Vidhi Kumar Bardi

دریائے جہلم میں ماہر خوطہ خوروں کی خدمات حاصل کرلی گئی ہے

لاپتہ افراد کی لاشیں نکالنے کیلئے ہر ممکنہ جگہ پر تلاش جاری ہے ۔ آئی جی پی کشمیر

سرینگر///گنڈ بل بٹوارہ میں منگل کے روز پیش آئے حادثے جس میں پانی میں ڈوب کر 6افراد لقمہ اجل بن گئے اور تین ابھی بھی لاپتہ ہے کے بارے میں انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر وی کے بردی نے بدھ کے روز کہا ہے کہ گمشدہ افراد کی لاشیں پانی سے نکالنے کیلئے آپریشن جاری ہے اور تمام متعلقہ پولیس سٹیشنوں کو دریائے جہلم میں نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ ماہر خوطہ خوری کی خدمات بھی حاصل کرلی گئیں ہیں جو دریائے جہلم کے بائو اور لاشوں کے پھنسے رہنے کی ممکنہ جگہوں پر تلاش کررہے ہیں ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر وی کے بردی نے بدھ کو کہا کہ دریائے جہلم سے تین لاپتہ افراد کا سراغ لگانے کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ انہوں نے دریائے جہلم کے کنارے تمام پولیس اسٹیشنوں کو لاشوں پر نظر رکھنے کے لیے الرٹ کردیا ہے۔انہوں نے یہاں نامہ نگاروں کو بتایاکہ ‘‘ریسکیو آپریشن رات کو جاری رہا اور صبح دوبارہ شروع ہوا۔ ہمیں ابھی تک لاشیں نہیں ملی ہیں۔پولیس افسر نے مزید کہا کہ منگل کو سرینگر کے گنڈبل میں چار نابالغ طلبا سمیت 15 افراد کو لے جانے والی کشتی الٹ گئی جس کے نتیجے میں چھ افراد ہلاک ہو گئے جبکہ تین لاپتہ ہیں۔ باقی کو بچا لیا گیا۔بردی نے کہا کہ خصوصی غوطہ خور جو لاپتہ افراد کی تلاش کر رہے ہیں وہ ان مقامات پر تلاش کر رہے ہیں جہاں لاپتہ افراد کے ہونے کا زیادہ امکان ہے۔خصوصی غوطہ خوروں کی پانی اور پانی کے دھاروں کی اپنی سمجھ ہے اور وہ اس جگہ تلاش کر رہے ہیں جہاں زیادہ امکان ہے۔ وہ لاشوں کی تلاش کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ ہم نے لاشوں کی تلاش کے لیے جہلم کے ساتھ تمام تھانوں کو الرٹ کر دیا ہے۔