سری نگر//حکومت نے جموںوکشمیر کے تعلیمی منظر نامے میں مثبت بدلائو لانے کے لئے اِختراعی اور تاریخی اَقدامات کئے ہیں۔سکولی تعلیم محکمہ نے ڈراپ آئوٹ ریشو کو کم کرنے ، اَنرولمنٹ کی شرح میں اِضافہ اور دیگر جیسے متعدد اقدامات اُٹھائے ہیں۔پوری قوم نئی قومی تعلیمی پالیسی کے عملا نے سے تعلیمی نظام میں نمایاں تبدیلی دیکھ رہی ہے ۔پالیسی نے کلاس روم اور فیلڈ سٹیڈی دونوں میں مشغولیت اور شمولیت پر خصوصی زور دیا ہے ۔یہ بات قابلِ ذِکر ہے کہ سکولی تعلیمی نظام میں مینٹر شپ پروگرام :سٹوڈنٹ ٹیچر انکیج منٹ فار ایجوکیشنل رین فورس منٹ( ایس ٹی اِی اِی آر) اِنقلاب برپا کرے گا تاکہ سیکھنے کے خلأ کی نشاندہی کی جائے اور بچوں کو درپیش رُکاوٹوں،ان کی صلاحیتوں کو سمجھنے اور اَساتذہ کو ان کے تدریسی طریقوں میں تبدیلی لانے کاموقع فراہم کیا جائے ۔اِس مینٹر شپ پروگرام کے تحت 21,000 سے زیادہ سکولوں کا اَحاطہ کیا گیا ہے اور پانچ لاکھ طلباء کی نقشہ سازی کی گئی ہے ۔ مزید برآں 40,000 اَساتذہ کو 10:1 کے تناسب سے طلباء کی رہنمائی کے لئے تربیت دی گئی ہے ۔مزید یہ کہ سکولی تعلیم اور روزگار پر مبنی اعلیٰ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔قومی تعلیمی پالیسی اکیسویں صدی کے چوتھے صنعتی اِنقلاب اور ڈیجیٹل معیشت کی اِنسانی وسائل کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے تعلیمی نظام میں ضروری تبدیلیاں کی گئی ہیں۔پالیسی کے تحت ہائیر ایجوکیشن کونسل اِس بات کو یقینی بنائے گی کہ کالج او ریونیورسٹیاں تحقیق اور اِختراعی مرکز بنیں اور ایک اعلیٰ ہنر مند قومی اِنسانی سرمایہ تیار کرنے میں اَپنا حصہ اَدا کریں۔یکساں تعلیمی کیلنڈر ، اَپ ڈیٹ شدہ نصاب ، مضبوط تحقیقی ماحولیاتی نظام، اِدارہ جاتی تنظیم نو ، تین درجے فیڈ بیک میکانزم کی عمل آوری اور اِی۔سمرتھ جیسے ڈیجیٹل اَقدامات سے ایک اِختراعی تعلیمی نظام تیا ر کیا جارہا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے لئے وزیر اعظم کی خصوصی سکالر شپ سکیم کے تحت جنرل ڈگری اور پروفیشنل کورسوں کے لئے 4,841 طلباء کا اِندراج کیا گیا ہے اور تین دہائیوں کے بعد گذشتہ برس200 دِن کے لئے سکولوں کو فعال کیا گیا جو کہ حکومت کی سنجیدگی کی عکاسی کرتا ہے ۔تعلیمی شعبے کو تبدیل کریں۔مزید برآں،’’ آئو سکول چلیں ‘‘ مہم سے 70,000 بچوں نے کلاس روموں میں شمولیت اِختیار کی ہے اور ابتدائی بچوں کی دیکھ ریکھ اور تعلیم پر خصوصی توجہ کے ذریعے سال 2022ء میں اِندراج میں 17.87 فیصد اِضافہ ریکارڈ کیا ہے۔










