یہ تاریخی فیصلہ سماجی اِنصاف ، مساوات اور تمام شہریوں کیلئے مساوی مواقع کیلئے اِنتظامیہ کی کوششوں کا ایک سنہری باب ثابت ہوگا۔ لیفٹیننٹ گورنر
سری نگر//حکومت جموںوکشمیر نے ایک تاریخی فیصلے میں بے زمین پی ایم اے وای ( جی ) اِستفادہ کنند گان کو 5مرلہ زمین الاٹ کرنے کی تجویز کو منظور ی دی ہے ۔ یہ فیصلہ 21؍جون 2023ء کو اِنتظامی کونسل نے لیا تھا۔ موجودہ الاٹمنٹ صرف مستقبل اِنتظار کی فہرست ( پی ڈبلیو ایل ) 2018-19ء سے باہر رہ جانے والے کیسوں تک محدود ہے جو بعد میں پی ایم اے وائی۔جی کے اَگلے مرحلے کے آغاز کے وقت ہوسکتا ہے ۔سکیم کو 2024-25ء میں بے زمین مستفیدین کے انہی زمروں تک بڑھایا جائے جو بصورت دیگر پی ایم اے وائی ( جی ) مرحلہ سوم کے تحت ہائوسنگ اِمداد حاصل کرنے کے اہل ہوجائیں ۔ جموںوکشمیر ریو نیو قوانین کے تحت زمین کی الاٹمنٹ کے لئے متعلقہ ضلع ترقیاتی کمشنر سے آواس پلس سے فائدہ اُٹھانے والوں کے درج ذیل زمروں پر غور کیا جائے گا۔
۱) سٹیٹ زمین پر رہنے والے لوگ
۲) جنگل کی زمین پر رہنے والے لوگ
۳) رکھوں او رکھیتوں کی زمین میں رہنے والے لوگ ، جہاںتعمیر کی اِجازت نہیں ہے ۔
۴) کسٹوڈین زمین پر بیٹھے لوگ اور
۵) حکومت کی طرف سے داچھی گام پارک کے قریب بے گھر لوگوں کو زراعت کے مقصد کے لئے الاٹ کی گئی زمین، جہاں تعمیر کی اِجازت نہیں ہے۔
۶) کیسوں کی کوئی دوسری قسم جو مکان کے لئے دوسری صورت میں اہل ہیں لیکن ان کے پاس تعمیر کے لئے کوئی زمین دستیاب نہیں ہے ۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’ یہ جموں کشمیر کے لئے ایک تاریخی دِن ہے اور ہزاروں بے زمین کنبوں کے لئے ایک نئی شروعات ہے۔‘‘اُنہوں نے مزید کہا کہ یہ تاریخی فیصلہ سماجی اِنصاف، مساوات، احترام اور تمام شہریوں کے لئے مساوی مواقع کے لئے اِنتظامیہ کی کوششوں میں ایک سنہری باب ثابت ہوگا ۔اُنہوں نے کہا،’’ یہ فیصلہ نہ صرف بے زمین غریبوں کو زمین کا ایک ٹکڑا رکھنے اور ان کے پاس مکان رکھنے کا حقدار بنائے گا بلکہ یہ انہیں ذریعہ معاش فراہم کرے گا، ان کا معیارِ زندگی بلند کرے گا اور ان کے خوابوں اور اُمنگوں کو پورا کرے گا۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ معاشرے کا غریب طبقہ حکومت پالیسی کے مرکز میں ہے اور ایک بڑی آبادی جو آزادی کی سات دہائیوں کے بعد بھی بنیادی سہولیتوں اور حقوق سے محروم تھی کو ترقی کے دھارے میں لایا جارہا ہے۔اُنہوں نے کہا،’’حکومت جموںوکشمیر جامع ترقی کے لئے پُر عزم ہے ۔ اِس اقدام سے غریبوں او رپسماندہ اَفراد کے لئے بے شمار مواقع کھلیں گے اور اِس تاریخی فیصلے کے ساتھ اِنتظامیہ قوم کی تعمیر کے کام میں ان کی شراکت کا اعتراف کر رہی ہے۔‘‘
پس منظر
۱) مرکزی وزارتِ دیہی ترقی نے 30؍ مئی 2023ء کو آواس پلس لسٹ کی مالی برس 2023-24ء کے لئے جموںوکشمیر یوٹی کو 1,99,550 مکانات کا اِضافی ہدف مختص کیا ہے۔
۲) وزارت کی طرف سے یہ خواہش کی گئی ہے کہ وہ 30؍ جون 2023ء تک اِ ن مکانات کی منظوری دے اور 31؍ مارچ 2024ء تک تکمیل کو یقینی بنائے ۔
۳) اِس مشق کو تیزی سے مکمل کرنے کے لئے پلس آواس پی ڈبلیو ایل میں درج گھرانوں کے مطلوبہ دستاویزات یعنی بینک کی تفصیلات ، آدھار کارڈ ، منریگا جاب کارد ، راشن کارڈ ، ریونیو دستاویزات ، فون نمبر اورڈیکلریشن حاصل کرنے کے لئے 4سے 10 ؍ جون 2023 تک پورے جموں وکشمیر یوٹی میں بلاک لیول کیمپس کا اِنعقاد کیا گیا ۔ جنہوں نے پہلے گھر نہیں بنایا ہے اور وہ دوسری صورت میں سکیم کے رہنما خطوط کے تحت اہل ہیں۔ سافٹ آواس پورٹل پر تفویض کردہ اہداف کے مطابق گھروں کی رجسٹریشن اور منظوری کو یقینی بنانے کے لئے ان دستاویزات کی ضرورت ہے۔
۴) آج تک 1,44,385مکانات رجسٹر کئے جاچکے ہیں اور 1,41,371 مکانوں کو اہل گھرانوں کے لئے منظوری دی گئی ہے جو آواس پلس پی ڈبلیو ایل میں درج کئے گئے ہیں۔
۵) بلاک لیول کیمپوں کی مذکورہ مدت میں مستفید ہونے والوں کی فیلڈ تصدیق کے دوران فیلڈ فنکشنز سے یہ اِطلاع دی گئی ہے کہ آواس پلس پی ڈبلیو ایل میں درج 2,711 گھرانے بے زمین ہیںاور بھی بہت سے ہیں جو موسمی مائیگرنٹ جیسی مختلف وجوہات کی بنا پر اَپنی دستاویزات جمع نہیں کر سکے ۔ اگر مرکزی حکومت ٹائم لائن میں توسیع کرتی ہے تو یہ تعداد دو ہزار سے بڑھنے کی اُمید ہے ۔ بصورت دیگر سکیم کے اَگلے مرحلے میں ان پر غور کیا جائے گا۔
۶) وزارتِ دیہی ترقی پی ایم اے وائی ( جی) رہنما خطوط پی ایم اے وائی گھر کی تعمیر کے لئے بے زمین استفادہ کنند گان کو 25مربع میٹر ( تقریباً ایک مرلہ ) کی زمین فراہم کرنے کے لئے فراہم کرتے ہیں۔ لیکن ان کی بنیادی زندگی کو سہارا دینے کے لئے ان کے پاس کافی زمین کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لئے مندرجہ ذیل زمروں کے اَفراد کو پانچ مرلہ زمین الاٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو آواس پلس پرمیننٹ ویٹنگ لسٹ ( پی ڈبلیو ایل) 2018-19ء کا حصہ ہیں۔
اے) زمین کم۔
بی) سٹیٹ ، جنگل یا کوئی دوسری زمین پر قبضہ کرنا جہاں تعمیر کی اِجازت نہیں ہے۔










