370

دفعہ 370کی منسوخی کے بعد مرکزی قوانین کی توسیع نے جموں و کشمیر میں مساوی معاشرہ قائم کیا

سرینگر//جموں و کشمیر پر لاگو 890 مرکزی قوانین کی توسیع ، 205 ریاستی قوانین کی منسوخی اور دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد 129 قوانین میں ترمیم کے ساتھ جموں و کشمیر میں تمام طبقات کیلئے مساوی انصاف کا نظام قائم کیا گیا ہے ۔کمزور طبقات جیسے درج فہرست قبائل ، دوسرے روائتی جنگل میں رہنے والوں ، درج فہرست ذاتوں اور صفائی ملازمین کے حقوق کو اب متعلقہ ایکٹ کے اطلاق سے یقینی بنایا گیا ہے ۔ اب بچوں اور بزرگ شہریوں کے حقوق کو یقینی بنایا جا رہا ہے ۔ ایک منصفانہ اور مساوی سماج کی تشکیل کیلئے ریزرویشن کے قوانین میں ترمیم کی گئی ہے تا کہ پہاڑی بولنے والے افراد اور معاشی طور پر کمزور طبقات جیسے چھوڑے ہوئے زمروں کو ریزرویشن کے فوائد مل سکیں ۔ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے جموں و کشمیر کیلئے 2021-22 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا ’’ او بی سی ریزرویشن کے فوائد کو 2 فیصد سے بڑھا کر 4 فیصد کیا گیا ہے اور آمدنی کی حد 4.50 لاکھ روپے سے بڑھا کر 8 لاکھ روپے کر دی گئی ہے ‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ معاشرے کے وہ طبقے جن کے ساتھ کئی برسوں سے امتیازی سلوک کیا جاتا رہا ہے جیسے کہ پی او جے کے اور چھمب کے بے گھر افراد ، مغربی پاکستانی مہاجرین اور سرحدی علاقوں کے رہائشیوں کو مختلف اسکیموں کے تحت فائدہ پہنچایا گیا ہے ۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری تارکین وطن پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے ۔ پہلی بار جموں و کشمیر کے ڈومیسائل کے شریک حیات کو بھی ڈومیسائل تصور کیا جائے گا ۔ اس سے پہلے مستقل رہائشی کارڈ ہولڈرز کے شریک حیات کو برابر سمجھا جاتا تھا لیکن انہیں ڈومیسائل نہیں سمجھا جاتا تھا ۔ جموں و کشمیر میں دس سال سے زیادہ تعینات مرکزی حکومت کے اہلکاروں کے بچوں کو بھی ڈومیسائل تصور کیا جائے گا ۔ دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد متعدد مرکزی قانون سازی کا نفاذ ، جیسے درج فہرست قبائل اور دیگر روائتی جنگلات کے باشندوں ( جنگلات کے حقوق کی شناخت ) ایکٹ 2007 ، درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل ( مظالم کی روک تھام ، ایکٹ 195 کے درمیان ) دیگر جموں و کشمیر میں ترقی اور خوشحالی کا ایک نیا دور لا رہا ہے ۔ جنگلات کے حقوق ایکٹ 2006 ہندوستان کی دیگر ریاستوں میں اس کے وجود کے 14 سال بعد جموں و کشمیر میں لاگو کیا گیا تھا ۔ یو ٹی حکومت کی خصوصی توجہ پر متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کی طرف سے کمیونٹی کلیمز اور انفرادی دعوے کا تصفیہ کیا جا رہا ہے ۔
قبائلیوں کیلئے تعلیم
