دو روز ہ بین الاقوامی کانفرنس گورنمنٹ کالج برائے خواتین ایم اے روڈ سری نگر میں شروع

سری نگر//گورنمنٹ کالج برائے خواتین ایم اے روڈ سری نگر میں’’ کمپیوٹر سائنسز اور ٹیکنالوجی میں ترقی ‘‘ کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس شروع ہوئی جس میں آج ماہرین تعلیم اور مضامین کے ماہرین نے اِس شعبے میں حالیہ رجحانات پر غور و خوض کیا۔اِفتتاحی تقریب میں وائس چانسلر کلسٹر یونیورسٹی سری نگر پروفیسر ( ڈاکٹر ) قیوم حسین مہمانِ خصوصی تھے جبکہ نوڈل پرنسپل کشمیر پروفیسر خورشید احمد خان مہمانِ ذی وقارکی حیثیت سے موجودتھے۔وائس چانسلر پروفیسر قیوم حسین نے اَپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ کمپیوٹر اور اِس سے منسلک ٹیکنالوجیز نے ہمرای زندگی کے ہر شعبے میں اِنقلاب برپا کیا ہے ۔اُنہوں نے کہا ،’’ بذاتِ خود کمپیوٹر سائنس میں گذشتہ برسوں میں بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں جو اِس کانفرنس کو مزید اہم بناتی ہے ۔ مثال کے طور پر آرٹیفیشل اِنٹیلی جنس ایک بہت ہی دِلچسپ اور اہم شعبے کے طور پر اُبھری ہے جس نے مستقبل کے لئے اِمکانات کی راہیں ہموار کیں۔پروفیسر قیوم حسین نے کہا،’’کمپیوٹر سائنسز اور دیگر شعبوں کے میدان میں ہوانے والی پیش رفت کو مد نظر رکھتے ہوئے کلسٹر یونیورسٹی سری نگر نے یونیورسٹی کی دوسری اکیڈمک کونسل میٹنگ میں متعدد نئے کورسوں کو متعارف کرنے کی تجویز پیش کی جس میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس او رڈیٹا سائنس ماسٹرز / آنرز پروگرام ، گرافک ڈیزائننگ اور ویڑو لائزیشن میں آنرز پروگرام ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ ، بلاک چین مینجمنٹ ، کلائوڈ کمپیوٹنگ اور سائبر سیکورٹی میں ڈپلوما پروگراشامل ہیں۔‘‘ اُنہوں نے کہا ،’’ یہ کورسز نہ صرف صنعتی ضروریات اور متعلقہ شعبوں میں کی گی تکنیکی ترقی کو پورا کرتے ہیں بلکہ یہ قومی تعلیمی پالیسی ( این اِی پی ۔2020) کی عمل آوری کے مطابق بھی ہیں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ ہمیں آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے متعلق خدشات اور اخلاقی مخمصوں سے بھی آگاہ رہنا ہوگا۔کانفرنس کی لیڈ ٹاک سی اِی اواِنسٹگیٹ ڈاٹ اے آئی اور شریک بانی میکرو میڈیا یو ایس اے مارک کینٹرنے کی۔اُنہوں نے وائرل مارکیٹنگ کے تصور سے بین الاقوامی خدمات پیش کرنے کے لئے مختلف پس منظر کے پیشہ ور اَفراد کے ساتھ غیر مرکوزیت کمپیوٹنگ پر ایک دِلچسپ کیس سٹیڈی کا اِشتراک کیا۔ اُنہوں نے ’’ سائوس نیٹ‘‘ اور ’’ اِنسٹگیٹ ڈاٹ اے آئی کی مثالیں دیں۔میز بانی کالج کی پرنسپل پروفیسر ( ڈاکٹر ) روحی جان کنٹھ نے اَپنے اِستقبالیہ خطاب میں کہا،’’ہماری زندگی کے ہر پہلو کو چھونے والی ٹیکنالوجی سے اِنسانی ترقی اور ترقی کے بے مثال مواقع سامنے آرہے ہیں ۔دُنیا بھر میں کمپیوٹر سائنس اور اس سے منسلک شعبے ترقی اور خوشحالی کے کلیدی معاون ہیں۔اِس کانفرنس سے ہمارا مقصد اِنفارمیشن ٹیکنالوجی کی دُنیا میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں بہتر تفہیم پیدا کرنا ہے جس میں جدت اور تخلیقی صلاحیتیں اِ س اِرتقاء کو آگے بڑھا رہی ہیں۔سابق سربراہ شعبہ کمپیوٹر سائنسز بی ایچ یو پروفیسر ( ڈاکٹر ) پرومود کمار مشرا نے مکمل گفتگو کی۔اُنہوں نے میٹاورس ور لرننگ مشین کے بنیادی تصورات کے بارے میں بڑے پیمانے پر بات کی۔ اُنہوں نے ہندوستان کی پہلی میٹاورس ویڈینگ ریسپشن کی مثال بھی دی۔بھوپال کے پروفیسر اَکشے اگروال نے اَپنے کلیدی خطاب میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے ذریعے پیش کردہ نئے اِمکانات پر روشنی ڈالی ۔اُنہوں نے اے آئی کی طاقت اور اس کے مستقبل کے مضمرات پر ایک دِلچسپ پرزنٹیشن دی۔کانفرنس کے آرگنائزنگ سیکرٹری ڈاکٹر سمیر کول نے کانفرنس کی مناسبت کے بارے میں بات کی اور دو روزہ ایونٹ کے تکنیکی سیشن میں پھیلے ہوئے تھیم اور ذیلی تھیمز کا تعارف کیا۔اِس موقعہ پر میزبان اِدارے کا ’ کالج ٹائمز ‘ نیوز لیٹر بھی جاری کیا گیا ۔اِس موقعہ پر میزبان کالج کے فیکلٹی ممبران پروفیسر شیبا درابو ، پروفیسر ثانیہ شکیل اور ڈاکٹر رفعت اَمان کی تصنیف کردہ تین کتابوں کا بھی جاری کیا گیا۔ اِفتتاحی اجلاس میں ڈین اکیڈمک افیئر ز ، کلسٹر یونیورسٹی سری نگر پروفیسر مشتاق احمد لون اور رجسٹرار پروفیسر خورشید میر نے بھی شرکت کی۔پہلا تکنیکی سیشن ’’ مشین لرننگ اینڈ نیورل نیٹ ورکس ‘‘ کے تھیم پر مبنی تھا جس میں ڈین ریسرچ آئی یو ایس ٹی ڈاکٹر اے ایچ مون بطور چیئرپرسن تھے ۔اُنہوں نے سیشن کے لئے لیڈ ٹاک بھی دیا ۔دِن کا دوسرا تکنیکی سیشن ’’ اے آئی او ر مشین لرننگ‘‘ پر مبنتی تھا جس میں کنٹرولر اِمتحانات کشمری یونیورسٹی ڈاکٹر ماجد زمان بطور چیئرپرسن اور لیڈ سپیکر تھے۔اِفتتاحی سیشن کی نظامت ڈاکٹر ابینہ حبیب نے اَنجام دی جبکہ ڈاکٹر سہیل احمد رِپورٹر تھے۔ شکریہ کی تحریک ڈاکٹر بلال مقبول بیگ نے پیش کی۔