوگ تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس اراضی کو بحال کرنے کی ضرورت ہے ،اور وہ مندروں کو واپس دی جانی چاہے۔انہوں نے مندروں کی دیکھ ریکھ کی ذمہ ادری بھی پنڈتوں کو سونپنے کا مطالبہ کیا۔ صراف نے گردوارہ پربندھک کمیٹیوں کی طرز پر مندر بل کو بھی پیش کرنے پر زور دیا۔جموں کشمیر میں روزگار میں اضافہ کرنے کیلئے’پی ایم ایف ای‘ اسکیم پر زور دیتے ہوئے صراف نے کہا کہ اس اسکیم سے نہ صرف نوجوانوں کو روزگار فراہم ہوگا بلکہ وہ دوسروں کو بھی روزگار فراہم کرسکتے ہیں۔ انہوں نے ڈیلی ویجروں اور دیگر روزانہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین کے حق میں بھی ٹھوس پالیسی اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نامسائد حالات کے دوران یہی ملازمین صف اول میں کام کرتے ہیں۔صراف نے مرکز کی جانب سے جموں کشمیر کیلئے پیش کئے گئے بجٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ تاہم اس کو زمینی سطح پر تصرف کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو اس کے فوائد حاصل ہو اور جموں کشمیر میں ترقی نظر آئے۔راشن کوٹے میں اضافے کی مانگ کا مطالبہ کرتے ہوئے صراف نے کہا کہ سابق مرکزی وزیر اور لوک جن شکتی پارٹی کے آنجہانی لیڈر رام ولاس پاسوان کا کہنا تھا کہ اگر ملک میں دو برس بھی فصل نہیں اگے گا تب وہ 135کروڑ لوگوں کو راشن سپلائی کرسکتے ہیں،تاہم جموں کشمیر میں راشن کوٹہ نہ ہونے کے برابر ہے،جس کے نتیجے میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے مرکزی سرکاری سے بھی اپیل کی کہ وہ اس فیصلے پر نظر ثانی کریں اور اس بات کو دیکھے کہ اگر گنجائش ہے تو جموں کشمیر میں راشن کوٹہ میں اضافہ کیا جائے۔ سنجے صراف نے شہر مکے بٹہ مالو علاقے میں پرانے بس اڈے کی واپسی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کو چاہے کہ لوگوں کے مجموعی مفاد میں جو ہو وہ فیصلہ کریں تاہم اس بات کا خیال بھی رکھا جائے کہ کسی کا روزگار متاثر نہ ہو۔اس موقعہ پر انہوں نے کہا کہ راشٹریہ لوک جن شکتی پارٹی کا منشور اور عوام دوست پالسیوں کے پیش نظر ہر روز اس میں آنے والے لوگوں میںاضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے پارٹی میں آئے نئے لوگوں اور کارکنوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان پر زور دیا کہ وہ عوام کی خدمات کو اپنا شعار بنائے۔انہوں نے کارکنوں سے تاکید کی کہ وہ پارٹی کا منشور گھر گھر پہنچائے۔ صراف نے کہا کہ انکی جماعت انتخابات کیلئے تیار ہے،اور کسی بھی انتخابی دنگل کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے۔انہوں نے کہا کہ آنے والے انتخابات میں راشٹریہ لوک جن شکتی پارٹی کم و بیش ہر ایک اسمبلی حلقے سے اپنے امیدواروں کو نامزد کرے گی۔