mustard oil

جموں وکشمیر کی تیل صنعت1,290 کروڑ روپے کے اَخراجات سے ایچ اے ڈی پی کے تحت اہم تبدیلی کا مشاہدہ کر ے گی

جموں//جموںوکشمیر کی تیل صنعت محکمہ زرعی پیداوار کی طرف سے ہولیسٹک ایگری کلچر ڈیولپمنٹ پروگرام ( ایچ اے ڈی پی ) کے تحت متعدد اقدامات کی عمل آوری سے ایک اہم تبدیلی کا مشاہدہ کرے گی۔سابق ڈی جی آئی سی اے آر ڈاکٹر منگلا رائے کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی کی حالیہ جاری کردہ حتمی رِپورٹ نے ہولیسٹک ایگری کلچر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت 29 پروجیکٹوں کی عمل آوری کے لئے روڈ میپ تیار کیا ہے ۔یہ بات قابلِ ذِکر ہے کہ منظور شدہ منصوبوں میں تیل کے بیجوں کی کاشت کو فروغ دینے پر توجہ دی گئی ہے ۔تیل کے بیج کے منصوبے میںمتعدد اقدامات شامل ہیں جن کا مقصد تیل کے بیج کی پیداوار اور پیداواری صلاحیت کو بڑھانا ہے جس کی تخمینہ سالانہ پیداوار 1,290 کروڑ روپے ہے۔ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ زرعی پیداوار اَتل ڈولو نے اِس بات کا اعادہ کیا کہ جموں وکشمیر تیل صنعت کو نمایاں فروغ ملنے والا ہے۔محکمہ ایک کثیر جہتی پہل کوعملائے گاجس کا مقصد خطے میں تیل کے بیجوں کی کاشت کو فروغ دینا ہے جس پر 31 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔توقع ہے کہ اِس تین سالہ منصوبے سے روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوں گے اور خطے کی مجموعی اقتصادی ترقی میں مدد ملے گی۔واضح رہے کہ ہندوستان میں تیل کے بیجوں کی پیداوارزراعت کا ایک لازمی شعبہ ہے جو ملک کی معیشت میں نمایاںحصہ ادا کر رہا ہے ۔ہندوستان تقریباً 37سے 38 ملین میٹرک ٹن سالانہ پیداوار سے دُنیا میں تیل کے بیجوں کے سب سے بڑے پروڈیو سر میں سے ایک ہے ۔ تاہم اس کے باوجودہندوستان سبزیوں کے تیل کا سب سے بڑا در آمد کنندہ ہے جس کے بعد اَمریکہ اور چین ہیں۔جموںوکشمیر اَپنے متنوع زرعی موسمی حالات کے لئے جاناجاتا ہے جو تیل کے بیجوں سمیت مختلف فصلوں کو کاشت کے لئے موزوں ماحول فراہم کرتا ہے۔جموںوکشمیر حکومت نے خطے میں تیل کے بیجوں کی کاشت کو فروغ دینے کے لئے ہولیسٹک ایگری کلچر ڈیولپمنٹ پروگرام ( ایچ اے ڈی پی ) کے تحت متعدد اقدامات کئے ہیں ۔ حکومت اَگلے تین برسوں میںموجودہ 140 ہیکٹر سے 210 ویں ہیکٹر کو تیل کے بیج کی کاشت کے تحت لانے کا اِرادہ رکھتی ہے۔ ریپ سیڈ اور سرسوں کی کاشت کے تحت202.50 ویںہیکٹر اورتل کے بیج کی کاشت کے تحت 7.50ویں ہیکٹرکی کاشت کے تحت احاطہ کیا جائے گا۔ٓ اِس کے علاوہ کٹھوعہ ، سانبہ ، جموں ، اودھمپور ، راجوری ، رِیاسی ، اننت ناگ ، کولگام ، پلوامہ ، بڈگام اور گاندربل کے علاوہ شوپیاں ، بانڈی پورہ ، رام بن اور ڈوڈہ اَضلاع میں زرخیز زمین، قابل کاشت بے کار زمین کا اِستعمال اور بین فصلی نظام کو فروغ دینے کے علاوہ فصل کی بڑھتی ہوئی شدت کا فائدہ اُٹھانے کے لئے 70,000 ہیکٹر اِضافہ رقبہ کا احاطہ کیا جائے گا۔صوبہ جموں میں 50 فیصد سے زیادہ خالص بویا ہوا رقبہ بارش پر مبنی ہے۔ لہٰذا، اِس پروجیکٹ کا مقصد صوبہ جموں کے کنڈی اور بارانی علاقوں میں خریف کی فصل کے طور پر تل کے بیج کاشت کرکے فصلوں کے تنوع کو فروغ دینا ہے۔ جموںوکشمیر یوٹی میں خوردنی تیل کی کل ضرورت 14.20 لاکھ کوئنٹل ہے جبکہ جموںوکشمیر یوٹی صرف 3.36 لاکھ کوئنٹل پیدا کرتا ہے۔ اس لئے یہ اقدام خطے کی غذائی تحفظ اور اقتصادی ترقی کے لئے انتہائی اہم ہے۔