جموں// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ زرعی زمین کے غلط اِستعمال کو روکنے کے لئے ضروری دفعات جموں و کشمیر لینڈ ریونیو ایکٹ، سوت 1996 میں فراہم کی گئی ہیں۔وزیراعلیٰ ایوان میں آج رُکن اسمبلی عرفان حفیظ لون کے ایک سوال کا جواب دے رہے تھے۔اُنہوں نے کہا کہ اس ایکٹ کی دفعہ 133 ۔اے کے تحت ضلع کلکٹر کی اِجازت کے بغیر زرعی مقاصد کے لئے اِستعمال ہونے والی کوئی بھی زمین غیر زرعی مقاصد کے لئے اِستعمال نہیں کی جائے گی۔ اِس کے علاوہ، لینڈ ریونیو ایکٹ سموات کی دفعہ 133۔اے کے مطابق۔ 1996ء 400 مربع میٹر تک کی زرعی زمین کو رہائشی مقاصد کے لئے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس ایکٹ کے سیکشن 133-سی کے تحت اگر کوئی زمین 133۔اے، 133۔بی یا 133۔بی بی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی اور مقصد کے لئے اِستعمال کی جاتی ہے تو وہ حکومت کے حق میں ضبط کر لی جائے گی۔ اِس کے علاوہ ان دفعات کی خلاف ورزی کرنے والے اَفراد کو سزا دی جا سکتی ہے اور اسسٹنٹ کلکٹر فرسٹ کلاس کے عہدے سے کم درجے کا کوئی بھی آفیسر یا کلکٹر پچیس ہزار روپے تک جرمانہ عائد کر سکتا ہے۔ اُنہوں نے ایوان کو آگاہ کیا کہ بورڈ آف ریونیو نے تفصیلی قواعد و ضوابط، مخصوص فارم اور زرعی زمین کو غیر زرعی مقاصد کے لئے تبدیل کرنے کی فیس مقرر کی ہے جس میں نگرانی کے اصول بھی شامل ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر لینڈ گرانٹ ایکٹ ریاستی زمین کو حکومت کی طرف سے لیز پر دینے کے لئے دفعات فراہم کرتا ہے۔ جموں و کشمیر لینڈ گرانٹ رولز 2022 کو نظر ثانی کے بعد نوٹیفائی کیا گیا ہے جسے ایس او 668، بتاریخ 9؍ دسمبر2022 کے ذریعے عملایا گیا ہے۔










