oxygen plant

جموں وکشمیر میں آکسیجن کی پیداوار90,300ایل پی ایم میں کامیاب

محکمہ صحت نے ہیلتھ چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے 2برسوں میں 87 آکسیجن پلانٹس نصب کئے

سری نگر//عالمی وَبا کووِڈ۔19 سے نمٹنے کے لئے جموںوکشمیر حکومت کے فوری ردِّعمل اور کثیر الجہتی حکمت عملی نے نہ صرف وَبا ئی مرض کو تیزی سے کم کیا ہے بلکہ آنے والے ہیلتھ چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے ہنگامی صحت خدمات کو کئی گنا مضبوط اور اِضافہ کیا ہے۔جموںوکشمیر یوٹی اِنتظامیہ نے اَپنی پیشہ ور افرادی قوت اور حکمت عملی کی منصوبہ بندی سے عوام کی خاطر واضح رہنما خطوط تیار کرکے جامع ٹیسٹنگ، رابطے کا پتہ لگانے اور قرنطینہ میں لوگوں کی مدد کرکے تعمیل کو آسان بنانے کے لئے یہ کامیابی حاصل کی۔لیفٹیننٹ گورنر اِنتظامیہ کی مداخلت اور مرکزی حکومت کی اچھی خاصی مد د سے جموںوکشمیر اَپنی آکسیجن کی پیداواری صلاحیت کو اگست 2020ء میں 14,916 ایل پی ایم سے بڑھاکر اِس وقت 90,300 ایل پی ایم کرنے میں کامیاب رہی ہے۔جموںوکشمیر یوٹی کے پاس اگست 2020ء میں 24 آکسیجن پلانٹس تھے اور اس کے بعدمزید 87پلانٹس نصب کئے گئے ہیں۔ کووِڈ مثبت معاملات جیسے ہی بڑھنے لگے جموں وکشمیر نے دیگر رِیاستوں کی طرح وَبائی مرض پر قابو پانے کے لئے اَپنی تمام حکمت عملیوں کو بروئے کار لایا۔ دوسری کووِڈ لہرجیسے ہی آئی طبی آکسیجن کی مانگ میں اِضافہ ہوا اور لوگوں کو زندگی بچانے والی اشیاء تک رَسائی کے لئے جدوجہد کرنے کے ساتھ ہی اَفسوسناک مناظر سامنے آئے۔ ملک کے دور مشرقی علاقوں میں آکسیجن کی پیداوار کے ارتکاز کی وجہ سے مانگ میں اچانک اضافہ ہوا۔ لیکوڈ میڈیکل آکسیجن (ایل ایم او) کو لے جانے کے لئے درکار کرائیوجینک ٹینکروں کی تعداد بہت کم تھی ۔حکومت نے صورتحال پر قابو پانے کے لئے متعدد اقدامات اُٹھائے اِضافی ٹینکرباہر سے لائے گئے، آکسیجن سپلائی کو جیو میپ اور آن لائن سسٹم قائم کیا گیا۔ اِس کے علاوہ پریشر سوئنگ ایڈسورپشن (پی ایس اے) پلانٹس کے قیام میں تیزی لائی گئی اور آکسیجن کنسنٹریٹروں کی خریداری اور تقسیم کو بھی تیز کیا گیا۔وزیر اعظم نے کووِڈ۔19 بحران سے ہندوستان کی کوکشش پر بات کرتے ہوئے اسے صدی کے بحران کے طورپر تسلیم کیا۔ اُنہوں نے سب کی کوششوںاور جوش اور جذبے کی تعریف کرتے ہوئے کہا ،’’ وبائی مرض کے آغاز میں صرف ایک لیبارٹری سے ٹیسٹ کئے جاتے تھے اب ملک میں 3000 ٹیسٹنگ لیبارٹریاں ہیں۔ حکومت نے این 95 ماسک، پی پی ای کٹس، وینٹی لیٹروں جیسی ضروری اشیاء کی پیداوار اور فراہمی کو بڑھانے کے لئے چوبیس گھنٹے کام کیا۔ آتم نربھر بننے کی تحریک نے ہماری تمام صلاحیتوں میں خود کفالت کو یقینی بنایا۔ اُنہوں نے کووِڈ۔19 وبائی بیماری سے نمٹنے کے لئے دنیا بھر میں شروع کی گئی سب سے بڑی ٹیکہ کاری مہم اورمیڈ اِن انڈیا وینٹی لیٹروں کے اہم کردار کا بھی ذکر کیا۔‘‘ان کے الفاظ میں جنگی بنیادوں پر بحران کے وقت آکسیجن کی پیداوار اور ٹرانسپورٹیشن کا انتظام اپنے آپ میں ایک مثال ہے۔