حالات ٹھیک ہوئے ہیں تو ایک کروڑ سیاحوں میں سے دس15لاکھ کا شکار گاہ گھومنا ضرور بنتا ہے
سرینگر// نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ’’میری منزل وزیر اعلیٰ کی کرسی نہیں، ہم اقتدار کیلئے نہیں لڑ رہے ہیں، ہم اگر لڑ رہے ہیں تو وہ جموں وکشمیر کی کھوئی ہوئی شناخت، پہچان، عزت، آئین اور جھنڈے کی واپسی کیلئے لڑ رہے ہیں اور یہ لڑائی جاری رہے گی، جب تک ہم اپنے حقوق حاصل نہیں کریں گے تب تک ہم پُرامن طریقے سے جدوجہد کرتے رہیں گے، ہم قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیں گے ، ہم پُرامن طریقے سے اپنے حقوق کیلئے لڑنا جانتے ہیں، ہم میدان چھوڑنے کر نہیں جائیں گے اور سودابازی کیلئے نہ کبھی تیار تھے، نہ ہیں اور نہ مستقبل میں کبھی ہونگے۔سٹار نیوز نیٹ ورک کے مطابق ان باتوں کا اظہار انہوں نے آج ترال میں پارٹی کے یک روزہ کونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔عمر عبداللہ نے کہا کہ کہنے تو یہاں جمہوریت ہے ، جس کے تحت ہمیں سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنے کا حق ہے لیکن افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ میرے ساتھیوں خصوصاً جنوبی کشمیر سے تعلق رکھنے والے ساتھیوں کی سیاسی سرگرمیوں پر غیر اعلانیہ پابندی ہے۔ ان سے کہا جاتا ہے کہ ہفتے میں صرف ایک بار اپنے علاقے کا دورہ کیجئے۔ ایک طرف حکمران حالات کی بہتری کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن دوسری طرف ہمارے ساتھیوں کی سرگرمیوں پر قدغن ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ سرگرمیوں پر پابندی حملے کے خوف سے نہیں ہے بلکہ سیاسی انتقام گیری کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ معلوم نہیں یہ کس بات سے ڈر رہے ہیں؟انہوں نے کہا کہ ’’یہ جو دعوے کرتے ہیں یہاں امن آیا، حالات بدل گئے، سارا کچھ ٹھیک ہوگیا، ایک نئی شروعات ہوئی ہے ، ایک نیا دور آیا ہے، یہ نیا دور ترال پہنچتے پہنچتے کہاں رُک جاتا ہے؟گننے کیلئے تو یہ کروڑوں میں ٹورسٹ گنتے ہیں اور پھر ہم آج ترال کی سرزمین سے پوچھنے کیلئے مجبور ہوجاتے ہیں کہ اگر اتنی تعداد میں یہاں سیاح آتے ہیں تو ترال کے تاریخی سیاحتی مقام شکار گاہ میں سیاحوں کی آمد کیوں نہیںہے؟ آپ جب یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ایک کروڑ15لاکھ سیاح یہاں آئے ہیں، اگر حالات اتنے ہی ٹھیک ہوئے ہیں اور اتنا ہی خوف ختم ہوگیا ہے تو پھر ان ایک کروڑ میں سے دس15لاکھ سیاحوں کا شکار گاہ گھومنا تو ضرور بنتا ہے، کیا ترال کا نوجوان اتنی بڑی سیاحو ںکی آمد کا فائدہ اُٹھانے کا حق نہیں رکھتا ہے۔ ‘‘ عمر عبداللہ نے کہاکہ ہم تب تسلیم کریں گے کہ جموں وکشمیر میں واقعی کوئی تبدیلی آئی ہے اور حالات ٹھیک ہوئے ہیں جب ترال کا شکارگاہ بھی گلمرگ اور پہلگام کی طرح سیاحوں سے بھرا ہوگا۔نہیں تو یہ تمام دعوے کھوکھلے اور سراب ہی ہیں۔ نیشنل کانفرنس کی مخالفت کرنے والوں کو لتاڑتے ہوئے عمر عبداللہ نے سوال کیا کہ سب کا نشانہ نیشنل کانفرنس ہی کیوں ہے؟ یہ لوگ نیشنل کانفرنس سے اتنا کیوں ڈرتے ہیں؟ وہ لیڈر جو نیشنل کانفرنس کی حمایت سے وزیر اعلیٰ بننا چاہتا تھا، وہ بھی نیشنل کانفرنس کو نشانہ بناتا ہے، وہ لیڈر جو کل تک PAGDمیں ہمارے ساتھ تھے ، وہ بھی ہمیں نشانہ بناتے ہیں یہاں تک کہ وہ لیڈر جو آج بھی PAGDمیں ہیں، وہ بھی اپنی تقریروں میں نیشنل کانفرنس کو نشانہ بناتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں ان لوگوں کا درد سمجھ سکتا ہوں کیونکہ جہاں ان کے پروگراموں میں تمام وسائل بروئے کار لاکر بھی 50سے 100 لوگ جمع ہوتے ہیں وہیں نیشنل کانفرنس کے پروگراموں میں رضاکارانہ طور پر سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ دیکھنے کو مل رہے ہیں اور یہ ان سے براشت نہیں ہورہاہے۔ مرکزی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے این سی نائب صدر نے کہا کہ ’’یہ لوگ کہنے تو کہتے ہیں کہ انہیں یہاں کے عوام کے جذبات کا خیال ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہاں قانون کی دھجیاں اُڑائی جارہی ہیں، ہمارے بچوں کیلئے UAPA، ہمارے بچوں کیلئے جیل لیکن وہ لوگ جو ہمارے نوجوانوں کے فرضی انکائونٹروں میں گنہگار پائے جاتے ہیں اُن کیلئے کوئی سزا ہی نہیں، اُن کیلئے جیل کیلئے دروازے کھولے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے آپ جائو، آزادی سے رہو۔ ہمارے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے تو کوئی بات نہیں لیکن اُن کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے تو تمام قوانین کا استعمال کیا جاتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’پارلیمنٹ میں بڑے بڑے دعوے کئے جاتے ہیں کہ جموں وکشمیر میں نئی شعروعات ہوئی ہے، ترقی کا ایک نیادور شروع ہوا ہے، کہاں ہے وہ ترقی، کون سا نیا پروجیکٹ آج ترال کی سرزمین پر آیا ہے، جس کی طرف اشارہ کر کے کہہ سکتے ہیں یہ دیکھئے دفعہ370ہٹنے کے بعد یہاں ترقی ہوئی۔کون سا سرکاری ملازمتوں کا دور شروع ہوا،کس نوجوان کو نوکری کا آرڈر ملا۔کون سا سکول، ہسپتال یا یونیورسٹی قائم ہوئی؟ کہاں پر فیکٹری لگی ہے؟ کس علاقے کو سیاحتی کے نقشے پر لایا گیا ہے؟ بجلی کے نظام میں کہاں بہتری آئی ہے؟‘‘ مرکزی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’جو پروجیکٹ آپ نے شروع کئے وہ آپ واپس نہیں دے رہے ہیں، لیکن جو پروجیکٹ میرے دورِ حکومت میں شروع ہوئے اُن کا کیا ہوا؟9سال میں کیرو، کاور، ریتلے، ساولاکوٹ، بغلیہار 3 اور دیگر پروجیکٹوں کا کام آپ نے کہاں پہنچایا؟اگر آج ان کو مکمل کیا ہوتا تو یہاں بجلی کا بحران نہیں ہوتا اور لوگوں کو رعایتی داموں پر بجلی مل رہی ہوتی۔ اس کے برعکس عوام کو بھاری بلیں ادا کرنے کے باوجود بھی جس بجلی بحران کا سامناہے تاریخ میں ایسا کبھی نہیں دیکھنے کو ملا ہے۔










