عوام کو نئے فوجداری قوانین کے بارے میں مزید بیداری پیدا کرنے کی ضرورت / عمر عبد اللہ
سرینگر // منتخب جموں و کشمیر حکومت کو نئے فوجداری قوانین کے بارے میں مزید بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے کی بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر نے نفاذ میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن کچھ کمزور علاقے ہیں جنہیں ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پر راہول گاندھی کے ردعمل پر عمر عبد اللہ نے کہا کہ ایل او پی کو انتخابی میٹنگ میں اختلاف رائے کا حق ہے۔ اپوزیشن کا ہمیشہ حکومت سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ سی این آئی کے مطابق نئی دہلی میں نئے قوانین پر جائزہ میٹنگ میں شرکت کے بعد میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ تین نئے فوجداری قوانین کو نافذ کرنا جموں و کشمیر میں منتخب حکومت کا مینڈیٹ نہیں ہے، لیکن ان کی قیادت والی حکومت کو ان دفعات کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کیلئے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا ’’جہاں تک منتخب حکومت کا تعلق ہے، ان قوانین کو نافذ کرنا ہماری ذمہ داری نہیں ہے۔ چونکہ یہ نئے قوانین ہیں اس لیے لوگوں کو ان سے آگاہ ہونا چاہیے۔ اس کیلئے منتخب حکومت کو مزید کام کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر نے نفاذ میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے لیکن کچھ کمزور علاقے ہیں جنہیں ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔عمر عبد اللہ نے کہا کہ آج کی میٹنگ کے دوران جموں و کشمیر میں سیکورٹی صورتحال پر کوئی بات نہیں ہوئی۔عمر نے کہا’’میں نے پارلیمنٹ کے احاطے میں وزیر داخلہ امیت شاہ کے ساتھ اپنی حالیہ میٹنگ کے دوران جموں و کشمیر سے متعلق سیکورٹی کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا تھا‘‘۔انہوں نے کہا ’’اس ملاقات اور ان ملاقاتوں میں فرق ہے۔ یہ میٹنگ نئے قوانین اور ان کے نفاذ کے بارے میں تھی۔ اگر عوام کے منتخب نمائندوں کو سیکورٹی کے مسائل سے باہر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تو میں مزید کیا کہوں؟ ۔ ‘‘ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پر قائد حزب اختلاف راہول گاندھی کے ردعمل پر عمر عبد اللہ نے کہا’’ایل او پی کو انتخابی میٹنگ میں اختلاف رائے کا حق ہے۔ اپوزیشن کا ہمیشہ حکومت سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ خیال رہے کہ جموں و کشمیر میں نئے فوجداری قوانین کے نفاذ کا جائزہ لینے کیلئے مرکزی وزیر داخلہ کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی میٹنگ میں لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا اور مرکزی اور جموں و کشمیر حکومتوں کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔










