دہی علاقوں میں کئی سرکاری محکموں کے منفی رویہ سے ،گرام سبھا افادیت کھو رہی ہے

ستورہ ترال میں منعقدہ گرام سبھا میں کل4محکموں کے ملازمین کی شرکت،عوام برہم

سری نگر//جہاں ایل جی سرکار دہی علاقوں میں تعمیر و ترقی کو یقینی بنانے اور مساوی ترقی کے لئے پنچائتی سطح پر گرام سبھا منعقد کرنے پر زور دے رہی اور لوگ ہر علاقے میں از خود تعمیراتی منصوبے تیار کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہر پنچایت کے ہر وارڑ میں مساوی ترقی ممکن ہوتی ہے۔ تاہمجنوبی کشمیر کے سب ضلع ترال میں چھ سرکاری محکموں کے منفی رویہ کی وجہ سے اب یہ گرام سبھا ئیں اپنی افادیت کھو رہے ہیں جس پر مقامی لوگوں نے شدید برہمی کا اظہار ہے ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق؎ ترال کے ستورہ علاقے میں پیر کے روز ایک گرام سبھا منعقد ہوئی جس میں مقامی لوگ اگر موجود تھے تاہم سرکار محکموں کے کل4محکموں کے ملازمین(نمائندے) اس میٹنگ موجود تھے جبکہ باقی محکوں کا کوئی اپتہ پتہ نہیں تھا ۔اس دوران بی ڈی او آری پل نے بتایا کہ تمام سبھی21محکموں کوپہلے ہی میٹنگ نوٹس فراہم کی گئی تاہم نا معلوم وجاہات کی بنا ء محکمہ دہی ترقی سمیت کل4محکوں جن میں دہی ترقی،محکمہ صحت،جنگلات اور پی ڈی ڈی محکمے کے ملازمین نے گرام سبھا میں شرکت کی ۔ جس پر مقامی لوگوں نے بھی برہمی کا اظہار کیا ہے جبکہ ڈی ڈی سی ممبر آری پل منظور احمد گنائی نے گرام سبھا کو مزاق بنانے پہر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر پلوامہ ڈاکٹر بشارت قیوم اور اے ڈی سی ترال کو مداخلت کی اپیل کی ہیے۔انہوں نے کہا اگر چہ لوگوںنے کام کے باجود اس میٹنگ میں شرکت کی ہے تاہم سرکاری محکموںنے اس میٹنگ کو اہمیت نہیں دی ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا جب ہم کسی وارڑ کو نظر انداز کر نے کے بارے میں شکایت کرتے تھے تو ہمیں یہی کہا جاتا ہے کہ آپ گرام سبھا میں شرکت نہیں کر تے ہیں انہوں نے کہا جب ہم نے شرکت کی تو محکمے کہاں ہے َانہوں نے کہا گزشتہ کئی سال سے پنچائتوں کی بدولت یہاں کام کاج ہوا ہے تاہم اس طرح کے غافل ملازمین کو جواب دہ بنانا وقت کی اہم ضروت ہے