چنانی حلقہ میں مختلف زرعی سکیموں کے تحت 20,031 کسان مستفید
جموں// وزیربرائے زراعت جاوید احمد ڈار نے کہا کہ حکومت کیپکس بجٹ اورجامع زرعی ترقیاتی پروگرام ( ایچ اے ڈِی پی) 2024-25 ء کے تحت ضلع اودھمپور میں نِچ فصلوں (پہاڑی لہسن) کی کاشت کے فروغ اور روایتی و غیر ملکی سبزیوں کی پیداوار بڑھانے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔وزیر موصوف ایوان میں رُکن اسمبلی بلونت سنگھ منکوٹیہ کے سوال کا جواب دے رہے تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ سیونا اور لٹی بلاکوں کو مالی برس 2025-26 ء کے دوران سی ایس ایس سکیم ’’نیشنل مشن آن نیچرل فارمنگ‘‘ کے تحت ترجیحی بنیادوں پر ترقی دی جا رہی ہے جبکہ 2025-26ء کے دوران چنانی اور لٹی بلاکوں میں جے کے سی آئی پی پروجیکٹ کے تحت پہاڑی لہسن، مکئی، سبزیاں، طبی و خوشبودار پودوں،دالوں اور سبزیوں کے فروغ پر غور کیا جارہا ہے۔وزیر زراعت نے مزید کہا کہ کاشت کاروں کی آمدنی بڑھانے کے لئے اِن علاقوں میں سیب، اخروٹ، ناشپاتی اور کیوی جیسے اعلیٰ کثافت والے پھل دار پودے لگانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اِس کے علاوہ آبپاشی کے بنیادی ڈھانچے میں چیک ڈیم، واٹر سٹوریج ٹینکس، واٹر ہارویسٹنگ ٹینک اور پورٹیبل جیو ٹیگز جیسے منصوبے ایچ اے ڈِی ی اور سی ایس ایس کے تحت 2025-26 ء میں عملائے جائیں گے ۔اُنہوں نے یہ بھی بتایا کہ پرانی اور غیر مؤثر باغات کو اعلیٰ معیار کے پھلوں کے ہائی ڈینسٹی باغات میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔وزیر نے مزید کہا کہ چنانی حلقہ ضلع اودھمپور میں مختلف زرعی سکیموں کے تحت 20,031 کسان مستفید ہو چکے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ تمام زرعی سکیمیں بشمول مرکزی معاونت والی سکیمیں، کیپیکس اورجامع زرعی ترقیاتی پروگرام( ایچ اے ڈی پی) منصوبوں کو محکمہ زراعت کے ذریعے ضلع اودھمپور میںعملائی جارہی ہیں۔ وزیر جاوید احمد ڈار نے کہا کہ مالی برس 2024-25 ء میں ایچ اے ڈِی پی کے مختلف منصوبوں کے تحت 1,150 مستفیدین کا احاطہ کیا گیا اور اُنہیں فائدہ پہنچایا گیا۔ اِس کے علاوہ اودھمپور چنانی حلقہ میں 2024-25 ء میںپی ڈِی ایم سی ،پی کے وِی وائی ، ایس ایم اے ایم، آر کے وِی وائی ،این ایف ایس ایم کے تحت 366 مستفیدین کو شامل کیا گیا۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ 18,515 کسانوں کو پی ایم کسان سکیم کے تحت شامل کیا گیاہے اور چنانی میںان میں سے اکثریت کوکے سی سی(کسان کریڈٹ کارڈ) سے جوڑا گیا ہے تاکہ اُنہیں مزید مالی شمولیت اور اِقتصادی استحکام حاصل ہو۔وزیرموصوف نے کہا کہ محکمہ باغبانی مختلف سکیموں جیسے یوٹی کیپکس ، ایچ اے ڈِی پی ،سی ایس ایس ، ایم آئی ڈِی ایچ اور پی ایم ایف ایم اِی سکیموں کے تحت کسانوں کو سہولتیں فراہم کر رہا ہے۔ مالی برس 2024-25 ء میں 57 مستفیدین ایچ اے ڈِی پی، 165 مستفیدین ایم آئی ڈِی ایچ ، پی ڈِی ایم سی ، این ایم اِی او ۔ ٹی بی او ایس اور یوٹی کیپکس کے تحت شامل کئے گئے ہیں۔اُنہوں نے ایوان کو بتایاکہ محکمہ زراعت تجرباتی بنیادوں پر بلاک لٹی کی پہاڑیوں اور بنجر زمینوں میں لیونڈر کی کاشت کی منصوبہ بندی کرہا ہے اورجامع زرعی ترقیاتی پروگرام ( ایچ اے ڈِی پی) 2024-25 ء کے تحت پنچایت بلاک لٹی میں8 ہیکٹر رقبے پر محیط فارمر پروڈیوسر کلسٹر (ایف پی سی) میں لیوینڈر کی کاشت کی گئی ہے جس سے 44 کسان مستفید ہوئے ہیں۔
وزیر زراعت نے بتایا کہ چنانی حلقہ کے 5 بلاکوں سمیت اودھمپور ضلع اور جموں و کشمیر کے دیگر اضلاع کاشتکاری کے لئے بارش کے پانی پر منحصر ہیں۔ تاہم، کمانڈ ائیریا ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت آبپاشی کے چینلوں کو تعمیر کرکے پانی کی ترسیل کو ممکن بنایا جا رہا ہے۔ چنانی حلقہ کے پانچ بلاکوںمیں 1,360 ہیکٹر (تقریباً) آبپاشی کی گنجائش پیدا کی گئی ہے جبکہ 714.09 ہیکٹر اراضی کو ان چینلوں کے ذریعے پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ محکمہ باغبانی نے اودھمپور ضلع کے مختلف بلاکوں میں آبپاشی کی سہولیت فراہم کرنے کے لئے ایچ اے ڈِی پی ، یوٹی کیپکس ،ایم آئی ڈِی ایچ اور پی ڈِی ایم سی کے تحت مختلف مستحقین کو رعایتی نرخوں کی 50فیصد سبسڈی پر بارش کے پانی کو جمع کرنے کے لئے ڈیپ بور ویل، ڈگ ویل، گریویٹی فیڈ ڈرپ اری گیشن ، جیو میمبرین ٹینک اور واٹر ہارویسٹنگ ٹینک فراہم کئے ہیں۔وزیر زراعت نے مزید کہا کہ حکومت پی ڈِی ایم سی اور ایچ اے ڈِی پی کے تحت واٹر لفٹنگ ڈیوائسز اور مائیکرو اری گیشن اِنفراسٹرکچر (سپرنکلر/ڈرپ اِری گیشن ) پر سبسڈی فراہم کر رہی ہے۔دریں اثنا،شیام لال شرما، سُرجیت سنگھ سلاتھیہ، پروفیسر گارو رام بھگت اور آر ایس پٹھانیہ نے اپنے علاقوں میں بندروں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے نمٹنے کے لئے مناسب اقدامات اُٹھانے کا مطالبہ کیا۔










