جموں و کشمیر کی ترقی کی رفتار میں مثالی تبدیلی ترقی کی رفتار کا ایک جائیزہ

سرینگر//کسی بھی انتظامیہ کیلئے عوامی خدمت اور حکمرانی کا سب سے نمایاں معیار پروجیکٹوں کی بروقت تکمیل ہے ۔ اس سے نہ صرف سرکاری خزانے کی لاگت کم ہوتی ہے بلکہ انتظامیہ پر شہریوں کا اعتماد بھی مضبوط ہوتا ہے ۔ جموں و کشمیر میں یونین ٹیر ٹری میں تبدیل ہونے کے بعد ترقی کی رفتار میں بے مثال بہتری دیکھی جا رہی ہے جس کی وجہ سے یہاں زیادہ تبدیلی آئی ہے ۔ دفعہ370 کی منسوخی کے بعد متعدد مرکزی قانون سازی کا نفاذ ۔ جیسا کہ درج فہرست قبائل اور دیگر روائتی جنگلات کے باشندوں ( جنگلات کے حقوق کی شناخت ) ایکٹ 2007 درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل ( مظالم کی روک تھام ) ایکٹ 1954 دیگر کے علاوہ جموں و کشمیر میں ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز کرنے کیلئے تیار ہے ۔ پروجیکٹ کی تکمیل ، رفتار اور سماجی ذمہ داری ،تعمیراتی لاگت میں زبردست کمی اور کام پر عملدرآمد کی تیز رفتار ٹریکنگ کے ساتھ جے اینڈ کے میں پروجیکٹ کی تکمیل میں تقریباً تین گنا اضافہ ہوا ہے ۔ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ مکمل کئے جانے والے ترقیاتی منصوبوں کی تعداد 2018-19 میں 9229 سے بڑھ کر 2021-22 میں تقریباً 40000 تک پہنچ گئی ہے ۔ پی ایم جی ایس وائی کے تحت جے اینڈ کے سڑک کی لمبائی کے لحاظ سے قومی سطح پر چوتھے مقام پر ہے جس میں 2353 پی ایم جی ایس وائی پروجیکٹس 16448 کلو میٹر پر محیط ہیں جو شروع سے اب تک مکمل ہوئی 2033 بستیوں کو جوڑ رہے ہیں ۔ 15 مارچ 2022 تک پی ایم جی ایس وائی کی 2480 سڑکیں تعمیر کی جا چکی ہیں جس کے نتیجے میں 6625 کلو میٹر بلیک ٹاپنگ ہو گئی ہے ۔ سب سے زیادہ یومیہ میکڈمائیزیشن جو کہ 2019-20 کے دوران اوسطاً 6.27 کلو میٹر فی دن سے اوسطاً 21092 کلو میٹر فی دن پر رواں مالی سال کے دوران حاصل کیا جا رہا ہے ۔ جموں و کشمیر میں پروجیکٹ کی تکمیل کی رفتار ، کارکردگی اور معیار کی گواہی دیتا ہے ۔ سرینگر ۔ کرگل ۔ لیہہ ہائی وے پر زوجیلا پاس سے 20 کلو میٹر دور زیڈ موڑ ٹنل جو کہ زیر تعمیر سرنگ ہے ، جیسی کئی سرنگوں کے پروجیکٹ حکومت نے شروع کئے ہیں ۔ 6.5 کلو میٹر لمبی سرنگ گگنگیر کو براہ راست کشمیر کے سونمرگ سے جوڑے گی ۔ زوجیلا ٹنل ایک اور زیر تعمیر سرنگ ہے جو سرینگر کے شمال مشرق میں این ایچ ون کے سرینگر ۔ لیہہ سیکشن پر واقع ہے جس میں بال تل اور مینا مرگ کے درمیان 14.2 کلو میٹر سڑک کی سرنگ ہے ۔
