جموں وکشمیر یوٹی میں مگس بانی کے شعبے کو فروغ دینے کیلئے 46.65کروڑ روپے والے پروجیکٹ سے نمایاں پیش رفت کی توقع ہے

شہد کی پیداوار کو 66,100 کوئنٹل تک بڑھانے کیلئے 1,43,000نئی مکھیوں کی کالونیاں قائم جائیں گی

سری نگر//حکومت جموںوکشمیر کلسٹر کی تشکیل سے شہد کی مکھیو ں کی کالونیوں کی تعداد میں اِضافہ کرنے کے لئے کثیر الجہتی حکمت عملی پر کا م شروع کیا ہے۔ بی ۔پرینیورشپ اور بی ۔سٹارٹ اَپس کی حوصلہ اَفزائی کرنے کے علاوہ فصل کے بعد کے اِنتظام ، ویلیو ایڈیشن اور مارکیٹنگ کے لئے بنیادی ڈھانچہ تیارکیا ہے۔جموںوکشمیر میں بی۔کیپنگ یا مگس بانی قدیم روایات میں سے ایک رہا ہے ۔جواَب حکومتوں کی ترقی پسند پالیسیوں اور اَقدامات سے ایک منافع بخش کاروبار میں تبدیل ہو رہاہے ۔جموںوکشمیر یوٹی اِنتظامیہ ،سکاسٹ جموں ، سکاسٹ کشمیر کے اَپنے کرشی وِگیان کیندروں اور محکمہ زراعت کے ذریعے کسانوں میں تکنیکی مہارتیں فراہم کر رہی ہیں ۔اِس کے علاوہ مگس پالن کو فروغ دینے کے لئے کسانوں کو سبسڈی کی بنیاد پر شہد کی مکھیوں کے چھتے بھی فراہم کئے جاتے ہیں۔جموںوکشمیر یوٹی میں اپیکلچر ڈیولپمنٹ سکیموں سے بی۔ کیپرس سرکاری سہولیات میں خام شہد کی مفت پروسسنگ کر رہے ہیں۔معیاری بنانے کے لئے کم وقت میں رکھنے والوں کو مارکیٹ میں بہتر منافع کے لئے شہد کی جانچ اور لوگوسٹیمپنگ کی خدمات بھی پیش کی جاتی ہے ۔یہ پروسسنگ یونٹ شہد کی نمی کو کم کرنے ، اسے فلٹر کرنے اور اسے بوتل میں ڈالنے کا واحد حل ہیں۔اَپنی کمائی کو کئی گنا بڑھانے کے لئے نئے دُور کے زرعی پرینیور شہد کی قدر میں اِضافہ کر رہے ہیں جیسے صابن ، موم بتیاں ، کاسمیٹکس ، آیورویدک اَدویات وغیرہ جن کی اِنڈیا مارکیٹ میں بہت زیادہ مانگ ہے ۔ اِس کے نتیجے میں صارفین صحت خطرات سے دور غیر زہریلے اور نامیاتی مصنوعات کی طرف جا رہے ہیںجو اِس شعبے میں نوجوانوں کے لئے ایک منافع بخش منصوبہ شروع کرنے کا ایک بڑا موقع فراہم کر رہے ہیں۔یہ بات قابلِ ذِکر ہے کہ حکومت جموںوکشمیر نے شہد کی سالانہ پیداوار کو 66,100کوئنٹل تک بڑھانے کے لئے 46.65 کروڑ روپے کا ’’مگس بانی کا فروغ ‘‘ پروجیکٹ شروع کیا ہے۔ایک سرکاری ترجمان کے مطابق شہد کی مکھیوں کی آبادی میں 333فیصد’’ مگس بانی کے فروغ ‘‘منصوبے کے تحت اِضافہ کیا جائے گا جس سے خطے میں شہد کی پیداوارکو بڑا فروغ ملے گا۔ریرنگ کا موجودہ نظام کم پیداواری ہے جس کے معیار میں بہتری کا کوئی طریقۂ کار نہیں ہے ۔ لہٰذا، کلسٹروں ، سیلف ہیلپ گروپس اور فارمر پروڈیو سر آرگنائزیشنوں سے شہد کی مکھیوں کی کالونیوں کو مضبوط اور تقسیم کرنے پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے ۔ اِس کے علاوہ 1,43,000 نئی مکھیوں کی کالونیاں قائم کی جائیں گی جس سے شہد کی پیداوار 66,100 کوئنٹل تک پہنچ جائے گی۔آفیسر نے مزید کہا کہ اعلیٰ معیار کے شہد کی پیداوار بڑھانے کے لئے جدید دواپی تھراپی سینٹروں اور جی آئی لیبارٹریاں قائم کی جائیں گی۔اِس کے علاوہ جی آئی لیبز سے نگرانی اور ٹریس ایبلٹی کی جائے گی اور پولی نیشن کی سہولیات کو بڑھانے کے لئے 20کسٹم ہائرنگ سینٹروں ( سی ایچ سیز) بھی قائم کئے جائیں گے۔پروجیکٹ کی عمل آوری کے بعد جموں و کشمیر میں مستقل مزاجی، صلاحیت کی تعمیر اور فصل کے بعد کے انتظام کے لیے ایک مکمل سینٹر آف ایکسیلنس ہوگا۔پروجیکٹ کے تحت شہد کی قیمت میں اضافے کے ساتھ ساتھ شہد کی مکھیوں کی مقامی مکھیوں کا استعمال کرتے ہوئے بی۔سیکٹر کی مؤثر ترقی کا تصور بھی کیا جا رہا ہے۔آفیسر نے کہا،’’ پروجیکٹ کے تحت ضمنی مصنوعات کی فروخت سے 475 کروڑ روپے اِضافی آمدنی حاصل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے ۔قیمت میں اِضافہ ضمنی مصنوعات کی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے ممکن ہو گا۔‘‘اُنہوں نے مزید کہا ،’’ منصوبے کے تحت آنے والے پانچ برسوں میں 86 اَنٹرپرائزز قائم کئے جائیں گے ۔جموںوکشمیر میں ماہی پروری کی صلاحیت کو مکمل طور پر اِستعمال نہیں کیا گیا ہے ۔لہٰذا ، اِس پروجیکٹ کے تحت ہمارے مگس پالن کی ترقی کے لئے بڑی مقدار میں اَچھے معیار کا شہد تیار کرنے کے لئے اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں۔‘‘