منشیات اور نشہ اور ادویات کے بڑھتے پھیلائو سے نوجوان تباہ:امامیہ فیڈریشن کشمیر

جموں و کشمیر میں 6لاکھ افراد منشیات کے عادی، حکومتی اعداد و شمارمیں انکشاف

سرینگر//جموں و کشمیر کی آبادی کا ایک بڑا حصہ منشیات کی لت میں مبتلا ہو رہا ہے جس کی وجہ سے سماج زی حس طبقے کے ہوش اڑ گئے ہیں ۔ سرکاری اعداد شمار کے مطابق 6لاکھ افراد منشیات کے عادہوئے ہیں جن میں 90فیصد تعداد 17 سے 33 سال کے درمیان ہے ۔ مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق مرکز کے زیر انتظام جموں و کشمیرمیں آبادی کا ایک بڑا حصہ منشیات کا عادی بن چکا ہے۔ جن میں نوجوان سب سے زیادہ شامل ہیں منشیات کی لت کی لپیٹ میں ہے ۔جموںو سے شائع ہونے والے ایک انگریزی اخبار بتایاچیف سکریٹری ڈاکٹر ارون کمار کی صدارت میں جمعہ کو نارکو کوآرڈینیشن سینٹر کی ریاستی سطح کی کمیٹی کی پہلی میٹنگ کے دوران بتایا گیا کہ کئے گئے سروے کے مطابق جموں و کشمیر میں 6 لاکھ افراد منشیات سے متاثر ہیں۔ انہوں نے بتایا یونین ٹیریٹری کی تقریباً 4.6% آبادی ہیں جن میں سے 90% استعمال کرنے والے 17سے33 سال کی عمر کے ہیں۔بتایا گیا کہ جموں و کشمیر گولڈن کریسنٹ کے قریب واقع ہے جو دنیا کی 80فیصد افیون پیدا کرتا ہے اور اسے منشیات کی غیر قانونی تجارت کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔میٹنگ میں جموں و کشمیر کے مرکزی علاقے میں منشیات کی لعنت سے نمٹنے کے لیے وسیع پروجیکٹ کی شکل کا خاکہ پیش کیا۔چیف سکریٹری نے جموں و کشمیر میں پوست اور بھنگ کی پیداوار کے ساتھ ساتھ سرحد پار نقل و حمل سے متعلق اعداد و شمار مرتب کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ جموں و کشمیر میں ان منشیات کے مقامی پیداوار اورکراس باڈر سے آئے ہوئے منشیات کے حوالے سے مکمل جانکاری کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ اس بدت کا خاتمہ کیا جا سکے۔انہوں نے کہاپوست کی غیر قانونی کاشت کو روکنے کے لیے، ڈاکٹر مہتا نے انسداد منشیات ٹاسک فورس (اے این ٹی ایف) کو ایکسائز اور زراعت کے محکموں کے ساتھ مل کر ہدایت کی۔ متوقع کاشت والے علاقوں کا نقشہ بنانا اور نجی اور سرکاری زمینوں پر غیر قانونی فصل کی تباہی کے لیے تدارکاتی اقدامات کرنا۔ اے این ٹی ایف سے مزید کہا گیا کہ وہ اگلے سیزن میں اس طرح کی کاشت کو روکنے کے لیے ایکشن پلان تیار کرے۔اس بات کا مشاہدہ کرتے ہوئے کہ جموں و کشمیر میں حالیہ برسوں کے دوران استعمال اور لت کے لحاظ سے منشیات کی لعنت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، چیف سکریٹری نے متعلقہ افراد کو ہدایت دی کہ وہ منشیات سے متعلقہ مقدمات میں سزا کی شرح کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ منشیات سے متاثرہ افراد کی مناسب مشاورت اور بحالی پر توجہ دیں۔ جموں و کشمیر منشیات کی دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے کیونکہ بین الاقوامی ڈرگ مافیا لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور بین الاقوامی سرحد (آئی بی) کے ذریعے منشیات کی اسمگلنگ کر رہا ہے تاکہ اس خطے کا ایک چھوٹا حصہ اور بقیہ کھیپ پڑوسی پنجاب میں فروخت کی جا سکے۔خیال رہے سال2020میں ایک سروے سامنے آئی تھی جس میں گورنمنٹ میڈیکل کالج سری نگر کے انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز نے حال ہی میں سری نگر اور اننت ناگ میں ایک پائلٹ سروے کی، یہ جاننے کے لئے کہ یہاں پر منشیات کا استعمال کس حد تک ہورہا ہے۔ سروے کے نتائج سب کے لئے پریشان کن ثابت ہورہے ہیں۔ سروے کے انچارج ڈاکٹر یاسر نے بتایا کہ سروے میں نشے کی لت میں پڑے 300 افراد پر تحقیق کی گئی اور یہ پتہ چلا کہ ان دو شہروں میں ہیروئن اور افیم کی دیگر نشہ اور ادویات آسانی سے میسر ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی پتہ چلا کہ ان شہروں میں دو فیصد آبادی منشیات میں ملوث ہے۔ روزانہ ساڑھے تین کروڑ روپئے صرف اننت ناگ اور سری نگر میں ہی منشیات کی خرید پر خرچ کئے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا تھااس سے بڑھ کر پریشانی کا معاملہ یہ ہے کہ منشیات کی لت میں پڑے 45فیصد افراد اپنی رگوں میں ہیروین انجیکشن کے ذریعے پہنچاتے ہیں اور کئی لوگ ایک ہی سوئی کا استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے انھیں ہیپاٹایٹس سی اور کئی دیگر خطرناک بیماریاں لگ جاتی ہیں۔ ڈاکٹر یاسر نے کہا کہ سروے کے دوران انھیں پتہ چلا کہ کئی بچے اس لت میں پڑے ہیں مگر زیادہ تر نوجوان اس کی زد میں ہیں اور وہ بھی پڑھے لکھے اور اچھے ہنر مند نوجوان۔ یعنی جو لوگ سماج میں سب سے زیادہ فایدہ مند ہیں۔