dooran news

جموں وکشمیرکے تقریباً21فیصد بالغ افراد تمباکونوشی کے عادی

گزشتہ4برسوں کے دوران کشمیر میں 1200افراد نے سگریٹ نوشی ترک کی

سری نگر//جموں وکشمیرکے تقریباً21فیصد بالغ افراد کے تمباکونوشی کے عادی ہونے کے بیچ اسبات کادعویٰ کیاگیاہے کہ گزشتہ4برسوں کے دوران کشمیر میں 1200افراد نے سگریٹ نوشی چھوڑ دی۔جے کے این ایس کے مطابق ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ کشمیر میں گزشتہ 4 سالوں میں تقریباً 1200 افراد نے سگریٹ نوشی ترک کردی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق، کشمیر میں2022-23 میں147 افراد،2021-22 میں 642افراد، 2020-21 میں 212 اور 2019-20 میں194 افراد نے کشمیرمیں سگریٹ نوشی ترک کی۔عہدیداروں کا دعویٰ ہے کہ جموں وکشمیر میں تمباکو کے استعمال کی شرح کو کم کرنے کیلئے بہت سے اقدامات کئے گئے ہیں،اوریہ کہ حکومت کے ذریعہ شروع کئے گئے قومی تمباکو کنٹرول پروگرام کی کوششوں کی وجہ سے تمباکونوشی کرنے والے افرادکی شرح کم ہونا شروع ہوگیا ہے۔خاص طور پر GATS-2 کے اعداد و شمار کے مطابق 35.2فیصد مرد اور 5.1فیصد خواتین، جبکہ 20.8فیصد تمام بالغ افراد اس وقت جموں و کشمیر میں تمباکو نوشی کرتے ہیں۔حکام کے مطابق بغیر دھوئیں کے تمباکو مصنوعات کا کم سے کم استعمال ہورہاہے ،اورزیادہ ترعادی افراد دھوئیں والے تمباکو مصنوعات کاہی استعمال کرتے ہیں ۔اعدادوشمار کے مطابق جموں وکشمیرمیں 27فیصدعادی افراد تمباکو نوشی کرتے ہیں،4فیصد کی پسند بیڑی ،اور2فیصد افراد حقہ یاسگار یا پھرپائپ کااستعمال کرتے ہیں۔دیہی علاقوں کے مقابلے میں شہری علاقوںمیں تمباکو نوشی کرنے والے مردوزن کی تعداد اورشرح کم ہے ،جہاں دیہی علاقوںمیں 35فیصد مرد اور1.4فیصد خواتین تمباکو نوشی کی عادی ہیں ،وہیں شہری علاقوںمیں تمباکو نوشی کے عادی مردوںکی شرح 24فیصداورخواتین میں یہ شرح0.7فیصد ہے ۔