سری نگر//جموں و کشمیر میں دریائے چناب پر دنیا کا سب سے اُونچا ریلوے پل جلد ہی ریل ٹریفک کیلئے کھول دیاجائیگا۔دنیا کا یہ سب سے اونچا ریلوے پل دریائے چناب پر دریا سے359 میٹر (1178 فٹ) کی بلندی پر پھیلا ہوا ہے، جو پیرس کے ایفل ٹاور سے 35 میٹر اونچا ہے۔جے کے این ایس کو ملی تفصیلات کے مطابق جموں اور کشمیر کے ریاسی ضلع میں بکل اور کوری کے درمیان آرچ پل دریا کے کنارے سے 1178 فٹ اوپر ہے، جو کٹرا سے بانہال تک ایک اہم رابطہ بناتا ہے۔ یہ ادھم پور-سری نگر-بارہمولہ ریلوے لنک کا حصہ ہے، جو کہ 35ہزار کروڑ روپے کا ایک ڈریم پروجیکٹ ہے۔دنیا کے اس سب سے اونچے پل کے حوالے سے تمام لازمی امتحانات یعنی ٹیسٹ مکمل کئے گئے ہیں،اور چناب ریلوے پل اس وقت تکمیل کے قریب ہے کیونکہ موجودہ حکومت اس منصوبے پر خصوصی توجہ دی تھی۔جموں و کشمیر کے لوگوں کو2 دہائیوں کے انتظار کے بعد پل ملے گا جب سے 2003 میں اس منصوبے کی منظوری دی گئی تھی لیکن استحکام اور حفاظت کے خدشات کی وجہ سے اس میں تاخیر ہوئی تھی۔ سال2008 میں ریلوے کے بلند ترین پلوں میں سے ایک کی تعمیر کا اسوقت کی حکومت کی جانب سے ٹھیکہ دیا گیا تھا۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پل کی تعمیر کا کام دوبارہ شروع کر دیا گیا تاہم اس کی کئی ڈیڈ لائنیں ختم ہو گئیں۔لیکن پل کاکام مکمل نہیں ہوسکا۔اپنے حالیہ دورے کے دوران ریلوے، مواصلات اور الیکٹرانک اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے کہا ہے کہ چناب ریلوے پل پر تمام ٹیسٹ کئے گئے ہیں اور کامیاب رہے ہیں۔حکام نے بتایاکہ دنیا کے سب سے اونچے پل کے استحکام اور حفاظت کو جانچنے کے لئے جو ٹیسٹ کئے گئے ہیں، اُن میں تیز رفتار ہواؤں کا ٹیسٹ، انتہائی درجہ حرارت کا ٹیسٹ، زلزلے کے خطرے کا ٹیسٹ اور پانی کی سطح میں اضافے کی وجہ سے ہائیڈروولوجیکل اثرات شامل ہیں۔ ریلوے پل کام کے لیے تیار ہے۔ حکام نے بتایا کہ چناب پل کے اوپر ٹریک لین کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ریلوے، مواصلات اور الیکٹرانک اور انفارمیشن ٹکنالوجی کے مرکزی وزیر، جنہوں نے پل کا معائنہ کرنے کے لیے دورہ کیا، کہا ہے کہ کل دو مزید ٹیسٹ کیے جائیں گے، جن میں پل پر موٹر ٹرالی اور بولیرو حسب ضرورت ریل آپریشن شامل ہے۔اسٹیل اور کنکریٹ کے آرچ پل کی بنیاد، ریاسی شہر سے42 کلومیٹر دور، نومبر2017 میں مکمل ہوئی تھی، جس سے مرکزی محراب کی تعمیر شروع کی گئی تھی جو اپریل 2021 میں کی گئی تھی۔ پل پر سنگ میل گزشتہ اگست میں حاصل کیا گیا تھا۔ وہ سال جب پل کا اوورارک ڈیک گولڈن جوائنٹ کے ساتھ مکمل کیا گیا تھا، جس سے پٹری بچھانے کی راہ ہموار ہوئی تھی۔حکام کے مطابق، پل پر تعمیراتی کام 2004 میں شروع ہوا تھا لیکن اس علاقے میں اکثر تیز رفتار ہواؤں کے پیش نظر ریل مسافروں کی حفاظت کے پہلو پر غور کرنے کیلئے اسے2008-09میں روکنا پڑا تھا۔حکام نے کہا کہ ایک بار مکمل ہونے کے بعد یہ پل 260 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں کو برداشت کر سکے گا اور اس کی عمر 120 سال ہو گی۔ سب سے اونچے ریلوے پل کے علاوہ، یو ایس بی آر ایل پراجیکٹ میں بہت سے پہلے کام ہیں جیسے سب سے طویل ریلوے سرنگ جس کی مجموعی لمبائی 12.75 کلومیٹر ہے، پہلا کیبل اسٹیڈ پل جو مکمل ہونے پر 21ویں صدی کا انجینئرنگ کا معجزہ ہوگا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران، انجینئرز چناب کے دونوں کناروں پر نصب2بڑے کیبل کرینوں کی مدد سے محراب کی تعمیر کر رہے ہیں۔










