ستیہ پال ملک نے 2019کے انتخابات کے حوالے سے مرکزی سرکار پر سنگین الزامات کئے عائد
سرینگر//جموں کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک نے وزیر سال 2019کے انتخابات کے حوالے سے موجودی مرکزی سرکار پرسخت الزامات عائد کرتے ہوئے جموکشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک نے کہا کہ 2019 کا لوک سبھا انتخاب مودی حکومت نے فوجیوں کی لاشوں پر لڑا، اگر اس دوران جانچ ہوتی تو راجناتھ سنگھ کو اپنا استعفیٰ دینا پڑتا۔جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک نے ایک بار پھر مودی حکومت پر حملہ کیا ہے۔ اس مرتبہ ستیہ پال ملک نے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کو ہدف بنایا ہے۔ ستیہ پال ملک نے پلوامہ حملے کو لے کر ایک تقریب کے دوران کچھ ایسی باتیں کہی ہیں جو مودی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے۔سی این آئی کے مطابق راجستھان کے الور ضلع واقع بانسور میں ایک تقریب کے دوران ستیہ پال ملک نے کہا کہ 2019 کا لوک سبھا انتخاب مودی حکومت نے فوجیوں کی لاشوں پر لڑا۔ اتنا ہی نہیں، اگر اس دوران جانچ ہوتی تو اْس وقت کے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کو اپنا استعفیٰ دینا پڑتا اور کئی اعلیٰ افسران جیل تک جاتے جس سے بڑا تنازعہ پیدا ہو جاتا۔ ان لوگوں نے جانچ نہیں کرائی۔واضح رہے کہ ستیہ پال ملک نے پہلے بھی دعویٰ کیا تھا کہ پلوامہ حملے کے فوراً بعد انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو اس کی جانکاری دی تھی جس پر انھیں خاموش رہنے کے لیے کہا گیا تھا۔ ایک بار پھر اسی بات کو ستیہ پال ملک نے دہرایا ہے۔ ستیہ پال ملک نے کہا کہ وزیر اعظم جم کاربیٹ میں اپنی شوٹنگ کر رہے تھے۔ جب وہ وہاں سے باہرآئے تو مجھے فون ا?یا۔ میں نے ان سے کہا کہ ہمارے فوجی مارے گئے ہیں اور وہ ہماری غلطی سے مارے گئے ہیں۔ اس پر انھوں نے مجھے خاموش رہنے کے لیے کہا اور اس سلسلے میں بات نہ کرنے کی ہدایت دی۔واضح رہے کہ جموں و کشمیر کے پلوامہ میں 14 فروری 2019 کو سی ا?ر پی ایف کے قافلے پر ہوئے دہشت گردانہ حملے میں 40 جوان شہید ہو گئے تھے۔ اس حملے پر اْس وقت بھی کئی سوال اٹھائے گئے تھے، لیکن مرکزی حکومت نے خاموشی اختیار کر لی تھی۔بہرحال، ستیہ پال ملک نے گوتم اڈانی کے ایشو پر بھی پی ایم مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے ساتھ کے لوگ اڈانی ہیں، جنھوں نے تین سال میں اتنی دولت جمع کر لی کہ ملک کے سب سے امیر شخص ہو گئے۔ ملک نے دعویٰ کیا کہ جب میں گوا کا گورنر تھا تو میں نے وزیر اعلیٰ کی بدعنوانی کی شکایت وزیر اعظم سے کی اور نتیجہ یہ نکلا کہ مجھے ہٹا دیا گیا اور انھیں نہیں ہٹایا گیا۔ اس لیے میں پراعتماد ہوں کہ اپنی ناک کے نیچے (پی ایم مودی) بدعنوانی کراتے ہیں اور اس میں ان کی حصہ داری ہوتی ہے اور پوری رقم اڈانی کو جاتی ہے۔










