پہاڑی بستی لنگ کھل نندی مرگ کی مہرعزیز نے کیاNEET(ug)2023پاس
کولگام//ابھی وہ 7ماہ کی ہی تھی کہ ماں اور شیرِ مادر (ماں کادُودھ)سے محروم ہوگئی ،پھر شفیق باپ کی گودمیں پلی بڑی ۔باپ کسی جگہ محنت مزدوری کرنے جاتاتو اپنی اس معصوم بیٹی کو کاندھے پر اُٹھا کر ساتھ لے جاتا۔پانچ چھ سال کی ہوئی تو غریب مگر محنتی باپ نے اسکول میں داخل کرادیا۔خود اسکول لے جاتا،اورپھروہاں سے گھر لاتا۔گھرکیاتھا،مٹی اور لکڑی سے بنا ایک کوٹھاتھا،جس میں یہ دونوں باپ بیٹی رہاکرتے تھے ۔جے کے این ایس کے مطابق یہ دمہال ہانجی پورہ سے تقریباًپانچ سے چھ کلو دور واقع ایک پہاڑی بستی لنگ کھل نندی مرگ کی رہنے والی کشمیرکی اُس فخریہ بیٹی کی سبق آموز کہانی ہے ،جس کانام 13جون2023کو ظاہر کئے گئے NEET(ug)2023کے نتائج میں 571نمبرات کیساتھ لکھا ہے،اور جو ڈاکٹری یعنیMBBSکی پڑھائی یاکورس کیلئے منتخب ہوئی ہے ۔ہم مہر عزیز دختر عبدالعزیز شیخ کی بات کررہے ہیں ،جس نے نیٹ 2023کے امتحان میں کل720میں سے571نمبرات یا پوئنٹس حاصل کئے ہیں ،اوراب وہ انشاء اللہ ایم بی بی ایس کاکورس مکمل کرکے لیڈی ڈاکٹر بن جائے گی ۔مہر عزیزکے باپ نے محنت مشقت کرکے اپنی بیٹی کوپڑھایا،اورآج اس محنتی باپ کی محنت اورقربانی رنگ لائی ہے ،آج پورا گائوں خوشی سے سرشار ہے ،آج اس بستی کے سبھی لوگ اس بیٹی پر فخر کرتے ہیں ،اوراپنے بچوں کو مہرعزیزکی مثال دیکر زندگی میں کچھ کر گزرنے کاحوصلہ وہمت دیتے ہیں ۔گائوں والے کہتے ہیں کہ پہلے یہ باپ بیٹی ایک کوٹھا نما مکان میں رہتے تھے ،پھراس غریب باپ نے سخت محنت ومشقت کرکے اپنی بیٹی کیلئے ایک مکان تعمیر کیا۔مہر عزیز نے کہاکہ مجھے بچپن سے ہی پڑھنے اورکچھ بننے کاشوق تھا ،اسلئے میں زیادہ تروقت کتابوں کیساتھ ہی رہاکرتی تھی ۔اس فخریہ بیٹی نے بتایاکہ ہمارے گھرمیں بجلی کنکشن نہیں تھا ،اور میں شمع یالالٹین کی روشنی میں پڑھا کرتی تھی ۔ابتدائی تعلیم دمہال ہانجی پورہ میں واقع ایک نجی اسکول سے حاصل کی ،پھر 9اور10ویں جماعت کی تعلیم حاجی عالم الدین پبلک اسکول دمہال ہانجی پورہ سے پائی ۔پھر 11ویں جماعت کیلئے گورنمنٹ گرلز ہائر اسکینڈری اسکول دمہال ہانجی پورہ میں داخلہ لیا ،اور یہاں کی طالبہ کے بطور 12ویں جماعت کاامتحان بھی دیا ۔اچھے نمبرات کیساتھ امتحان پاس کیا تو حوصلہ بڑھا ،اور پھرNEET(UG)2023کیلئے تیاری شروع کردی ۔رات دن زیادہ تروقت پڑھائی میں ہی گزراکرتاتھا،اور بیچ میں وقت نکال کر اپنے اور باباکیلئے کھاناپکایاکرتی تھی ۔ ایک ہمسایے نے کہاکہ ہمیں مہر پر فخر ہے ،کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اس بیٹی نے کتنی محنت کی ،اور اپنے باپ کا ہی نہیں بلکہ ہماری اس بستی کانام بھی روشن کیا۔انہوںنے بتایاکہ ان کے گھرمیں بجلی نہیں تھی ،کیونکہ عبداعزیز شیخ کی اتنی کمائی نہیں تھی کہ وہ بجلی فیس اداکرپاتا،اسلئے مہر شمع اورلالٹین کی روشنی میں ہی پڑھائی کیاکرتی تھی ۔سر پرڈوپٹا اوڑھے مہر عزیز نے کہاکہ مجھے خود سے زیادہ اپنے بابا پر فخر ہے ،جنہوںنے میرے لئے بار بار قربانی دی ،باربار اورہمیشہ سخت محنت مشقت کی ،اور میری تعلیمی ضرورتوںکو ہرحال میں پورا کرتے رہے ۔کشمیرکی اس بیٹی نے کہاکہ تعلیم کا میدان ہویاکہ کوئی اور میدان ،صرف دولت یا کوچنگ سے مقصدحاصل نہیں کیا جاسکتا ہے ،بلکہ منزل تک پہنچنے کیلئے محنت اور لگن کی ضرورت ہوتی ہے ۔انہوںنے کہاکہ کسی بھی امتحان میں ناکامی سے مایوس ہونے کے بجائے توجہ اپنے مقصد اوراپنی منزل پرہی ہونی چاہئے ۔










