Amit Shah

جموں وکشمیر میں نیا دورشروع،صورتحال میں نمایاں بہتری

70 سالوں میں12000 کروڑ روپے اور3 سالوں میں32000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری : مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ

سری نگر//4اکتوبر سے شروع ہونے والے اپنے2روزہ دورہ جموں وکشمیر سے قبل مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے اپنے اس موقف کااعادہ کیاہے کہ دفعہ370کی منسوخی کے بعدملی ٹنسی سے متعلق واقعات میں قابل قدر کمی آئی ہے اوراب کشمیرکی صورتحال پوری طرح سے سیکورٹی ایجنسیوں اورانتظامیہ کے کنٹرول میں ہے ۔انہوںنے کہاہے کہ وادی کشمیر میں بڑی تعداد میں ملی ٹنٹ مارے گئے ہیں اور اب وہاںمارے گئے ملی ٹنٹوں کی تسبیح وتعریف ختم ہو گئی ہے۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ کشمیر میں نہ صرف سنیما ہال دوبارہ کھل گئے ہیں بلکہ ملک بھر کے طلباء بھی وہاں پڑھنے جا رہے ہیں کیونکہ وادی میں حالات مکمل طور پر قابو میں ہیں۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق ایک قومی ہندی اخبار کودئیے گئے انٹرویو میں مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کے تبصرے جموں و کشمیر کے ان کے3 روزہ دورے سے پہلے آئے ہیں جو3،اکبوبر ستمبر سے5،اکتوبر تک دوبارہ طے کیا گیا ہے۔انہوںنے کہاکہ کشمیر میں نہ صرف سنیما ہال دوبارہ کھل گئے ہیں بلکہ یہاں تک کہ آئی آئی ایم، آئی آئی ٹی، آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (AIIMS) بھی قائم کئے جا رہے ہیںاور ملک بھر سے طلباء وہاں پڑھنے جا رہے ہیں۔مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ آزادی کے بعد، پچھلے3 سالوں کے دوران سب سے زیادہ تعداد میں سیاحوں نے جموں و کشمیر کا دورہ کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آئین کے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد ملی ٹنسی سے متعلق واقعات میں کمی آئی ہے۔امت شاہ کاکہناتھاکہبہت سے لوگوں نے کہا کہ خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد وادی کشمیر میں خون کی ہولی ہو گی لیکن ایک پتھر بھی نہیں پھینکا گیا۔اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ جموں و کشمیر میں صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے، امت شاہ نے کہا کہ وہاں مقامی لوگوں کیلئے مکمل طور پر کام کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ دفعہ370کی منسوخی کے بعد وادی کشمیر میں بڑی تعداد میں ملی ٹنٹ مارے گئے ہیں اوراب وہاں مارے گئے ملی ٹنٹوں کی تسبیح یاتعریف بھی ختم ہو گئی ہے۔مغربی پاکستانی پناہ گزینوں کا ذکر کرتے ہوئے مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے کہا کہ بے گھر افراد کو شہریت دی گئی۔1947 میں تقسیم کے بعد یہاں آنے والے مغربی پاکستانیوں کو یکے بعد دیگرے حکومتوں نے شہریت دینے سے انکار کیا لیکن جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد انہیں شہریت کے حقوق دئیے گئے۔اس بات کو برقرار رکھتے ہوئے کہ حکومت میں لوگوں کا اعتماد بڑھ گیا ہے، امت شاہ نے کہا کہ انتخابات بلاک اور ضلع کونسلوں کے لئے کرائے گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ مندروں کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔صنعتی شعبے میں نجی سرمایہ کاری کا ذکر کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ 2019 تک صرف 12000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوئی تھی جبکہ 2019 سے 2022 تک جموں و کشمیر میں 32000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے کہاکہ70 سالوں میں12000 کروڑ روپے اور3 سالوں میں32000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ جموں و کشمیر میں لوگوں کا نظام پر اعتماد بڑھ گیا ہے.وزیر اعظم نریندر مودی نے 24 اپریل کو جموں خطہ کے سانبہ ضلع میں پلی پنچایت میں ایک بڑی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے جموں وکشمیر میں 38080 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔صنعتی شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے حکومت کو پہلے ہی 20,000 کروڑ روپے کی مزید تجاویز موصول ہو چکی ہیں جن کی منظوری اگلے 6 ماہ میں متوقع ہے۔ یہ تجاویز لینڈ بینک کی عدم دستیابی کی وجہ سے رُکی ہوئی تھیں جو اب انتظامیہ کی جانب سے بنائی جا رہی ہیں۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے دورے کانیا شیڈول
3سے5،اکتوبرتک جموں وکشمیر میں قیام
سری نگر//مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے دورہ جموں وکشمیر کانیا شیڈول مرتب کیاگیا ہے ،جسکے تحت اب وہ تین روزہ دورے پر پہنچیں گے ۔اس دوران راجوری اوربارہمولہ میں عوامی ریلیوں کیلئے انتظامات کوحتمی شکل دی جارہی ہے ،اور اس مقصد کیلئے نگرانی کرنے والی کمیٹیا ں بھی تشکیل دی گئی ہیں ۔جے کے این ایس کے مطابق 30ستمبر سے شروع ہونے والے مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کے دورہ جموں وکشمیر کے شیڈول میں موصوف کی کچھ اضافی مصروفیات کی بناء پرتبدیلی کی گئی ہے ۔معلوم ہواکہ اب مرکزی وزیرداخلہ 3سے5،اکتوبرتک جموں وکشمیر کاتین روزہ دورہ کریں گے ۔جس دوران موصوف راجوری اوربارہمولہ قصبہ میں عوامی ریلیوں سے خطاب کے دوران درجہ فہرست ذاتوں وقبائل کیساتھ ساتھ پہاڑیوں اوردیگر کمزور طبقوں کیلئے کئی فلاحی اسکیموںکااعلان بھی کریں گے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ کیساتھ اس اہم دورے میں مرکزی داخلہ سیکرٹری کے علاوہ مختلف سیکورٹی ایجنسیوںکے اعلیٰ حکام بھی ہونگے ،جو یہاں ہونے والی سیکورٹی سے متعلق اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ میں موجودرہیں گے ۔یہ بھی بتایاجاتاہے کہ مرکزی وزیرداخلہ سیول انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کی ایک اہم میٹنگ کی صدارت بھی کریں گے ،جس دوران وہ لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کی موجودگی میں جموں وکشمیر میں جاری تعمیراتی وترقیاتی پروجیکٹوںکی عمل آوری کیساتھ ساتھ مختلف مرکزی معاونت والی اسکیموں پر عمل درآمد کے بارے میں بھی تفصیلی جانکاری لیں گے ۔بتایاجاتاہے کہ مرکزی وزیرداخلہ جموں وکشمیرمیں قیام کے دوران کچھ سرحدی علاقوںکادورہ بھی کرسکتے ہیں جبکہ وہ بھاجپا کی جموں وکشمیر شاخ کے لیڈروں اورسینئر ارکان کیساتھ جموں اورسری نگرمیں ملاقاتیں بھی کررہے ہیں ۔