کیجول لیبرز کے طو رپر کام کرنے والے صفائی کرمچاریوں کو ریگولرائزیشن کمیٹی کے ذریعے جانچ کی جائے گی
جموں//حکومت نے کہا کہ جموں و کشمیر کے مختلف شہری بلدیاتی اِداروں (یو ایل بیز) میں کیجول صفائی کرمچاریوں کو مستقل کرنے کے معاملوں کی جانچ یومیہ اُجرت پر کام کرنے والوں کو مستقل کرنے کے لئے تشکیل دی گئی کمیٹی کے ذریعے کی جائے گی۔وزیر برائے صحت سکینہ اِیتو نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی جانب سے بھارت بھوشن کے ایک سوال کا جواب دے رہی تھیں۔انہوں نے ایوان کو بتایا کہ اِس وقت جموں و کشمیر کے مختلف بلدیاتی اِداروں میں 7,353 صفائی ملازمین کام کر رہے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ ان میں سے کئی کارکنان 10 سے 15 برس کی مدت پوری کر چکے ہیں اور مستقل پوزیشن پر کام کر رہے ہیں، جب کہ کچھ صفائی کرمچاری ابھی بھی کیجول لیبر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔وزیر موصوفہ نے کہا کہ حکومت نے ہمیشہ مزدوروں کے حق میں پالیسی اَپنائی ہے جو قانونی دائرے میں رہتے ہوئے عمل میں لائی جاتی ہے۔ تاہم، ریاست کرناٹک میں سپریم کورٹ کے فیصلے بمقابلہ اوما دیوی کے پیش نظر حکومت کی مستقلی کی پالیسی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اِس فیصلے میں سپریم کورٹ نے واضح کیا تھا کہ کسی بھی ایگزیکٹیو آرڈر،قانونی حکم یا قانون سازی کے ذریعے مستقلی کی پالیسی آئین کے آرٹیکل 14، 15 اور 16 کی خلاف ورزی ہوگی۔ وزیر نے کہا کہ’’ نمستے سکیم‘‘کے تحت صفائی کرمچاریوں کو مختلف حفاظتی سامان فراہم کئے گئے ہیںجن میں پی پی اِی کٹس، گم بوٹس، دستانے، ماسک وغیرہ شامل ہیں۔اِس موقعہ پربلونت سنگھ منکوٹیہ، ریاض احمد خان اور معراج ملک نے ضمنی سوالات اُٹھائے۔










