رمضان المبارک کے ایام متبرکات میں بھی بدستورگراں بازاری

لوگوں کیلئے باعث پریشانی ،مارکیٹ چیکنگ کو معمول بنانا سرکار کیلئے لازمی

سرینگر//رمضان المبارک کے ایام متبرکات میںمسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ انصاف کرنے کی ضرورت ہے لیکن ان ایام کو کئی مفاد پرست اور ناجائز منافع خور غنیمت سمجھ کر من مانی قیمتیں لگا کر عام اور سادہ لوح لوگوں کو لوٹنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتے ہیں ۔کشمیر پریس سروس کے موصولہ اطلاعات کے مطابق اشیائے خوردنی کے چیزوں ،سبزی اور میوہ جات میں دکانداروں نے من مانی قیمتیں لگا ئی ہیں جس سے عام اور مزدور طبقہ کے لوگ پریشان حال ہیں کیونکہ ان کی آمدنی خرچات سے بالکل کم ہوتی ہے ۔اس سے پہلے اگر چہ وہ کھانے پینے کی چیزوں میں اعتدال پر قیمتیں ہونے سے خرید کر اپنے اہل وعیال کو دو وقت کی روٹی فراہم کرسکتے تھے لیکن آج جب سبزی فی کلو40۔80روپے اور میوہ جات 100سے160روپے بشمول انگور،آم ،کیلے ۔سنترے پہنچ گئی ہے اور دیگر اجناس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کیا گیا ہے ۔ اس صورتحال میں غریب لوگ مشکل سے بھی اخراجات پورا نہیں کرسکتے ہیں اور اکثر لوگوں کی یہ شکایت ہے کہ حد یو یہ ہے کہ غیر رمضان میں جو میوہ 60۔40روپے کا فی کلو تھا اس میں فی کلو 20روپے کا اضافہ کیا گیا ہے اور آج مختلف چیزوں کی قیمتوں میں دو گنا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ مزدوری یا غیر سرکاری اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہیں یا تو جو ں کی تو ں ہیں یا تو اقتصادی بحران کے باعث کم کی گئی ہے ۔اب مسئلہ یہ ہے کہ عام لوگوں کی زندگی مہنگائی کے دوران مشکل ترین بن گئی ہے ۔ان حالات میں مارکیٹ چیکنگ کو معمول بنانے کی اشد ضرورت ہے اور اس دوران غیر قانونی خریدو فروخت کرنے والے دکانداروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے اور قیمتوں کو اعتدال پر لایا جاسکے اور سرکاری طورقیمتوں کو اعتدال پر لانے کیلئے سخت احکاما ت صادر کرنا لازمی بن گیا ۔تاکہ ان ایام متبرکات کے دوران ناجائز منافع خور لوگو ں کو لوٹنے سے باز آجائیں گے ۔