15دسمبر سے کسی بڑی موسمی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ، شبانہ سردیوں میں اضافہ ممکن
سرینگر // دن بھر کھلی دھوپ نکلنے کے بعد وادی اور جموں میں شدید سردی کی لہر جاری ہے جبکہ صوبائی دراس مسلسل سرد ترین علاقہ بنا ہوا ہے ۔شہر ٓافاق گلمرگ اور شوپیان میں بھی سوموار اور منگل کی رات رواں موسم کی سرد ترین رات ریکارڈ کی گئی جس دوران شبانہ درجہ حرارت منفی 3.5ڈگری کے قریب پہنچ گیا ہے ۔ ادھر محکمہ موسمیات نے 15دسمبر تک خشک موسم کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے دنوں میں موسم خوشک رہنے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں سردیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔سٹار نیوز نیٹ ورک کے مطابق وادی کشمیر اور صوبائی علاقے لہہہ اور کرگل میں سردی کی شدید لہر نے پوری وادی کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے اور یخ بستہ ہوائوں کی وجہ سے شدید سردی کی لہر جاری ہے ۔محکمہ موسمیات کے حکام نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وادی کے بیشتر مقامات پر شبانہ درجہ حرارت میں مزید کمی درج کی گئی ہے ۔ محکمہ کے مطابق درجہ حرارت میں کمی ہونے کے ساتھ ہی پوری وادی سخت ترین سردی کے لپیٹ میں آچکی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ وادی کے ساتھ ساتھ لداخ خطہ بھی شدید سردی کی لپیٹ میں ہے ۔ ترجمان نے بتایا کہ گزشتہ شب دراس میں درجہ حرارت منفی 11ڈگری سیلشیس ریکارڈ کیا گیا ۔ ترجمان کے مطابق جموں خطہ میں بھی درجہ حرارت میں کافی گرائوٹ آئی ہے ۔محکمہ موسمیا ت کے مطابق سرینگر میں ایک مرتبہ پھر رات کا درجہ حرارت منفی میں ریکارڈ کیا کیا اور شبانہ درجہ حرارت منفی 1.5ڈگری سیلشس درج کیا گیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پہلگام میں گزشتہ رات منفی 5.0 ڈگری سینٹی گریڈ کے مقابلے میں کم سے کم 1.5ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ گلمرگ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 3.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ۔ شدید ترین سردی کی وجہ سے مارکیٹوں اور بازاروں میں شہری آگ جلا کر سردی کے اثرات کو کم کرنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ سردی بڑھتے ہی گیس اور لکڑی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ لداخ اور لہیہ میں شدید سردی اور ناکافی سہولیات نے شہریوں کے معمولات زندگی کو شدید متاثر کیا ہے۔ ادھر محکمہ موسمیات نے وادی کشمیر میں موسم میں تبدیلی آنے کے امکانات نہیں ہے اور آنے والے دنوں میں موسم خوشک رہنے کا امکان ہے ۔۔ادھر شہر سرینگر سمیت وادی بھر میں سخت ترین ٹھنڈ جاری رہی اور دن کے وقت بھی لوگوں کو آنے جانے میں سخت پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا جبکہ رات کے وقت سردی کی شدت میں اضافہ ہونے کے بعد لوگ اضافی بسترے ، کمبل ، گرم ملبوسات اور روم ہیٹر و واٹر بوتل جیسی چیزیں خریدنے پر مجبور ہورہے ہیں اور متعلقہ دکاندار لوگوں کی مجبوری یا ضرورت کا خوب فائدہ اٹھارہے ہیں اور انہوں نے یکایک ان سبھی چیزوں کی قیمتوں میں من مانے طور اضافہ کر دیا ہے ۔










