جے کے آر ایل ایم اُمید نے ایس ایچ جی کے اَرکان کے ساتھ خواتین کا عالمی دِن منایا

جموں//جموں وکشمیر رورل لائیولی ہڈز مشن اُمید نے پنچایت بھون میں خواتین کا عالمی دِن منایا۔اِس تقریب میں مشن ڈائریکٹر جے کے آر ایل ایم اِندو کنول چِب ، ایڈیشنل مشن ڈائریکٹر جے کے آر ایل ایم جموں مردھو سلاتھیہ ، ڈائریکٹر سوشل آڈِٹ شافیہ نقشبندی ، متعدد سیلف ہیلپ گروپس کی خواتین اور دیگر متعلقہ اَفراد نے شرکت کی۔اِس برس کا تھیم ’’ ڈیجیٹ آل: صنفی مساوات کے لئے اختراعیت اور ٹیکنالوجی ‘‘ صنفی مساوات کو فروغ دینے ، خواتین اور لڑکیوں کی صحت اور ترقی کی ضروریات کو پورا کرنے میں جدید ٹیکنالوجی کے کردار کو اُجاگر کرتا ہے ۔اِس تقریب میں ایک سیشن کے دوران صوبہ جموں کے مختلف ایس ایچ جی کے ممبران نے اَپنی داستانیں بیان کیں کہ اُنہوں نے جے کے آر ایل ایم کے اُمید پروگرام سے اَپنی شناخت کیسے بنائی۔اُنہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی اختراعیت اور جدید ترین ٹیکنالوجی کو سنبھالنے سے انہیں بڑے خواب دیکھنے میں مددملی ہے اور دیہی خواتین کو بھی فائدہ پہنچا ہے ۔مشن ڈائریکٹر جے کے آر ایل ایم اِندو کنول چِب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایس ایچ جیز پر زور دیا کہ وہ اختراعات اور ڈیجیٹل مہارتوں کو اَپنا ہتھیار بنائیں کیوں کہ ہر چیز ڈیجیٹل عمل سے گزرتی ہے۔اُنہوں نے اُن سے کہا کہ وہ ڈیجیٹل گیجٹس سے ان میں سرمایہ کاری کریں اور اِس ڈیجیٹل دور میں رہنے کے لئے خود کو اَپ ڈیٹ کریں۔اُنہوں نے کہا کہ اس سے خواتین ڈیجیٹل سپیسنر میں مشغول ہونے کے لئے ضروری ڈیجیٹل مہارتیں تیار کر سکیں گی جس سے ان کے مختلف شعبوں میں کیریئر بنانے کے مواقع بڑھیں گے۔اِس موقعہ پر ڈائریکٹر سوشل آڈِٹ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کا دِن حقیقی معنوں میں اس وقت منایا جائے گا جب خواتین اَپنے تمام شعبوں میں اَپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہوں گی۔ایڈیشنل مشن ڈائریکٹر جے کے آر ایل ایم جموں مردھو سلاتھیہ نے اَپنے خطبہ اِستقبالیہ میں کہا کہ جے کے آر ایل ایم پہلے ہی متعدد ڈیجیٹل اختراعات اور ڈیجیٹل سکلنگ پر کام کر رہا ہے اور’اُمید‘ ایک سکیم ہے جو دیہی خواتین کی زندگی بدل رہی ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو اختراعیت اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے سے معاشرے میں صنفی مساوات کو فروغ دینے کے علاوہ مزید حل پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