جموں میں گرمی کی شدید لہر کے بیچ ماہرین کی جانب سے ایڈ وائزری جاری

سرینگر / /جموں میںگرمی کی شدید لہر کے بیچ ماہرین نے ایڈ وائزری جاری کرتے ہوئے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ صبح 11بجے سے 3 بجے کے درمیان شدید دھوپ سے میں باہر نکلنے سے گریز کریں ۔ادھر محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کی ہے کہ رواں ہفتے کے آخر تک موسمی صورتحال میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیںہے اور دن کے درجہ حرارت میںمزید اضافہ ہو سکتا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق وادی کشمیر کے ساتھ ساتھ جموں میںبھی گرمی کی شدید لہر جاری ہے جس کے چلتے ماہرین نے خدشات ظاہر کئے ہیں کہ الٹرا وائلٹ شعاعوں کی بڑھتی ہوئی کھلے میں گھومنے پھرنے والوں کو ’’سن سٹروک ‘‘کا شدید خطرہ لاحق کردیا ہے۔ ماہرین کے مطابق دن بھر شدید گرمی کے باعث لوگوںکو جہاں مشکلات کا سامنا ہے وہیں طبی ماہرین اور سائنسدانوں نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ صبح 11 بجے سے سہ پہر 3 بجے کے درمیان چلچلاتی دھوپ میں باہر نہ نکلیں۔ ڈاکٹر مہندر کمار، سینئر سائنسدان سکاسٹ جموں کے مطابق 7 جون کو جموں میں رواں موسم کا سب سے زیادہ درجہ حرارت (43.6 ڈگری سینٹی گریڈ) ریکارڈ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ آنے والے کم از کم ایک ہفتے میں خطے میں چلچلاتی گرمی سے کوئی راحت نہیں ملے گی۔ انہوںنے مزید کہا کہ ان دنوں الٹرا وئلٹ شعاعوں کی بڑھتی ہوئی شدت سے ہیٹ اسٹروک کے خطرے سے خود کو بچانے کے لیے عوام اور خاص طور پر بچوں اور بزرگوں کو صبح 11 بجے سے سہ پہر 3 بجے کے درمیان کھلی دھوپ میں نکلنے سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں یا مزدور طبقے کے لوگ اپنے کھیتوں میں یا کھلی دھوپ میں کام کرتے وقت اپنے سر کو کپڑے یا ٹوپی سے ڈھانپیں اور ان دنوں میں زیادہ نی استعمال کریں۔کسانوں کے لیے ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے ڈاکٹر مہندر نے کہا کہ کسانوں کو چاہیے کہ وہ نئے پھلوں اور سبزیوں کے پودوں کو سیراب کرنے کے لیے پانی کا چھڑکاؤ کریں تاکہ انھیں گرم موسمی حالات سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ لیموں کے پھل شدید گرم اور خشک موسم کی وجہ سے پھٹ جاتے ہیں اور ان پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے، خاص طور پر صبح اور شام کے اوقات میں پانی کے چھڑکاؤ۔ یہاں تک کہ سبزیوں کے پودوں کو بھی اس گرم موسم سے بچانے کے لیے باقاعدگی سے آبپاشی/پانی کے چھڑکاؤ کی ضرورت ہوتی ہے۔