جی ایم سی راجوری کے خالی ٹیچنگ فیکلٹی اَسامیاں جے کے پی ایس سی کو بھیج دی گئیں
جموں//وزیر برائے صحت و طبی تعلیم سکینہ اِیتو نے آج کہا کہ ڈِسٹرکٹ ہسپتال راجوری کو عوامی سہولیت کے پیش نظر کسی مناسب جگہ پر منتقل کیا جائے گا۔وزیر موصوفہ جاوید اقبال چودھری کے سوال کا جواب دے رہی تھیں۔اُنہوں نے کہا کہ ڈِسٹرکٹ ہسپتال راجوری میں جگہ کی شدید قلت ہے اور یہ بڑھتے ہوئے مریضوں کے دباؤ کو سنبھالنے کے قابل نہیں ہے۔ لہٰذا، اسے کسی مناسب جگہ پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ عوام کو بہتر طبی سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔وزیر نے یقین دِلایا کہ حکومت عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے اور صحت کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لئے پُرعزم ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ تمام صحت اِداروں میں خالی اسامیوں کو بروقت پُر کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔اُنہوں نے گورنمنٹ میڈیکل کالج راجوری میں طبی عملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ تدریسی فیکلٹی، سی ایم او ایس اورایل ایم او ایس کی کُل منظور شدہ تعداد 119ہے اور موجودہ عملہ 55 اورخالی اسامیاں64 ہیں ۔انہوں نے ایوان کو یہ بھی بتایا کہ نان گزیٹیڈ عملے کی کُل منظور شدہ تعداد 415 ہے جن میں سے 293 ملازمین کام کر رہے ہیں جبکہ122 اسامیاں خالی ہیں۔
وزیر نے مزید بتایا کہ جی ایم سی راجوری میں خالی تدریسی اَسامیوں کوجموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن (جے کے پی ایس سی) کو بھیجے گئے ہیں تاکہ اُنہیں جلد از جلد پُر کیا جا سکے۔وزیر موصوفہ نے مزید کہا کہ ہر شعبے میں تدریسی عملے کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ایس او364 آف 2020 بتاریخ 27 ؍ نومبر2020 کے تحت خالی اسامیوں کو باقاعدگی سے پُر کیا جارہا ہے ۔اُنہوں نے نان گزٹیڈ اسامیوں کے بارے میںوضاحت کی کہ یہ معاملہ حکومت کے زیر غور ہے اور اس پر فعال طور پر کام کیا جا رہا ہے۔اِس موقعہ پر اِنجینئر خورشید احمد، اروند گپتا، ڈاکٹر شفیع احمد وانی، پون کمار گپتا، اعجاز جان، افتخار احمد، مظفر اقبال خان اور شبیر احمد کلے نے ضمنی سوالات اُٹھائے۔










