encounter

حزب آپریشنل کمانڈر اشرف مولوی3ساتھیوں سمیت جاں بحق :پولیس

اننت ناگ//سیکورٹی فورسز کواُسوقت ایک بڑی کامیابی ملی ،جب پہلگام کے مضافاتی جنگل میں امرناتھ گھپا کے راستے پرجمعہ کی صبح ایک جنگجو مخالف آپریشن کے دوران حزب المجاہدین کاآپریشنل کمانڈر اورکشمیرمیں 22برسوں سے سرگرم ملی ٹنٹ کمانڈر اشرف مولوی اپنے 2ساتھیوں سمیت جاں بحق ہوگیا۔آئی جی پی کشمیر وجئے کمار نے حزب کے سب سے پرانے کمانڈر کی ہلاکت سیکورٹی فورسزکیلئے بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہاکہ اشرف مولوی2000سے ملی ٹنسی کے محاذ پر سرگرم تھا،اورریاض نائیکو کی ہلاکت کے بعداس کوحزب المجاہدین کاآپریشنل کمانڈر مقررکیاگیا تھا۔پولیس نے بتایاکہ جائے جھڑپ سے مارے گئے تینوں جنگجوئوںکی نعشوں اوربڑی مقدارمیں اسلحہ وگولی بارود برآمد کرکے ضبط کیاگیا۔پولیس نے کہاکہ اس انکائونٹر میں مارے گئے دیگر2جنگجوئوںکی شناخت عمل میں لائی جارہی ہے ۔جے کے این ایس کے مطابق پولیس ذرائع نے بتایاکہ امرناتھ گھپا کے راستے میں کچھ جنگجوئوںکی موجودگی سے متعلق مصدقہ اطلاع ملتے ہی پولیس ،ایس ائوجی ،فوج اورفورسز نے پہلگام کے مضافاتی جنگل کومحاصرے میں لے لیا ۔ذرائع نے بتایاکہ جب سیکورٹی فورسز نے جنگجوئوں کے چھپنے کی جگہ کامحصرہ تنگ کیا ،تو موجود جنگجوئوں نے فرار ہونے کے مقصد سے اندھادھند فائرنگ شروع کردی ،تاہم سیکورٹی فورسزنے اُن کی یہ کوشش ناکام بناتے ہوئے جوابی کارروائی عمل میں لائی ۔پولیس ذرائع کے مطابق اسکے بعدطرفین کے درمیان شدید گولی باری کاتبادلہ شروع ہوا،جو جمعہ کوعلی الصبح سے دوپہرتک جاری رہا۔ذرائع نے مزید بتایاکہ وقفے وقفے سے جاری رہنے والی اس جھڑپ میں تین ملی ٹنٹ مارے گئے ۔پولیس کے مطابق حزب المجاہدین کا سب سے پرانا کمانڈر ان تین مقامی جنگجوؤں میں شامل تھا جو جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں پہلگام کے سری چند ٹاپ جنگلاتی علاقے میں ہونے والے انکاؤنٹر میں مارے گئے ۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ حزب المجاہدین کاآپریشنل کمانڈر57سالہ محمد اشرف خان عرف اشرف مولوی، کوکرناگ کے ٹنگہ اوا علاقے کا رہنے والاتھا۔پولیس حکا م نے کہاکہ محمداشرف خان عرف اشرف مولوی کی پہلی بار عسکریت پسندی سے وابستگی2000 میں پائی گئی۔انہوں نے مزید کہا گیا کہ اشرف مولوی نے پاکستان میں ہتھیاروں کی تربیت حاصل کی،اوراس کو جنوبی کشمیر کے کوکرناگ پٹی میں عسکریت پسندی کے احیاء کا سہرا دیا جاتاہے۔ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق اشرف مولوی کو مظفرآبادمیں ایک میٹنگ کے بعد وادی کے لئے آپریشنل کمانڈر کے طور پر مقررکیا گیا تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اشرف مولوی،Aپُلس زمرے کا جنگجواور کئی سالوں سے سرگرم جنگجوکمانڈر تھا۔رپورٹس کے مطابق سال2000سے سرگرم اشرف مولوی کوحزب کمانڈرریاض نائیکو کی ہلاکت کے بعدکشمیرمیں حزب المجاہدین کاآپریشنل کمانڈر مقرر کیاگیا تھا۔میڈیا رپورٹس میں سیکورٹی ذرائع کاحوالہ دیتے ہوئے بتایاکہ اشرف مولوی کاپس منظر یہ تھاکہ وہ جماعت اسلامی سے وابستہ اورمتاثرتھا،اور اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ لشکر کمانڈر بشیر لشکری کا قریبی ساتھی تھا، جو 2015 میں ہلاک ہونے سے پہلے تقریباً 18 سال تک سرگرم رہا۔ادھر پولیس نے بتایاکہ جائے جھڑپ سے مارے گئے تینوں جنگجوئوںکی نعشوں اوربڑی مقدارمیں اسلحہ وگولی بارود برآمد کرکے ضبط کیاگیا۔پولیس نے کہاکہ اس انکائونٹر میں مارے گئے دیگر2جنگجوئوںکی شناخت عمل میں لائی جارہی ہے ۔کشمیر زون پولیس نے آئی جی پی کشمیر کے حوالے سے کہاکہ اشرف مولوی کشمیرمیں طویل وقت سے سرگرم جنگجوکمانڈر تھا ،اوردوساتھیوں سمیت اسکی ہلاکت سیکورٹی فورسزکیلئے ایک بڑی اہم کامیابی ہے ۔اس دوران پولیس ذرائع نے بتایاکہ پہلگام کے جنگل میں ابھی تلاشی کارروائی جاری ہے ۔