جموں وکشمیرمیں منشیات کادھندہ اوراستعمال:گزشتہ6برسوں کے دوران تیزی کاخطرناک رُجحان

6 لاکھ سے زیادہ نفوس منشیات کے عادی، 50فیصد سے زیادہ کی عمر18 سے 33 سال

سری نگر//اسبات کاانکشاف ہواکہ سال2016کے بعدکشمیر وادی میں منشیات کے دھندے اورہیروئین وبرائون شوگر سمیت مختلف نشہ آوراشیاء نیز ادویات کے استعمال میں خطرناک حدتک تیزی پائی گئی ۔جے کے این ایس کے مطابق طبی ونفسیاتی امراض کے ماہرین کاکہناہے کہ مختلف وجوہات کی بناء پرذہنی دبائو،تنائو ،کشیدگی ،گھریلو مسائل ،بے روزگاری،صحبت بدیعنی بری صحبت ،غلط لوگوں سے میل جول اورگردنواح کے حالات وواقعات کشمیر کی نوجوان نسل کے منشیات کی اسمگلنگ،دھندے اوراستعمال سے جڑے کی کچھ بنیادی وجوہات ہیں ۔نفسیاتی ماہرین کہتے ہیں کہ منشیات کی عادت یالت کاشکارہونے والے نوجوانوں کوصرف اپنے اہل خانہ اس مصیبت سے نجات دلانے میں پہل کرسکتے ہیں ،اوراگروہ منہ موڑ لیں توپھر ایسے نوجوانوں کیلئے واپسی کے راستے محدودہی نہیں بلکہ عملاًبند ہوجاتے ہیں ۔AIIMS کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ نشہ آور اشیاء کے زیادہ تر معاملے 18 سے 33 سال کے درمیان ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ 14 سال سے کم عمر کے نوجوانوں کا ہیروئن جیسی منشیات میں ملوث ہونا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ وادی سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کو فعال طور پر منشیات کی لت میں مبتلاء یاشامل دیکھا گیا ہے۔ ۔1980 اور 1990 کے درمیان تنازعات سے پہلے کے دور میں رجسٹر ہونے والے منشیات کیسوں کی تعداد کے اعداد و شمار کے مطابق، جموں و کشمیر میں نفسیاتی علاج کرانے والے مریضوں کی کل تعداد10ہزار تھی،جن میں سے صرف189 نشے کے عادی تھے۔ زیادہ تر بھنگ کا استعمال کر رہے تھے۔ سیاحت کے شعبے میں کام کرنے والے چند ہی لوگ، جن کا غیر ملکیوں سے واسطہ تھا، ہیروئن میں مبتلا تھے۔ آج منشیات کا استعمال اتنا بڑھ چکا ہے کہ AIIMS کے نیشنل ڈرگ ڈیپنڈنس ٹریٹمنٹ سینٹر کے مطابق جموں و کشمیر میں 6 لاکھ سے زیادہ لوگ منشیات کے استعمال کا شکار ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز(IMHANS ) سری نگر، جو کہ ایک بنیاد بحالی کی سہولت کاسینٹر ہے، میں مریضوں کے ریکارڈ اس مسئلے کی بڑھتی ہوئی نوعیت کی تصدیق کرتے ہیں۔2016 میں، 489 منشیات کے عادی افراد نے اس سہولت سینٹر میں اطلاع دی، 2019 میں یہ تعداد تیزی سے بڑھ کر 7420 ہوگئی۔ 2020 میں، یہ گھٹ کر3536 ہوگئی، لیکن اس کی وجہ کووڈ19مخالف لاک ڈاؤن ہے۔ایک رپورٹ میںسری نگر ضلع انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکارکاحوالہ دیتے ہوئے یہ انکشاف کیاگیاہے کہ کپواڑہ میں ایک گرام ہیروئن 1200سے1500 روپے میں دستیاب ہے، لیکن سری نگر میں دکانداریامنشیات فروش اس کیلئے2500 سے 3000روپے وصول کرتے ہیں۔ پاکستان سے آنے والی منشیات کی کھیپوں کی بار بار ضبطی ہو رہی ہے۔ جموں وکشمیرپولیس کے مطابق2020 میں کشمیر کے مختلف حصوں سے 36.08 کلو گرام خالص ہیروئن اور 49.7 کلو گرام براؤن شوگر برآمد ہوئی تھی۔ لیکن ماہرین کو خدشہ ہے کہ یہ صرف برفانی تودہ کا سرہ ہے۔ حکام کاکہناہے کہ منشیات اسمگلنگ اوراس غیرقانونی دھندے کے پیچھے سرحدپار کاہاتھ ہے ،حکام کے مطابق منشیات بشمول ہیروئن اوربراون شوگرسرحدپار سے اسمگل کروایا جاتاہے ،تاکہ اس کوفروخت کرکے ملی ٹنٹ تنظیموںکی فنڈنگ کی جاسکے ۔