اُنہوں نے کہا ،’’تمام اضلاع میں اب کم از کم ایک پی ایس اے پلانٹ دستیاب ہے اور مرکز نے ریاستوں کے ساتھ مل کر 4,000 نئے آکسیجن پلانٹ شروع کئے ہیں۔ دور دراز علاقوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایک لاکھ کنسنٹریٹر بھی نصب کئے گئے تھے۔ جموں و کشمیر حکومت کو 9 میڈیکل آکسیجن جنریشن پلانٹس کی کھیپ بھی موصول ہوئی۔ یورپ میں تیار کئے گئے جدید ترین پریشر سوئنگ ایڈسورپشن (پی ایس اے) آکسیجن جنریشن پلانٹس کو 5 جون کو ہندوستانی فضائیہ کے C-17 کارگو طیارے سے فرینکفرٹ جرمنی سے ایئر لفٹنگ کیا گیا اور مذکورہ تاریخ کی صبح سری نگر ہوائی اڈے پر پہنچایا گیا۔ ان میں سے 5 نئے پلانٹس جن کی پیداواری صلاحیت 4,000 ایل پی ایم ہے کشمیر کے ہسپتالوں میں اور باقی چار 4400 ایل ایم پی کی پیداواری صلاحیت کے جموں کے ہسپتالوں میںنصب کئے گئے تھے۔اس سے قبل 7 پلانٹس کی کھیپ بھی ہندوستانی فضائیہ کے طیارے سے لائی گئی تھی۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ان کی ذاتی مداخلت کی وجہ سے ہے جس کی وجہ سے جموں و کشمیر کو اتنے کم وقت میں یورپ سے 16 آکسیجن پلانٹس حاصل کرنا ممکن ہوا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا ،’’ہمارا مقصد مستقبل میں صحت کی کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے جموں وکشمیر یوٹی میں طبی سپلائی کو بڑھانا ہے۔ طبی بنیادی ڈھانچے کی صلاحیتوں کو اَپ گریڈ کیا جائے گا۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیرزائد اَز 18 برس عمر کی صد فیصد ٹیکہ کاری مکمل کرنے میں سرفہرست رہا ہے۔ اِسی طرح 15برس عمر سے18 برس عمرتک کے گروپ کو پہلی خوراک سے صد فیصد کور کیا گیا تھا۔مرکز نے ان بچوں کے لئے مالی اِمداد کی سکیم کااعلان کیا تھا جو اَپنے والدین کو کورونا وائرس بیماری کی وجہ سے کھوچکے ہیں۔ان بچوں کو 10 لاکھ روپے کی رقم سے 18 سال کے ہونے پر ماہانہ وظیفہ ملتا ہے تاکہ وہ پی ایم۔کیئریرس فار چلڈرن ‘‘سکیم کے تحت ذاتی اور اعلیٰ تعلیم کے اخراجات کو پورا کرسکیں۔ جب وہ 23 برس کے ہو جائیں گے تو حکومت انہیں پورے 10 لاکھ روپے دے گی۔جموں و کشمیر حکومت نے ان بزرگ شہریوں کی خاطر زندگی بھر کے لئے خصوصی پنشن کا بھی اعلان کیا تھا جنہوں نے اپنے کنبے کے واحد کمانے والے فرد کو کھو دیا ہے اور ان بچوں کے لئے خصوصی سکالرشپ کا بھی اعلان کیا ہے جنہوں نے اپنے والدین کو کھو دیا ہے۔ ایک آفیسرکے مطابق، جموں و کشمیر میں اپنے والدین کو کھونے والے کنبوں اور بچوں کے لئے 418 پنشن معاملات اور 414 سکالرشپ معاملات بھی منظور کئے گئے۔کووِڈ اموات کے لئے خصوصی امدادی سکیم ( ایس اے ایس سی ایم سکیم) کے تحت، زندہ بچ جانے والے شریک حیات اور سب سے بڑے منحصر رکن کو ڈی بی ٹی کے ذریعے ماہانہ 1000 روپے کی پنشن فراہم کی جا رہی ہے۔ سکول جانے والے طلباء کو 20,000 روپے سالانہ اور کالج کے طلباء کو 40,000 روپے کی سکالرشپ بھی ڈی بی ٹی کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہے۔