حکومت کاشت کاروںکی پیداواری صلاحیت ، دیرپایت اور آمدنی کو بہتر بنانے پرتوجہ مرکوز کر رہی ہے ۔ ۔ جاوید احمد ڈار

حکومت کاشت کاروںکی پیداواری صلاحیت ، دیرپایت اور آمدنی کو بہتر بنانے پرتوجہ مرکوز کر رہی ہے ۔ ۔ جاوید احمد ڈار

جموں//وزیر برائے زراعت جاوید احمد ڈار نے کہا کہ حکومت جموں و کشمیر میں زراعت کی جدید کاری پر توجہ مرکوز کر رہی ہے تاکہ کسانوں کی پیداواری صلاحیت،دیرپایت اور آمدنی کو بہتر بنایا جا سکے۔وزیر موصوف ایوان میں آج رُکن اسمبلی رنبیر سنگھ کے ایک سوال کا جواب دے رہے تھے۔اُنہوں نے ایوان کو بتایا کہ جموں و کشمیر میں زرعی شعبے کو جدید بنانے کے لئے کئی کلیدی اَقدامات اُٹھائے گئے ہیں جن میں جدید ٹیکنالوجی کا تعارف، فصلوں کی تنوع کاری، سوئیل ہیلتھ مینجمنٹ ، اِنٹگریٹیڈ پیسٹ مینجمنٹ ( آئی پی ایم)، مالی معاونت اور سبسڈی، تحقیق و ترقی، تربیت اور صلاحیت سازی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، مارکیٹ سے جوڑنے کے اقدامات اور زرعی صنعتوں کے فروغ جیسے اَقدامات شامل ہیں۔وزیر موصوف نے مزید کہاکہ زرعی شعبے میں بے روزگار نوجوانوں کو مالی اِمداد فراہم کرنے کے لئے حکومت کی جانب سے سود میں سبوینشن اور کریڈ ٹ لنکڈ سکیموں کے تحت مختلف سکیمیں شروع کی گئی ہیں جن میں کے سی سی، اے آئی ایف، اے ایچ آئی ڈِی ایف، پی ایم ایف ایم اِی اور این ایل ایم شامل ہیں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ جامع زرعی ترقیاتی پروگرام (ایچ اے ڈِی پی) کے تحت کسٹم ہائرنگ سینٹرز، ہائی ٹیک پولی گرین ہاؤسز، کنٹرولڈ کرپنگ مشروم یونٹ، پاسچرائزڈ کمپوسٹ یونٹ کا قیام، مگس بانی ، کے کے جی، ملیٹ یسٹورنٹس کا قیام، جوار ملز کا قیام، منی سوائل ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کا قیام، سیڈ پروسسنگ یونٹوں کا قیام، ڈیری ڈیولپمنٹ پروجیکٹس، مٹن کی پیداوار میں خود کفالت، پولٹری ڈیولپمنٹ پروجیکٹ، فش سیڈ اور ٹراؤٹ کی پیداوار، چارے کی پیداوار شامل ہیں۔وزیر زراعت نے کہا کہ اسی طرح زرعی شعبے میں مرکزی معاونت والی سکیموںکے تحت راشٹریہ کرشی وِکاس یوجنا (آر کے وی وائی)، سوئیل ہیلتھ کارڈ، زرعی میکانائزیشن پر ذیلی مشن (ایس ایم اے ایم)، فی ڈراپ موور کراپ سکیم، رین فیڈ ائیریا ڈیولپمنٹ (آر اے ڈی)، پرم پراگت کرشی وکاس یوجنا (پی کے وی وائی)، زرعی جنگلات پر ذیلی مشن (ایس ایم اے ای)، زرعی توسیع پر ذیلی مشن (ایس ایم اے ای)، نیشنل فوڈ سیکورٹی مشن (این ایف ایس ایم) ، خوردنی تیل سے متعلق قومی مشن (این ایم ای او)، بیج اور پودے لگانے کے مواد پر ذیلی مشن (ایس ایم ایس پی) شامل ہیں۔اُنہوں نے بتایا کہ 4.14 لاکھ ہیکٹر زرعی زمین کو کاشت کے قابل بنایا گیا ہے جس میں سے 1.91 لاکھ ہیکٹر پہلے ہی کور ہو چکا ہے جب کہ 0.33 لاکھ ہیکٹر کو نئے پروجیکٹوں کے تحت شامل کیا جا رہا ہے تاکہ کاشتکاروں کو درپیش آبپاشی کے چیلنجوں پر قابو پانے میں سہولیت فراہم کی جاسکے۔وزیرنے مزید کہا کہ اِس وقت 18 آبپاشی کے منصوبے نبارڈ کی مالی مدد سے عملائے جارہے ہیں اور جموںوکشمیر میں11,678 ہیکٹرزمین کو سیراب کرنے کے لئے آر آئی ڈِی ایف کے تحت 4,883.54 لاکھ روپے کی لاگت سے14 پروجیکٹوں کو منظوری دی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ اُنہوں نے مزید کہا کہ فی ڈراپ موڑ کراپ سکیم کے تحت 200 کمیونٹی بور ویل زیر تعمیر ہیں۔