بی جے پی کے آتے ہی یونیفارم سیول کوڈ نافذ کردیاجائے گا۔ وزیر داخلہ امت شاہ
سرینگر///وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ جموں کشمیر میں دفعہ 370کے خاتمہ کے بعد خطے میں نہ صرف امن و قانون کی بالادستی قائم ہوئی ہے بلکہ وہاں تعمیر وترقی اور خوشحالی کا ایک نیادور شروع ہوا جبکہ کانگریس نے آرٹیکل 370کو آنچل میں چھپایا تھا۔ کشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ کانگریس نے اسے 70 سال تک بچے کی طرح پالا، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی نے اسے ہٹا دیا۔وائس آف انڈیا کے مطابق مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے آج کانگریس کو اس کے منشور پر آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ کانگریس ملک میں مسلم پرسنل لا لانا چاہتی ہے، جب کہ بھارتیہ جنتا پارٹی یکساں سول کوڈ (یو سی سی) لانا چاہتی ہے اور اگر حکومت بنتی ہے تو پورے ملک میں یو سی سی نافذ کیا جائے گا۔شاہ گونا پارلیمانی حلقہ سے لوک سبھا امیدوار جیوتی رادتیہ سندھیا کی حمایت میں اشوک نگر ضلع کے منگاولی کے پپرائی گاؤں میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کر رہے تھے۔ اس دوران وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو بھی موجود تھے۔کشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹائے جانے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ کانگریس نے اسے 70 سال تک بچے کی طرح پالا، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی نے اسے ہٹا دیا۔ کانگریس نے خبردار کیا کہ اگر آرٹیکل 370 کو ہٹایا گیا تو خون کی ندیاں بہیں گی، لیکن حکومت اپنے عزم سے پیچھے نہیں ہٹی۔ وزیر اعظم نے ملک کو دہشت گردی اور نکسل ازم سے نجات دلائی۔وزیر داخلہ نے کہا کہ اس آرٹیکل کے ہٹنے سے جموں کشمیر میں نہ صرف امن و سلامتی میں بہتری آئی بلکہ تعمیر و ترقی کا نیا دور شروع ہوا اور لوگوں میں خوشحالی آئی ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو شری رام مندر کی پران پرتشٹھا میں جانے کی فرصت نہیں ملی۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کو دعوت نامہ ملا وہ پوری کابینہ کے ساتھ وہاں پہنچے۔اس سلسلے میں انہوں نے کہا کہ کانگریس کے منشور کو غور سے پڑھیں، وہ پرسنل لاء کو دوبارہ نافذ کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ وہ مسلم پرسنل لا لانا چاہتے ہیں۔ کیا یہ ملک شریعت پر چل سکتا ہے؟ وہ تین طلاق کو واپس لانا چاہتے ہیں۔ راہول گاندھی خوشامد کرنے کے لیے جو چاہیں کریں، جب تک بی جے پی ہے، ہم اس پرسنل لاء کو نہیں آنے دیں گے۔ یہ ملک یو سی سی کے ذریعے چلنے والا ہے۔ ہمارا وعدہ ہے کہ ہم یو سی سی کو پورے ملک میں نافذ کریں گے۔ یہ مودی کی گارنٹی ہے۔










