مرکز میں پہلی بار ایسی حکومت ہے جو جموںوکشمیر میں جمہوریت نہیں دیکھنا چاہتی ہے /عمر عبداللہ
سرینگر// نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ 1990کے بعد میں پہلی مرتبہ دیکھ رہاہوں کہ مرکز میں ایسی حکومت آئی ہے جو جموںوکشمیرمیں جمہوریت نہیں دیکھنا چاہتی ہے، 1990کے بعد پی وی نرسمہا رائو کی حکومت ہو،ایچ ڈی دیو ے گوڑا کی حکومت ہو، آئی کے گجرال کی حکومت ہو، اٹل بہاری واجپائی کی حکومت ہو یا پھر ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت ، سبھی کی ہمیشہ یہی کوشش رہی کہ جموں وکشمیر میں جمہوریت قائم ہونی چاہئے لیکن آج ان دہائیوں میں پہلی بار ایسا دیکھنے کو مل رہا ہے کہ مرکزی حکومت جموں وکشمیر میں جمہوریت کو پنپتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتی ہے۔ سٹار نیوز نیٹ ورک کے مطابق ان باتوں کا اظہار انہوں نے آج نوشہرہ میں عظیم الشان یک روزہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کنونشن کا انعقاد پارٹی کے سنٹرل سکریٹری شری سرچودھری نے کیا تھا ۔ کنونشن سے پارٹی جنرل سکریٹری حاجی علی محمد ساگر، معاون جنرل سکریٹری شری اجے سدھوترا، سینئر لیڈر میاں الطاف احمد، صوبائی صدر جموں ایڈوکیٹ رتن لعل گپتا ،صوبائی صدر کشمیر ناصر اسلم وانی اور دیگر سرکردہ لیڈران نے بھی خطاب کیا۔ عمر عبداللہ نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے نئی دلی میں براجمان بھاجپا سے سوال کیا ہے کہ جموں وکشمیر میں جمہوریت کو جس طرح سے کچلا اور ختم کیا جارہاہے، اس کے پیچھے کیا وجہ ہے؟انہوں نے کہا کہ ’’کل تک تو یہ کہتے ہیں کہ یہاں پنچایتیں ہیں، اب یہ پنچایتیں بھی جنوری میں ختم ہوجائیں گی، اس کے بعد کیا؟ میونسپل کونسل اور بلدیاتی ادارے بھی ایک ایک کرکے ختم ہوگئے۔ اسمبلی 2018میں ختم ہوئی ہے اور اب 2023بھی ختم ہونے کو ہے لیکن جمہوریت کی بحالی کا کہیں نام و نشان نہیں۔آخر کار جموں و کشمیر کو ہی جمہوریت کی بحالی کیلئے جدوجہد کیوں کرنی پڑ رہی ہے، باقی ریاستوں میں تو وقت پر انتخابات ہوتے ہیں اور حکومتیں قائم ہوتی ہیں۔ کل5ریاستوں کیلئے ووٹوں کی گنتی ہوگی اور وہاں اپنی اپنی حکومتیں قائم ہونگی لیکن جموں وکشمیر کیساتھ یہ امتیازی سلوک کیوں جاری ہے؟ یہاں کے عوام کی کیا غلطی ہے؟ کیا یہاں کے عوام کی یہی غلطی ہے کہ انہوں نے نفرت کی سیاست کو مسترد کیا ہے، کیا ہماری یہی غلطی ہے کہ ہم نے ہند ، مسلم ،سکھ اتحادکا نعرہ دیا ہے؟عمر عبداللہ نے کہا کہ گذشتہ دنوں جب اُترا کھنڈمیں ٹنل ڈھہہ گئی ، ساری دنیا سے بچائو کارروائی کیلئے مشینری لائی گئی لیکن وہ ناکام ہوئی اور بالآخر انسانوں کے ذریعے بچائو کارروائی شروع کی گئی اور اس بچائو کارروائی میں ہندو بھی شامل تھے اور مسلمان بھی اور ٹنل کے اندر بچائو کارروائی کیلئے جو پہلا انسان پہنچا وہ مسلمان تھا۔ جب اُس مسلمان نے بچائو کارروائی کیلئے ہاتھ آگے بڑھایا تو اندر پھنسے مزدور نے یہ نہیں کہا کہ مجھے مسلمان کے ہاتھ سے نہیں بچناہے، بلکہ اُس ہاتھ تھاما اور نکل آیا، یہی اس ملک کی خصوصیت ہے، یہ ملک سبھی مذاہب کے لوگوں کا ہے اور یہاں سب ایک ساتھ مل کر رہتے ہیں لیکن یہاں نفرتوں کے انجیکشن لگانے کی کوششیں کی جارہی ہیں، ہمیں مذہبی بنیادوں پر بانٹنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، حتیٰ کہ اسمبلی اور پارلیمانی حلقوں کی حدبندی میں بھی یہی طریقہ کار اختیار کیا گیا۔ جموںوکشمیر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ لوگ ڈبل انجن کے دعوے کررہے ہیں، لیکن اس ڈبل انجن کا عوام کو کہیں فائدہ نہیں پہنچ رہاہے۔ آج سرکاری ملازم پریشان ہیں، انہیں اپنا جی پی فنڈ تک نہیں مل رہاہے۔ ڈیلی ویجر پریشان ہیں،وہ ڈیلی ویجر جن کی مستقلی کا سارا کام ہماری حکومت نے 2014سے پہلے کر کے رکھا تھا،لیکن اُس وقت اللہ کو منظور نہیں تھا، سیلاب آیا اور آگے ہماری حکومت نہیں آئی لیکن اس کے بعد آج تک اس سمت میں کوئی کام نہیں ہوا۔ مہنگائی نے لوگوں کی کمر توڑ دی ہے، وہ کون سے چیز ہے جس کی قیمت آج آسمان نہیں چھو رہی ہے۔ راشن کم کرتے کرتے اب صرف5کلو تک پہنچایا گیا ہے اور اسے حاصل کرنے کیلئے بھی لوگوں کو کتنی تکلیف اُٹھانی پڑتی ہے۔ بجلی کا حال بھی بے حال، یہ لوگ میٹر لگانے کا سروے کرنے کیلئے یہ ایک ایک گھر تک پہنچے، میٹر تو لگے لیکن بجلی کہیں نہیں۔ پینے کے پانی کے فیس میں ہر سال اضافہ ہوتا ہے لیکن پانی کی فراہمی کہیں نہیں۔ ہسپتالوں میں ڈاکٹر نہیں، نیم طبی عمل نہیں، ادویات اور سہولیات نہیں۔ سکولوں میں اساتذہ نہیں، نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع نہیں، کہیں پر بھی بھرتی عمل نہیں ہورہاہے ، پھر اس حکومت کے ڈبل انجن کا فائدہ کس کو پہنچ رہاہے۔










