ڈیڑھ برس میں اسکولوں اور کالجوں میں رجحانِ تعلیم میں نمایاں بہتری// سکینہ ایتو
سرینگر//یو این ایس// جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ ایتونے کہا ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ برس کے دوران جموں و کشمیر کے اسکولی اور اعلیٰ تعلیمی شعبوں میں طلبہ کے داخلوں میں 22 فیصد سے زائد اضافہ درج کیا گیا ہے، جو تعلیمی نظام میں بہتری، بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی اور حکومتی پالیسیوں کے مثبت نتائج کی عکاسی کرتا ہے۔ٹنگمرگ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر تعلیم نے کہا کہ ماضی میں کم داخلوں کے باعث تعلیمی اداروں کو یکجا کرنے یعنی ’’کلبنگ‘‘ کی پالیسی اپنانی پڑی تھی اور دو ہزار پانچ سو سے زائد ادارے اس عمل سے متاثر ہوئے تھے۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے کہا،’’ایک وقت ایسا تھا جب کم داخلوں کی وجہ سے لوگوں کو لگتا تھا کہ تعلیمی ادارے بند ہو رہے ہیں، لیکن اب صورتحال بدل چکی ہے اور طلبہ کی دلچسپی دوبارہ تعلیم کی طرف بڑھ رہی ہے۔‘‘سکینہ ایتو نے کہا کہ حکومت نے تعلیمی اداروں کے بنیادی ڈھانچے، اساتذہ کی دستیابی، کھیل کے میدانوں اور دیگر سہولیات کی بہتری پر خصوصی توجہ دی تاکہ طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو تعلیم سے جوڑے رکھنا اور انہیں منشیات جیسی سماجی برائیوں سے دور رکھنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔وزیر تعلیم کے مطابق،’’ہم نے کوشش کی کہ نوجوان تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ وابستہ رہیں تاکہ وہ منشیات کے خطرناک رجحان سے محفوظ رہ سکیں۔‘‘اانہوں نے مزید کہا کہ حکومت تعلیمی نصاب اور مضامین میں بھی تبدیلیاں لا رہی ہے تاکہ طلبہ کو ایسے مضامین فراہم کیے جائیں جو موجودہ دور کے تقاضوں اور روزگار کے مواقع سے ہم آہنگ ہوں۔سکینہ ایتو نے بتایا کہ ’’سمگرہ شکشا‘‘ اسکیم کے تحت اس وقت تقریباً 15 ہزار ترقیاتی کام جاری ہیں، جن میں اسکول عمارتوں کی تعمیر، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور تعلیمی ماحول کی بہتری شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں تعلیمی شعبے میں بدانتظامی اور نگرانی کی کمی جیسے مسائل موجود تھے، تاہم موجودہ حکومت نے سخت احتساب اور مؤثر مانیٹرنگ کے ذریعے ان مسائل کو کافی حد تک حل کیا ہے۔وزیر تعلیم نے صحت کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میدان میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی اسپتالوں میں پہلے بنیادی سہولیات تک موجود نہیں تھیں اور بعض مقامات پر اسپتالوں کے احاطوں میں آوارہ جانور گھومتے دکھائی دیتے تھے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے اب صحت کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، ایم آر آئی، کیتھ لیب اور سی ٹی اسکین جیسی جدید مشینوں کی تنصیب اور ڈاکٹروں کی دستیابی بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی ہے۔سکینہ ایتو نے کہا،’’ہم چاہتے ہیں کہ عوام خود تبدیلی محسوس کریں اور انہیں یقین ہو کہ یہ حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ ہم جھوٹے وعدے نہیں کرتے بلکہ جو کہتے ہیں اسے عملی شکل دیتے ہیں۔‘‘










