A five-judge constitution bench headed by Chief Justice DY Chandrachud delivered its verdict today

جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن دفعہ 370کی منسوخی کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر حمتی فیصلہ عدالت عظمیٰ نے سنایا

دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کا حکم آئینی طور پر درست ،اس میں ہمیں کوئی بددیانتی نظر نہیں / چیف جسٹس آف انڈیا

سرینگر // جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن دفعہ 370کی منسوخی کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر حمتی فیصلہ سناتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے کہا کہ دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کا حکم آئینی طور پر درست ہے۔اور اس میں ہمیں کوئی بددیانتی نظر نہیں آتی۔عدالت عظمیٰ نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو ہدایت دی کہ جموں کشمیر میں ستمبر 2024سے قبل اسمبلی انتخابات کرائیں جائے جبکہ مرکز ی سرکار کو کہا کہ جنتی جلدی ہو سکے جموں کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کیا جائے ۔ سٹار نیوز نیٹ ورک کے مطابق تمام تر قیاس آرائیوں اور طویل سماعت کے بعد جموں کشمیر سے 370 کی دفعات کو منسوخ کرنے کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر فیصلہ سناتے ہوئے عدالت عظمیٰ کی پانچ رکنی بنچ جس کی سربراہی چیف جسٹس آف انڈیا کر رہے تھے نے آخر کار اپنا فیصلہ سنایا ۔ فیصلہ سناتے ہوئے بینچ نے دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کا حکم آئینی طور پر درست قرار دیا ہے اور کہا کہ اس کو ختم کرنے میں ہمیں کوئی بددیانتی نظر نہیں آتی۔بینچ نے کہا کہ ہم آئین کے دفعہ 370 کو منسوخ کرنے کیلئے آئینی حکم جاری کرنے کے لیے صدر کے اختیار کے استعمال کو جائز سمجھتے ہیں۔جموں و کشمیر کی اندرونی خودمختاری دوسری ریاستوں سے الگ نہیں ہے۔سپریم کورٹ نے کہا’’دفعہ 370 ایک عارضی شق ہے۔ جموں و کشمیر کو ملک کی دیگر ریاستوں سے الگ اندرونی خودمختاری حاصل نہیں ہے۔ دفعہ370 کو ہٹانے کا حق جموں و کشمیر کے انضمام کیلئے ہے۔ جب صدر راج نافذ ہوتا ہے، پھر ریاستوں میں یونین کے اختیارات پر پابندیاں ہیں۔ اس کے اعلان کے تحت، مرکز کی طرف سے ریاست کی طرف سے لیا گیا ہر فیصلہ قانونی چیلنج کا شکار نہیں ہو سکتا۔ اس سے انتشار پھیل سکتا ہے۔لہذا دفعہ 370 ایک عارضی طاقت ہے‘‘ ، ۔فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا’’ دفعہ 370 غیر متناسب وفاقیت کی خصوصیت ہے نہ کہ خودمختاری کی، درخواست گزاروں نے صدارتی اعلان کو چیلنج نہیں کیا ہے۔ اعلان کے بعد صدر کے اختیارات کا استعمال عدالتی نظرثانی سے مشروط ہے۔سی جے آئی ڈی وائی چندرچوڑ نے کہا کہ اس مسئلہ پر تین فیصلے ہیں۔ سی جے آئی نے اپنے جسٹس گاوائی اور جسٹس سوریہ کانت کی جانب سے فیصلے لکھے ہیں، جب کہ جسٹس کول اور جسٹس کھنہ نے الگ الگ فیصلے لکھے ہیں۔ فیصلہ سناتے ہوئے، CJI DY چندرچوڑ نے کہا کہ جب جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کا وجود ختم ہو گیا، تو وہ خصوصی درجہ جس کے لیے دفعہ 370 نافذ کیا گیا تھا، بھی ختم ہو گیا۔ جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کی سفارش صدر پر پابند نہیں تھی۔سپریم کورٹ نے کہا کہ جموں و کشمیر کو جلد از جلد ریاست کا درجہ دیا جائے اور وہاں انتخابات کرائے جائیں۔ انہوں نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو ہدایت دی کہ جموں و کشمیر میں 30 ستمبر 2024 تک انتخابات ہونے چاہئیں۔ ریاست کو جلد از جلد واپس کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے لداخ کو یونین ٹیریٹری (یوٹی ) بنانے کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔خیال رہے کہ عدالت عظمیٰ نے دفعہ 370 کی دفعات کو منسوخ کرنے کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی 16 دن تک سماعت کے بعد 5 ستمبر کو اس کیس میں اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