سری نگر//چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے جموں و کشمیر میں دریائے جہلم اور چناب پراِن لینڈ واٹر ٹرانسپورٹ شروع کرنے اور مرکزی حکومت کی پی ایم اِی۔ڈرائیوسکیم کے تحت جموںوکشمیر میں الیکٹرک موبلٹی کے بنیادی ڈھانچے کے آغاز اور عمل آوری کی صورتحال کا جائزہ لیا۔میٹنگ میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈِی) کے علاوہ سیکرٹری ٹرانسپورٹ، صوبائی کمشنر جموں/کشمیر، وائس چیئرمین ایل سی ایم اے ، ان لینڈ واٹر ویز اَتھارٹی آف انڈیا (آئی ڈبلیو اے آئی) کے نمائندے اور دیگر متعلقہ اَفسران نے شرکت کی۔چیف سیکرٹری نے پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے تمام معاون بنیادی ڈھانچے کی بروقت تکمیل کی ضرورت پر زور دیا۔ اس میں ٹرمینلز، رَسائی کی سہولیات، نیویگیشن کے اِنتظامات اور یوٹیلیٹی شفٹنگ کے سلسلے میں حائل رُکاوٹوں کو دور کرنا شامل ہے تاکہ واٹر ٹرانسپورٹ کو مقررہ مدت کے اندر چلایا جاسکے۔ دوران میٹنگ چیف سیکرٹری کو دریائے جہلم (این ڈبلیو۔49)، دریائے چناب (این ڈبلیو۔26) اور دریائے راوی (این ڈبلیو ۔84) کے نشاندہی شدہ حصوں میںاِن لینڈ واٹر ٹرانسپورٹ کی سہولیات کی ترقی کے لئے جاری پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔اِس موقعہ پر سیکرٹری ٹرانسپورٹ اَونی لواسا نے میٹنگ کو جانکاری دِی کہ دریائے جہلم میں سنگم سے گنڈ پرنگ تک 106 کلومیٹر طویل کروز کوریڈور کو ترقی کے لئے نشاندہی کی گئی ہے۔ مرہم (سنگم)، پانتھہ چوک، زیرو برج، امیرا کدل، چھتہ بل، سنبل اور گنڈ پرنگ سمیت دیگر سٹریٹجک مقامات پر 11 ٹرمنل مقامات کے لئے زمین کی نشاندہی کی گئی ہے۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ دریائے جہلم کے راستے پر بلا تعطل نیویگیشن کو یقینی بنانے کے لئے مقامی کوفر ڈیموں کو ہٹانا ایک اہم ضرورت ہے ۔ محکمہ تعمیراتِ عامہ (پی ڈبلیو ڈِی) کو ایسے 52 ڈھانچوں کو ہٹانے کا کام سونپا گیا ہے جن میں سے 18 پہلے ہی صاف کئے جا چکے ہیں۔دریائے چناب پر رِیاسی اور اَکھنور قلعہ کے درمیان 9 کلومیٹر طویل حصے کو کروز پر مبنی واٹر ٹرانسپورٹ کے لئے نشان زد کیا گیا ہے جبکہ جموں کے سوہار میں دریائے راوی کے 15 کلومیٹر حصے کو بھی اسی مقصد کے لئے ترقی دی جا رہی ہے۔میٹنگ کو مزید بتایا گیا کہ اِن لینڈآبی گزرگاہوں کے اَتھارٹی آف اِنڈیا (آئی ڈبلیو اے آئی) نے 10 خصوصی طور پر تیار کردہ ہائبرڈ ایکو ویسلز کی خریداری کا ٹینڈر جاری کیا ہے جن میں سے ہر ایک میں 20 اَفراد کے مسافروں کی گنجائش ہے۔ ان کشتیوں کی فراہمی مارچ 2027 تک متوقع ہے۔بعد میں چیف سیکرٹری نے جموں و کشمیر میں پی ایم اِی۔ڈرائیو سکیم کی عمل آوری کا بھی جائزہ لیاجس کے تحت اِنتظامیہ الیکٹرک موبائلٹی کی جانب منتقلی کی معاونت کے لئے ایک مضبوط چارجنگ ماحولیاتی نظام قائم کرنے کے لئے کام کر رہی ہے۔میٹنگ کو جانکاری دِی گئی کہ جموں و کشمیر میں 50 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جوپبلک الیکٹرک وہیکل چارجنگ سٹیشنوں کی تنصیب کے لئے تکنیکی طور پر موزوں پائے گئے ہیں۔ان میں جموں میں 17، کٹھوعہ میں 5، راجوری میں 4، اُودھمپور میں 3، ڈوڈہ میں 4، رام بن اور رِیاسی میں 2 اور سانبہ میں 1 سائٹیں شامل ہیں۔ اِسی طرح صوبہ کشمیر میں شناخت شدہ مقامات میں سری نگر میں 4، بارہمولہ میں 3 اور اننت ناگ، بڈگام، گاندربل، پلوامہ اور کپواڑہ میں سے ایک ایک شامل ہے۔
چیف سیکرٹری کو گراس کوسٹ کنٹریکٹ (جی سی سی) ماڈل کے تحت 200 الیکٹرک بسوں کی خریداری کی تجویز سے بھی آگاہ کیا گیا۔ اس تجویز کو مرکزی حکومت کی سطح پر اصولی منظوری مل چکی ہے اور اسے کنورجنس انرجی سروسز لمیٹڈ (سی اِی ایس ایل) کے ذریعے خریداری کے لئے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔چیف سیکرٹری نے تمام متعلقہ محکموں اور ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ وہ قریبی تال میل کے ساتھ کام کریں تاکہ الیکٹرک بسوں کی تعیناتی سے پہلے چارجنگ انفراسٹرکچر، بجلی کی کنکٹویٹی، زمین کی ضروریات اور دیگر معاون سہولیات کو یقینی بنایا جا سکے۔اُنہوں نے دونوں اَقدامات کو جموں و کشمیر کے وسیع تر سیاحتی، شہری آواجاہی اور ماحولیاتی دیرپائی کے اہداف کے ساتھ مربوط کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے متعلقہ محکموں کو ہر مرحلے پر سخت ٹائم لائنز اور مسلسل نگرانی برقرار رکھنے کی ہدایت دی۔چیف سیکرٹری نے اِس بات پر زور دیا کہ یہ اَقدامات واضح،دیرپا اور عوام دوست ٹرانسپورٹ حل میں تبدیل ہونے چاہئیں اور واٹر ٹرانسپورٹ منصوبے اور الیکٹرک موبلٹی اِنفراسٹرکچر کو ہدف کے مطابق مقررہ وقت میں عملانے کے لئے مربوط انداز میں آگے بڑھایا جانا چاہیے۔










