court

جموں و کشمیر میں جلدازجلد اسمبلی انتخابات کرانے کی درخواست

11جولائی کو370معاملہ کی شنوائی کے پیش نظر سماعت سے انکار

سری نگر//سپریم کورٹ آف انڈیا نے جموں و کشمیر میں جلدازجلد اسمبلی انتخابات کرانے کیلئے الیکشن کمیشن آف انڈیا اور مرکزی حکومت کو ہدایت دینے کی درخواست پر سماعت جمعرات کو ملتوی کر دی۔جے کے این ایس کوملی تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ ، جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس منوج مشرا پر مشتمل عدالت عظمیٰ کے بنچ نے نوٹ کیا کہ آرٹیکل370 کی منسوخی کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کو 11 جولائی کو سماعت کیلئے درج کیا گیا تھا۔ ہم اسے ملتوی کر دیں گے۔تین رکنی اعلیٰ سطحی بنچ نے کہاکہ دفعہ370 کی منسوخی کا معاملہ11 جولائی کو ہدایات کیلئے درج ہے۔درخواست گزاروں کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل نے سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ کے تین رُکنی بینچ کے سامنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک الگ معاملہ ہے کیونکہ مکینوں یعنی جموںوکشمیرکے باشندوں کو حق رائے دہی سے محروم کر دیا گیا ہے ۔انہوںنے عدالت عظمیٰ پر زور دیا کہ وہ اس معاملے میں نوٹس جاری کرے۔تاہم چیف جسٹس کی سربراہی والی تین رکنی بنچ نے نوٹس جاری کرنے سے انکار کرتے ہوئے معاملہ ملتوی کر دیا۔ سپریم کورٹ آف انڈیا ، نیشنل پینتھرس پارٹی (JKNPP) کے لیڈروں منجو سنگھ اور ہرش دیو سنگھ کی طرف سے دائر درخواست کی سماعت کر رہی تھی جس میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کو بغیر کسی تاخیر کے جموں و کشمیر میں جلدازجلد اسمبلی انتخابات کرانے کی ہدایت کی درخواست کی گئی تھی۔قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات آخری مرتبہ2014 میں25 نومبر سے20 دسمبر 2014 تک5مرحلوں میں منعقد ہوئے تھے،اوراسکے نتیجے میں سابق وزیراعلیٰ مرحوم مفتی محمدسعید کی سربراہی میں پی ڈی پی ،بے بی پی کی ملی جلی سرکار تشکیل پائی تھی،جوجون 2018میں بھاجپا کی جانب سے پی ڈی پی کی حمایت واپس لینے کے بعد گر گئی تھی ،تب محبوبہ مفتی سابق ریاست جمو ں وکشمیرکی وزیراعلیٰ تھیں۔ جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کواُسوقت کے گورنر ستیہ پال ملک نے 21 نومبر 2018 کو تحلیل کر دیا۔اور جموں وکشمیرمیں گورنر راج نافذکردیاگیا ،جو5اگست 2019کودفعہ370کی منسوخی اور جموں وکشمیرکو2یونین ٹریٹریوں جموں وکشمیر اور لداخ میں تقسیم کرنے تک رہا ،اوراسکے بعد سے جموں وکشمیرمیں صدر راج نافذہے۔