محکمہ سکولی تعلیم کو ضلع بڈگام کے مختلف سکولوں سے اَپ گریڈیشن کی درخواستیں موصول ۔ سکینہ اِیتو

حکومت آئی پی ایچ ایس قواعد 2022کے مطابق موجودہ 4,000 صحت اِداروں کو مضبوط بنانے پر کام کر رہی ہے۔ سکینہ اِیتو

جموں// وزیر برائے صحت و طبی تعلیم سکینہ اِیتو نے ایوان کو بتایاکہ حکومت آئی پی ایچ ایس قواعد2022 کے مطابق مختلف سطحوں (پرائمری، سیکنڈری اور ٹریشری) پر موجود4,000موجودہ صحت اِداروں کو مضبوط بنانے پر کام کر رہی ہے تاکہ لوگوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔وزیر موصوفہ ایوان میں آج رُکن اسمبلی مظفر اِقبال خان کے ایک سوال کا جواب دے رہی تھیں۔اُنہوں نے کہا کہ پرائمری ہیلتھ سینٹر( پی ایچ سی) تھانہ منڈی کو 1999 میں کمیونٹی ہیلتھ سینٹر( سی ایچ سی) میں اَپ گریڈ کیا گیا تھا اور اسے موجودہ منظور شدہ عملے کے ساتھ چلایا جا رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس وقت تین منظور شدہ ڈاکٹروں کی اَسامیوںمیں سے دو پر تعیناتی ہو چکی ہے جبکہ 21 پیرا میڈیکل سٹاف میں سے 16کام کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ مزیدعملے کی تعیناتی کا معاملہ فائنانس ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ اُٹھایا جائے گا۔وزیر صحت نے ایوان کو مزید بتایا کہ درہال اور منجاکوٹ کے طبی بلاکوں میں واقع مختلف صحت مراکزجیسے کہ سی ایچ سی درہال، پی ایچ سی لاہ، پی ایچ سی تھانہ منڈی، پی ایچ سی شاہدرہ شریف، پی ایچ سی منجاکوٹ، پی ایچ سی گھمبیر مغلاں، پی ایچ سی کلر چتیار اور پی ایچ سی بگلا نڈیالہ میں مجموعی طور پر 35 منظور شدہ اَسامیوں میں سے 19 پر تعیناتی ہو چکی ہے جبکہ 16 اَسامیاں خالی ہیں۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم) کے تحت چھ منظور شدہ اَسامیوں میں سے پانچ خالی ہیں۔اُنہوںنے یہ بھی کہا کہ عوام کو بہتر طبی خدمات کی فراہمی کے لئے اِی ۔ سنجیونی ، ٹیلی میڈیسن کے نظام کو ہب اینڈ سپوک ماڈل کے تحت مزید بہتر بنایا جارہا ہے تاکہ دُور دراز علاقوں میں طبی مشورے اور علاج کی سہولیت فراہم کی جاسکے۔