لشکر طیبہ، جیش، آئی ایس آئی ایس، القاعدہ جموں و کشمیر،اوردیگر ہندوستانی علاقوں میں سرگرم

جموں و کشمیرجنگجوئوں کے لئے اسلحہ اور فنڈز پنجاب سرحد کے ذریعے پہنچانے کا انکشاف

سرینگر//جموں و کشمیر میںملٹنسی پر قابو پانے کے مقصد کے ساتھ، نو تشکیل شدہ ٹیرر مانیٹرنگ گروپ (ٹی ایم جی) وادی سے باہر جائے گا اور مقامی پولیس کے ساتھ مل کر پڑوسی ریاست پنجاب میں پیشگی کارروائی کرے گا۔سیکورٹی فورسز کے ذرائع نے بتایا کہ مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں اور ریاستی پولیس کی حالیہ تحقیقات کے مطابق جموں و کشمیر میں ملی ٹنٹوںکے نیٹ ورکس کے لیے اسلحہ اور فنڈز پنجاب کی سرحد کے ذریعے پہنچانے کا انکشاف ہوا ہے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ ٹی ایم جی، پنجاب پولیس کے ساتھ مل کر، زیر زمین کارکنوں کو کشمیر میں داخل ہونے سے پہلے پکڑنے کے لئے اقدامات کر رہی ہے ۔انٹیلی جنس معلومات کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) خالصتان تحریک کو بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور جنگجوئوںکے نیٹ ورک کو بحال کرنے کے لیے کینیڈا، امریکہ اور برطانیہ میں چھپے ہوئے مختلف سکھ عسکریت پسندوں کی مدد کر رہی ہے۔ذرائع نے مزید کہا کہ ٹی ایم جی، پنجاب پولیس کے ساتھ مل کر اسلحہ اور رقومات کی آمد کو روکنے کے لیے پیشگی اقدامات کرے گی، جبکہ دونوں ریاستوں کی سیکیورٹی فورسز اپنے اپنے علاقوں میں الٹرا کو بے اثر کر دیں گی۔سیکورٹی گرڈ کے ایک ذریعے نے بتایا کہ پنجاب اور جموں کے علاقوں میں اسلحہ اور منشیات کی سپلائی کرنے والے ڈرونز کو مار گرائے جانے کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں لیکن ان میں سے کچھ کے نگرانی کے نظام سے بچنے کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ٹی ایم جی دیگر مرکزی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر وادی میںجنگجوئوں کو بے اثر کرنے میں بہت موثر رہی ہے۔ اس لیے اس کا دائرہ مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے باہر بڑھا دیا گیا ہے۔اس نے درست معلومات کی بنیاد پر ہندوستانی سرحد کے چند کلومیٹر کے اندر دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائیوں کی کامیابی سے قیادت کی ہے۔مرکزی انٹیلی جنس ایجنسیوں، سی آر پی ایف اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں پر مشتمل یہ گروپ گزشتہ ماہ جموں و کشمیر میں شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد تشکیل دیا گیا تھا۔مرکزی زیر انتظام علاقے کے اپنے حالیہ دورے کے دوران، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سیکورٹی فورسز کو ہدایت دی تھی کہ وہ وادی سے دہشت گردی کا صفایا کرنے کے لیے ہر ممکن کارروائی کریں۔