دفعہ 370 ماضی کی بات ،ہمیں پیچھے نہیں جانا چاہئے / شاہ فیصل

’’ جہلم اور گنگا اچھے کیلئے عظیم بحر ہند میں ضم ،واپس جانے کی کوئی صورت نہیں ،صرف آگے بڑھنا ہے‘‘

سرینگر //عدالت عظمیٰ کے پانچ ججوں کی آئینی بنچ کے سامنے دفعہ 370 کی منسوخی سے متعلق درخواستوں کی کی طے شدہ سماعت سے کچھ دن پہلے آئی اے ایس افسر شاہ فیصل نے کہا کہ دفعہ 370 ماضی کی بات ہے اور ہمیں پیچھے نہیں جانا چاہئے ۔ سی این آئی کے مطابق جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن دفعہ 370کی منسوخی کو چیلنج کرنے والی ایک عرضی کی سپریم کورٹ میں جہاں کچھ دنوں بعد سماعت ہونی والی ہے اور اس سلسلے میں جموں کشمیر کے سیاست دان متحرک ہو گئے ہیں وہیں آئی اے ایس آفیسر اور سابق سیاستدان ڈاکٹر شاہ فیصل نے دفعہ 370کو ماضی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دفعہ 370کی واپسی نا ممکن ہے اور کشمیری عوام کو اس کے پیچھے نہیں جانا چاہئے ۔ سماجی وئب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے شاہ فیصل نے لکھا ’’دفعہ 370، میرے جیسے بہت سے کشمیریوں کیلئے ماضی کی بات ہے۔ جہلم اور گنگا اچھے کیلئے عظیم بحر ہند میں ضم ہو گئے ہیں۔ واپس جانے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ صرف آگے بڑھنا ہے‘‘۔ خیال رہے کہ شاہ فیصل کی ٹویٹ اس وقت سامنے آئی جب جموں کشمیر کی سیاسی جماعت عدالت عظمیٰ کے پانچ ججوں کی آئینی بنچ کے سامنے دفعہ 370 کی منسوخی سے متعلق عرضی کی سماعت کے اعلان کے بعد متحرک ہو چکی ہے ۔ سال 2010 بیچ کے انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (آئی اے ایس) کے آفیسر شاہ فیصل کو دفعہ 370 کی دفعات کو منسوخ کرنے اور اگست 2019 میں سابقہ ریاست جموں و کشمیر کو مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تقسیم کرنے کے بعد ایک سال سے زائد عرصے تک نظر بند رکھا گیا۔ انہوں نے جنوری 2019 میں جموں کشمیر پیپلز موومنٹ کا آغاز کیا، جو ایک سیاسی ادارہ تھا ۔ تاہم، حکومت نے ان کا استعفیٰ قبول نہیں کیا اور فیصل، جو ایک ڈاکٹر بھی ہیں، کو بعد ازاں مرکزی وزارت ثقافت میں تعینات کر دیا گیا۔فیصل نے 2019 میں سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی، جس میں دفعہ 370 کو ختم کرنے کے مرکز کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا۔ اپریل 2022 میں، حکومت نے ملازمت سے استعفیٰ واپس لینے کیلئے فیصل کی درخواست کو قبول کر لیا اور انہیں بحال کر دیا۔ اسی مہینے، فیصل نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی کہ اس کا نام ان سات درخواست گزاروں کی فہرست سے حذف کیا جائے جنہوں نے دفعہ 370 کو ختم کرنے کو چیلنج کیا تھا۔