جموں وکشمیر میں 18,000 میگاواٹ پن بجلی کی صلاحیت ہے ۔ جاوید احمد رانا

جموں وکشمیر میں 18,000 میگاواٹ پن بجلی کی صلاحیت ہے ۔ جاوید احمد رانا

5,463 گھرانوں اور 4,648 سرکاری عمارتوں پر سولر پاور پلانٹس نصب

جموں// وزیر برائے جل شکتی جاوید احمد رانا نے کہا کہ جموں و کشمیر میں تخمینہ شدہ پن بجلی کی صلاحیت 18,000 میگاواٹ ہے جس میں سے 1,4867 میگاواٹ کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔وزیر موصوف ایوان میں آج وزیر اعلیٰ کی جانب سے رُکن اسمبلی مُبارک گُل کے ایک سوال کا جواب دے رہے تھے۔اُنہوںنے ایوان کو بتایا کہ چناب بیسن میں 11,283 میگاواٹ، جہلم بیسن میں 3,084 میگاواٹ اور راوی بیسن میں 500 میگاواٹ کے صلاحیت کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ نشاندہی شدہ صلاحیت میں سے اَب تک 3,540.15 میگاواٹ (23.81فیصد) کا اِستعمال کیا جا چکا ہے جس میں یوٹی سیکٹر (جے کے ایس پی ڈِی سی) میں 1,197.4 میگاواٹ، سینٹرل سیکٹر (این ایچ پی سی ) میں 2,250 میگاواٹ اور 31 منصوبوں کے تحت آئی پی پی موڈ میں 92.75 میگاواٹ شامل ہیں۔وزیر نے سولر پاور پروجیکٹوں کے بارے میں بتایا کہ اَب تک 4,648 سرکاری عمارتوں اور 5,463 رہائشی گھروں میں سولر پاور پلانٹس نصب کئے گئے ہیں، جن کی بالترتیب پیداواری صلاحیت 41,367 اور 34,300 میگاواٹ ہے۔اُنہوںنے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں 111 گیگاواٹ کی تخمینہ سولر پاور صلاحیت ہے جس کا زیادہ تر حصہ لداخ میں واقع ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر میں اب تک میگا سائز کے سولر پاور پروجیکٹ کو ترقی نہیں دی گئی کیوں کہ یہاں کی ٹپوگرافی کی وجہ سے کسی ایک جگہ پر 100 میگاواٹ کے سولر پارک کے لئے 500 ایکڑ زمین کی نشاندہی مشکل ہے۔وزیر موصوف نے مزید بتایا کہ یو ٹی جموں و کشمیر میں مختلف سکیموں اور منصوبوں کے تحت جنہیں زیادہ تر مرکزی وزارت برائے نئی اور قابلِ تجدید توانائی (ایم این آر اِی) نے سپانسر کیا ہے، 75 میگاواٹ کی مجموعی گنجائش والے روف ٹاپ سولر پاور پلانٹس نصب کئے جا چکے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ اس وقت رہائشی گھروں پر روف ٹاپ سولر پاور پلانٹس کی تنصیب ڈسکامز(ڈِی آٗی ایس سی او ایم ایس) کے ذریعے ’’پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا‘‘کے تحت کی جا رہی ہے۔ اِس سکیم کے تحت 1 کلو واٹ کے لئے 55,000 روپے پر 36,000 روپے سبسڈی، 2 کلو واٹ کے لئے 1,10,000 روپے پر 72,000 روپے سبسڈی، اور 3 کلو واٹ کے لئے 1,59,500 روپے پر 94,800 روپے کی سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔وزیر نے یہ بھی بتایا کہ برقی یا یوٹیلیٹی کھمبوں، ایچ ٹی اورایل ٹی تاروں اور ٹرانسفارمروں کی خریداری پروکیورمنٹ وِنگ کے ذریعے کی جاتی ہے۔اِس موقعہ پر ارکان اسمبلی ایم وائی تاریگامی، بلونت سنگھ منکوٹیہ، نظام الدین بٹ، تنویر صادق، شکتی راج پریہار اور معراج ملک نے ضمنی سوالات اُٹھائے۔