جموںوکشمیر یوٹی زرعی شعبے میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کا مشاہدہ کرنے کے لئے تیار ہے جس میں منصوبے کی عمل آوری سے تیل کے بیجوں کی پیداوار میں اضافہ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ ان اقدامات میں سبسڈی والے بیج اور کھاد کی فراہمی، بیج کی تبدیلی کی شرح میں اضافہ اور آئی این ایم / آئی پی ایم ا ور مائیکرو اری گیشن جیسی اختراعی ٹیکنالوجیز کو اَپنانا شامل ہے جس کا مقصد تیل بیجوں کی پیداوار کو 11.20 لاکھ کوئنٹل سے 25.20 لاکھ کوئنٹل سالانہ تک بڑھانا ہے اور پیداواری صلاحیت کو 8 لاکھ کوئنٹل فی ہیکٹر سے 12 کوئنٹل فی ہیکٹربڑھانا ہے۔ اِس کے نتیجے میں خوردنی تیل کی پیداوار میں 3.36 لاکھ کوئنٹل سے 9.07 لاکھ کوئنٹل تک نمایاں اضافہ ہوگا۔ اس منصوبے سے تیل بیجوں کی پیداوار میں خسارے کو 35 فیصد تک کم کرنے اور تیل کے بیجوں کی درآمدات کی وجہ سے زرمبادلہ کے اخراج میں خاطر خواہ کمی کی توقع ہے۔کسانوں کو سرسوں اور ریپ سیڈ کی زیادہ پیداوار دینے والی اَقسام کی خریداری کے لئے پروجیکٹ کے ایک حصے کے طور پر 4,000فی کوئنٹل کی سبسڈی کی حد سے 50فیصد اِمداد ملے گی ۔ اِسی طرح ہائبرڈ ریپ سیڈ ، سرسوں اور تل کے بیجوں کی بہتر اقسام کی خریداری کے لئے فائدہ اُٹھانے والوں کو 8,000 فی کوئنٹل کی حد سے 50 فیصدسبسڈی فراہم کی جائے گی۔مزید برآں ، تیل کے بیجوں کی تبدیلی کی شرح کو بہتر بنانے کے لئے پیداواری صلاحیت کو بڑھانے اور رقبے کی توسیع کو فروغ دینے کے لئے فائونڈیشن اور تصدیق شدہ بیج تیار کرنے کے لئے 2,500 فی کوئنٹل کی حد سے 50فیصد سبسڈ ی فراہم کی جائے گی ۔ کاشت کو مزید بڑھانے کے لئے 11,200 ہیکٹر کوتیل کے بیجوں کی کلسٹر کاشت کے تحت لایا جائے گا جس میں 50فیصد مراعات کلسٹرمظاہروں کے تحت 5,000 فی ہیکٹر تک اور فرنٹ لائن مظاہروں کے تحت ریپ سیڈ ، تل اور السی کی کاشت کے لئے اِن پٹ لاگت 7,000 فی ہیکٹر تک بڑھائی جائیں گی ۔اِس پروجیکٹ میں ضروری پیداواری آدانوں کی فراہمی بھی شامل ہے جیسے جپسم ، پائرائٹ ، چونا ، ایزوبیکٹر، ریزوبیم وغیرہ کی فراہمی ، پی پی کیمیکلز ، بائیو پیسٹیسا ئیڈز ، کیڑے مار اَدویات اور بائیو ایجنٹس کی 50فیصد سبسڈی پر زیادہ سے زیادہ 750روپے کی حد تک فی ہیکٹر آٹومیشن کو 300پاور سے چلنے والے سپرے پمپ 50فیصد سبسڈی پر تقسیم کئے جائیں گے جن کی زیادہ سے زیادہ سبسڈی کی حد 10,000روپے فی یونٹ اور 180 پاور ویڈر ، سیڈ ڈرل ، ملٹی کراپ پلانٹر ، ملٹی کراپ تھریشر وغیرہ 50فیصد پر تقسیم کیا جائے گا جس کی زیادہ سے زیادہ حد 75,000 روپے فی یونٹ ہے۔اِس پروجیکٹ میں آبپاشی کے نظام کو اَپ گریڈ کرنے کے لئے 150بورویل اور 150 سپرنکلر سسٹم کے قیام کا بھی تصور کیا گیا ہے۔مزید برآں پوسٹ ہارویسٹ مینجمنٹ کے تحت 70 آئل ملوں کے قیام پر فلٹر پریس ، 30 آئل سیڈ ایکسٹریکٹرز اور دو برانڈنگ اور مارکیٹنگ یونٹوں کے قیام پر 50 فیصد مراعات فراہم کی جائیں گی۔اِس منصوبے سے کسانوں کی واپسی میں 10سے 12فیصد تک خالص اِضافہ اور اِن پٹ لاگت میں 15 سے 20 فیصد کمی کی توقع ہے ۔ اِس کے علاوہ 7,800 روزگار اور300 کاروبار ی اِدارے پیدا ہوں گے ۔ یہ اہم منصوبہ جموںوکشمیر یوٹی میں زرعی شعبے کو تبدیل کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہے اور اس کی کامیابی سے خطے کی مجموعی اِقتصادی ترقی میں مدد ملے گی۔