Potential storm hazards from glaciers and ice sheets in Jammu and Kashmir

خطہ پیر پنچال میں 122گلیشیروں کا وجود ختم ہونے کے قریب ،سیلابی خطرہ بھی بڑھ چکا ہے

گلیشیروں کے تیزی اور کافی پگھلنے سے برفانی جھیلوں کے سیلاب کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے/موسمی ماہرین کا انکشاف

سرینگر // موسمی صورتحال میں تبدیلی کے چلتے اس بات کا انکشاف ہو گیا ہے کہ خطہ پیر پنچال میں 122گلیشیروں کا وجود ختم ہونے کے قریب ہے جس کے نتیجے میں سیلابی خطرہ بھی بڑھ چکا ہے ۔ ادھر ماہرین نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ گلیشیروں کو بچانے کیلئے اقداما ت نہ اٹھائیں گئے تو مستقل قریب میں اس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے ۔ سی این آئی کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے نقصانات پر کی گئی ایک تحقیق میں چونکا دینے والی معلومات سامنے آئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پیر پنجال میں 122 گلیشیر سکڑ رہے ہیں، جس سے برفانی جھیل کے ممکنہ سیلاب کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔محققین نے اس سلسلے میں پیر پنجال میں 122 گلیشیروں کی نشاندہی کی ہے، جن کے حجم میں 1980 سے بڑی حد تک کمی آئی ہے۔ تقریباً 25.7 مربع کلومیٹر کے رقبے پر محیط گلیشیرکم ہو کر صرف 15.9 مربع کلومیٹر رہ گئے ہیں۔یہ انکشاف نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سرینگر کے محققین کی طرف سے کی گئی ایک تحقیق سے ہوا ہے جس کی قیادت محمد اشرف گنائی اور سید قیصر بخاری کر رہے ہیں۔ یہ نتائج انٹرنیشنل جرنل آف ہائیڈرولوجی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں شائع ہوئے ہیں۔اس میں انکشاف ہو گیا ہے کہ سال 1980 سے سال 2020 تک چار دہائیوں پر محیط ڈیٹا کا تجزیہ کرکے کہا گیا کہ خطہ پیر پنچال میں 122گلیشیروں کا وجود ختم ہونے کے قریب ہے ۔ اس میں کہا گیا کہ جنوب کی طرف گلیشیروں نے شمال کی طرف منہ کرنے والوں کے مقابلے میں زیادہ نمایاں پگھلنے کا تجربہ کیا ہے۔ مزید اس کے سطح سمندر سے اوسطاً 3,800-4,000 میٹر کی بلندی پر واقع گلیشیروں نے نچلی بلندیوں کے مقابلے میں زیادہ واضح پگھلنے کی نمائش کی ہے۔انہوں نے کہا کہ گلیشیروں میں کمی سے پانی کی کمی کا خطرہ ہے، جس سے زرعی پیداوار اور روزمرہ کی زندگی متاثر ہو رہی ہے۔گلیشیروں کے تیزی سے اور کافی پگھلنے سے برفانی جھیلوں کے سیلاب کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے، جو ماحولیاتی نظام کو متاثر کر سکتا ہے اور اہم خطرات لاحق ہو سکتا ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے موسمی صورتحال میں غیر متوقع تبدیلی کی وجہ سے اس کے اثرات اب پانی کے ذخائیر اور دیگر چیزوں پر بھی پڑھ رہے ہیں ۔