جموں//وزیر برائے صحت و طبی تعلیم سکینہ اِیتو نے قانون ساز اسمبلی کو مطلع کیا کہ حکومت نئے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل اورتعمیر کے بجائے موجودہ صحت سہولیات کو مستحکم کرنے پر کام کر رہی ہے۔وزیر موصوفہ ایوان میں رُکن قانون ساز مشتاق احمد گورو کی طرف سے اُٹھائے گئے سوال کا جواب دے رہی تھیں۔ اُنہوں نے ایوان کو آگاہ کیا کہ حکومتی حکم نامہ628۔ایچ ایم اِی آف2016 بتاریخ3؍ دسمبر 2016کے مطابق این ٹی پی ایچ سی برزلہ کو ایم ایم سی صنعت نگر سری نگر منتقل کیاگیا جہاں یہ اَپنی تمام سہولیات اور عملے کے ساتھ فعال ہے۔ اُنہوں نے مزید بتایا کہ اس مرکز کے اوقات کار دیگر اِداروں کے مطابق صبح10 بجے سے شام 4بجکر 30 منٹ تک مقرر کئے گئے ہیں۔وزیر موصوفہ نے بتایا کہ ایم ایم سی صنعت نگر ایک جی پلس وَن عمارت میں کام کر رہا ہے اور اِس وقت عمارت کے گرائونڈ فلو میں او پی ڈی اور حفاظتی ٹیکہ کاری (امیونائزیشن)کی سہولیت فراہم کی جا رہی ہے جبکہ پہلی منزل پر یوتھ رِی ہیبلٹیشن سینٹر اور مینٹل کیئر ہیلتھ فیسلٹی سینٹر قائم ہے ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اِس وقت جموں و کشمیر میں 4,000 سے زائد صحت اداروں (پرائمری، سیکنڈری اور ٹریشری سطح) کو مستحکم کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ اُنہوں نے یہ بھی بتایا کہ صحت اداروں کی کثافت کے لحاظ سے جموں و کشمیر ملک کی بڑی ریاستوںاوریونین ٹیریٹریز میں سرِفہرست ہے جیسا کہ مرکزی وزارتِ صحت و خاندانی بہبود کی 2023 کی رپورٹ میں شائع کیا گیا۔وزیر موصوفہ نے کہاکہ جموں و کشمیر میں ہر 3,500 اَفراد کے لئے ایک صحت ادارہ موجود ہے جبکہ قومی سطح پر اوسطاً 6,000 افراد فی ادارہ ہے۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ حکومت کے مستقبل میں نئی تخلیقات اوراَپ گریڈیشن کے منصوبے موجود ہیں، تاہم اس پر عمل درآمد حکومتی حکم نامہ10۔ایف آف 2025بتاریخ 11؍ جنوری 2025 کے تحت عائد کفایت شعاری اقدامات ختم ہونے اور آئی پی ایچ ایس کے مطابق بنیادی ضروریات کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔










