’’دیر آئے پر درست آئیں ‘‘ جہلم سانحہ کے بعد کشتیوں میں سفر کرنے والے مسافرو ں کیلئے حفاظتی اقدامات تیز

کشتیوں کی گنجائش سے زیادہ مسافروں کو لے جانے سے شکارا والوں کو گریز کرنے کی ہدایت دی گئی

سرینگر // دریائے جہلم میں ایک بڑے سانحہ کے بعد شکار ا والوں نے کشتیوں میں سفر کرنے والے مسافرو ں کیلئے حفاظتی اقدامات تیز کر دیں ہے جس کے چلتے کشتیوں میں سفر کرنے والے مسافروں کیلئے زندگی بچانے والے جیکٹس اور تمام ذرائع کا سیفٹی آڈٹ کرنے کی بھی ہدایت کی۔اس کے علاوہ شکارا چلانے والوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کشتیوں کی گنجائش سے زیادہ مسافروں کو لے جانے سے گریزکریں ۔ سی این آئی کے مطابق گنڈ بل سرینگر میں دریائے جہلم میں پیش آئے المناک واقعہ کے بعد شکارا ایسوسی ایشن نے کشتیوں میں سفر کرنے والے مسافروں کیلئے حفاظتی ایڈوائزری جاری کر دی ہے ۔ اس سلسلے میں ایڈوائزری میں کہا گیا کہ مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے حفاظتی اقدامات کو بڑھا دیا ہے۔اس سلسلے میں تمام آن بورڈ مسافروں کیلئے لازمی زندگی بچانے والی جیکٹس کیلئے ایک ایڈوائزری جاری کی۔ انہوں نے پانی کی نقل و حمل کے تمام ذرائع کا سیفٹی آڈٹ کرنے کی بھی ہدایت کی۔اس کے علاوہ، انہوں نے کشتی والوں کے ذریعہ کشتیوں کی گنجائش سے زیادہ مسافروں کو لے جانے پر پابندی عائد کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ شکار والا ایسوسی ایشن کے صدر ولی محمد بٹ نے کہا کہ انہوں نے مسافروں کیلئے حفاظتی اقدامات پہلے ہی اپنا لیے ہیں۔انہوں نے کہا ’’ہم ڈل جھیل میں حفاظتی پروٹوکول کی پیروی کر رہے ہیں۔ حکومت نے کچھ عرصہ قبل ہمیں لائف جیکٹس جاری کیں اور ہم مسافروں کو استعمال کے لیے دیتے رہے ہیں۔ کل، ہمیں صرف 200 اضافی لائف جیکٹس بھی ملی ہیں‘‘۔ بٹ نے کہا کہ وہ اپنے شکاروں کا سیفٹی آڈٹ بھی باقاعدگی سے کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہماری انجمن کسی بھی غیر محفوظ شکارہ کو سیاحوں یا مسافروں کو لے جانے کی اجازت نہیں دیتی ہے‘‘۔تاہم بٹ نے کہا کہ دریائے جہلم میں استعمال ہونے والی کشتیوں میں زیادہ تر مسافروں کیلئے ایسے حفاظتی سامان نہیں ہیں۔خیال رہے کہ گنڈ بل بٹوارہ علاقے میں دریائے جہلم میں اس وقت المناک سانحہ پیش آیا جب کشتی الٹ جانے کے نتیجے میںکئی کمسن طالب علموں سمیت چھ افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ باپ بیٹے سمیت ابھی تک تین افراد لاپتہ ہے جن کی تلاش جاری ہے ۔