این ایچ 144 اے اکھنور ۔ پونچھ سیکشن پر 4 سرنگیں تعمیر کی جائیں گی ۔ 10.30 کلو میٹر سنگھ پورہ ۔ وائلو سرنگ کی منظوری دی گئی ہے اور اسے جلد از جلد مکمل کیا جائے گا ۔ سمارٹ سٹیز مشن ۔ جے اینڈ کے کی خواہش سے Achiever کی طرف تبدیلی ۔ جموں اور سرینگر کے دارالحکومتوں کے سمارٹ سٹیز مشن کے دائرے میں لایا گیا ہے جس میں تقریباً 276 منظور شدہ پروجیکٹس ہیں ۔ 200 ای بسیں ، 2 یونیفائیڈ میٹرو پولیٹن ٹرانسپورٹ اتھارٹیز ( یو ایم ٹی ایز ) کی تشکیل ، جموں اور سرینگر کیلئے لائٹ میٹرو ریل ٹرانزٹ سسٹم اور کئی دوسرے پروجیکٹ ان شہروں میں شہریوں کے معیار زندگی اور سہولت کو بدلنے کیلئے تیار ہیں ۔ اے ایم آر یو ٹی کے ساتھ سمارٹ سٹیز مشن جموں و کشمیر کے شہری منظر نامے کو بدل دے گا ۔ ترقی کے یہ مراکز حقیقی ترقی کا محور ثابت ہوں گے اور جموں و کشمیر یو ٹی کی کثیر جہتی ترقی کیلئے روابط کی حوصلہ افزائی کریں گے ۔
کشمیر سے ریل رابطہ
اودھمپور ۔ سرینگر ۔ بارہمولہ ریل لنک ( یو ایس بی آر ایل ) پروجیکٹ جو 2023 تک مکمل ہونا ہے ، کشمیر کو ملک کے ریل نیٹ ورک سے جوڑے گا ۔ چناب ریلوے پُل پر جاری پیش رفت ، جو دُنیا میں سب سے اونچا ہونے کیلئے مقرر ہے ، انجی کھڈ پُل ، ہندوستان کا پہلا کیبل سٹیڈ ریلوے پُل ، یو ایس بی آر ایل کے تحت تعمیر کئے جانے والے کئی تاریخی سرنگوں اور پلوں میں سے ترقی کے سفر کیلئے ایک موزوں خراجِ تحسین ہے ۔ جس کا آغاز جے اینڈ کے نے کیا ہے ۔ یہ کہنا مبالغہ آرائی نہیں ہو گا کہ کشمیر کے جذباتی اور فزیکل انضمام کا ملک کے باقی حصوں کے ساتھ ملاپ ہمارے یو ٹی اور قوم کی تاریخ کا ایک اہم لمحہ ہے ۔
پاور جنریشن ۔ جموں و کشمیر کے 1.25 کروڑ باشندوں کے خوابوں کو تقویت دینا پچھلے 70برسوں میں جموں و کشمیر صرف 3500 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے میں کامیاب رہا ہے ۔ اب پیداواری صلاحیت کو 3 سال میں دوگنا اور 7 برسوں میں تین گنا کر دیا جائے گا ۔ 2019 سے 2021 کے درمیان بجلی کی ترسیل کی صلاحیت میں بڑی چھلانگ کے ساتھ اور بجلی کی تقسیم میں اصلاحات کے ساتھ ’ ہر گھر میں روشنی ‘ کا ہدف اب کوئی دور کا خواب نہیں رہا ۔ جموں و کشمیر کی ترقی کی رفتار میں یہ مثالی تبدیلی کئی گورننس اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ساتھ ساتھ مقامی اداروں کو اختیارات کی تاریخی منتقلی کا نتیجہ ہے ۔ سرکاری اداروں کی صلاحیت اور کارکردگی میں عوام کے اعتماد کو تقویت دینا جموں و کشمیر کی ترقی کی کہانی کا سنگِ بنیاد ہے ۔ سٹیزن سینٹرک گورننس اور جوابدہی ، جو ان تبدیلیوں سے واضح ہے ، ’ بدلتا جموں کشمیر ‘ کیلئے ایک مناسب خراجِ تحسین ہے ۔