جموں و کشمیر کے لفٹینٹ گورنر منوج سنہا نے کہا ’’ 14 سال سے زیادہ انتظار کے بعد ہمارے ملک کے آئین اور پارلیمنٹ کی رہنمائی کے مطابق سماجی مساوات اور ہم آہنگی کی بنیادی روح کو ذہن میں رکھتے ہوئے جنگلات کے حقوق ایکٹ 2006 کو لاگو کر کے قبائلی برادری کو مناسب حقوق عطا کئے گئے ہیں ‘‘ ۔ لفٹینٹ گورنر ، جو قبائلی ترقی میں ذاتی دلچسپی لے رہے ہیں ، نے حال ہی میں جموں و کشمیر میں قبائلی برادریوں کے لئے سمارٹ اسکول پروجیکٹ کا آغاز کیا ۔ اس منصوبے کے تحت قبائلی علاقوں میں 200 اسکولوں کی جدید کاری 2022 میں مکمل کی جائے گی ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جموں و کشمیر میں کئی سالوں سے معاشرے کے غریب اور کمزور طبقات کو نظر انداز کیا گیا لیکن 5 اگست 2019 کے تاریخی دن آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 31 اے کو ختم کر دیا گیا اور جموں و کشمیر کے شہریوں کو تمام آئینی حقوق دئیے گئے ۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا ’’ جموں و کشمیر میں ہم نے اگست 2019 کے بعد ترقی کی ایک نئی راہ تیار کی ہے ۔ کئی دہائیوں سے مرکز کی طرف سے بھاری رقم بھیجنے کے باوجود بنیادی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا ۔ جموں و کشمیر میں سات دہائیوں کے غیر ترقیاتی ایجنڈے نے یو ٹی کو کم ترقی کے سنڈروم میں مبتلاء کر دیا ۔ عزت مآب وزیر اعظم کی رہنمائی میں جموں و کشمیر ایک نئی صبح کا مشاہدہ کر رہا ہے ۔ قبائلیوں کو زمین کے حقوق مل رہے ہیں ، مکمل شفافیت کے ساتھ ریکارڈ وقت کے اندر 11000 سرکاری نوکریاں فراہم کی گئی ہیں اور خواتین ، پسماندہ اور کمزور گرپوں کو بااختیار بنانے کیلئے بڑے قدم اٹھائے گئے ہیں ‘‘۔ براہ راست بھرتیوں میں مختلف زمروں کے ریزرویشن کے فیصد کو معقول بنانے کے بعد پسماندہ علاقوں کے رہائشیوں کو اب 10 فیصد ، پہاڑی بولنے والوں کو 4 فیصد اور اقتصادی طور پر کمزور طبقوں کو 10 فیصد ریزرویشن ملے گا ۔ جموں و کشمیر حکومت نے سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ طبقات کو ایک بڑی راحت دیتے ہوئے جموں و کشمیر ریزرویشن ایکٹ 2004 کی دفعات کے مطابق ریزرویشن کے فوائد حاصل کرنے کیلئے ان کیلئے آمدنی کی حد بھی 4.50 لاکھ روپے سے بڑھا کر 8 لاکھ روپے کر دی ہے ۔ ایکٹ کی دفعات کے مطابق ملازمتوں میں ریزرویشن اور پیشہ وارانہ اداروں میں داخلوں کے علاوہ سماجی اور تعلیمی لحاظ سے پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کو کمزور اور پسماندہ طبقات ( سماجی ذات ) ، اصل کنٹرول لائن سے ملحقہ علاقوں کے رہائشیوں اور پسماندہ علاقوں کے رہائشی تا ہم اس ریزرویشن سے فائدہ اٹھانے کیلئے ایک انکم بار /سیلنگ موجود ہے ۔ ایکٹ میں آمدنی کی حد متعین کرنے کا مقصد ایسے افراد کو روکنا ہے جو پسماندگی کی حد کو عبور کر چکے ہیں یا اسے پار کر چکے ہیں جنہیں عام طور پر ’ کریمی لئیر ‘ کہا جاتا ہے ، سماجی اور تعلیمی طور پر پسماندہ طبقات کے زمرے کے تحت ریزرویشن کے فوائد حاصل کرنے سے روکنا ہے ۔