dooran news

جموں رِنگ روڈ پر سوشل فارسٹری محکمہ او ر این ایچ اے آئی کی طرف سے وسیع شجر کاری مہم کا اِنعقاد

جموں//سوشل فارسٹری ڈیپارٹمنٹ نے آج قومی شاہراہ رِنگ روڈ این ایچ ۔44 کے ساتھ چک اَوتار گرام پنچایت میں خواتین کے عالمی دن کے موقعہ پر ایک خصوصی شجرکاری مہم کا انعقاد کیا۔اِس شجرکاری مہم میں زائد اَز 300شرکأ جن میں خواتین ے ایس ایچ جی کے رضاکار ، طالبات ، پی آر آئی کے نمائندے ، سوشل فارسٹری اور این ایچ اے آئی کے عملے ، ایکو کلب کے اراکین ، وان مترا ، ملحقہ دیہات کی خواتین اور ان کے بچوں نے حصہ لیا ۔اِس کے علاوہ اِنڈین فارسٹ سروس آفیسرز وائیوز ایسو سی ایشن ( آئی ایف ایس او ڈبلیو اے ) کے ممبران نے ’’ پیڑ لگائو بیٹی کے نام‘‘ کے تھیم کے تحت منعقد شجرکاری پروگرام میں حصہ لیا جو کہ جنگلات ، ماحولیاتی تحفظ اور بیداری پیدا کرنے میں خواتین اور لڑکیوں کو شامل کرنے کے لئے حکومت جموںوکشمیر کی ایک پہل ہے۔اِس موقعہ پر مختلف انواع کے زائد اَز 1000پودے لگائے گئے ۔ مقامی لوگوں نے اَپنا گراں قدر تعاون کر کے شجرکاری کی حفاظت کا عہد کیا۔اِس موقعہ پر پرنسپل چیف کنزرویٹر فارسٹ اور ڈائریکٹر سوشل فارسٹری ڈیپارٹمنٹ روشن جگی مہمان خصوصی تھے۔اِس موقعہ پر پی سی سی ایف نے اَپنے خیالا ت کا اِظہار کرتے ہوئے شجرکاری کی تقریب کو کامیا بی سے اَنجام دینے میں گرام پنچایت ممبران، مقامی خواتین اور دیگر شراکت داروں کی بھرپور حمایت اور شرکت کی سراہنا کی۔اُنہوں نے کہا کہ سوشل فارسٹری کے مختلف اقدامات کے تحت گرام پنچایتوں کی زمین پر درخت لگانے اور کسانوں کی زمین پر شجرکاری کو فروغ دینے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا،’’ گرام پنچایتیں مقامی لوگوں کی فعال مشغولیت میں فعال کردار اَدا کر رہی ہیں تاکہ وہ اَپنی آمدنی میں اِضافہ کرنے اور دیہی علاقوں میں روزی روٹی کے مواقع کو بڑھانے کے لئے ایک فائدہ مند کاشت کاری کے کاروبار کے طور پر شجرکاری کو شروع کرسکیں۔‘‘ضلع ترقیاتی کونسل کے رُکن بشناہ دھر میندر پال ، ریجنل ڈائریکٹر نیشنل ہائی ویز اَتھارٹی آف اِنڈین روہن گپتا ، مشیر این ایچ اے آئی روی کیسر اور سوشل فارسٹری اور این ایچ اے آئی کے اَفسران بھی موجود تھے۔ریجنل ڈائریکٹر این ایچ اے آئی نے کہا کہ دونوں آرگنائزیشنوں کی مشترکہ کوششوں کے ایک حصے کے طور پر جموںوکشمیر میں نئی تعمیر شدہ شاہراہوں بشمول جموں۔ اودھمپور ، قاضی گنڈ۔ سری نگر اور جموںرِنگ روڈ کے اَطراف میں شجرکاری کی ایک بڑی پہل کی گئی ہے ۔یہ مرکزی حکومت کی پالیسی کے مطابق آلودگی کو کم کرنے ، کاربن کو اَلگ کرنے اور سفر کی حفاظت اور تجربے کو بڑھانے کے لئے گرین ہائی ویز تیار کرنا ہے۔خواتین نے پروگرام کی خصوصی توجہ کے طور پر اَپنی بیٹیوں کے نام پر پودے لگائے ۔اُنہوں نے ان کی حفاظت کرنے اور دوسرے گائوں میں بھی اس اقدام کو آگے بڑھانے کا عہد کیا۔یہ بات قابل ذِکر ہے کہ جموںوکشمیر گرین ڈرائیو ، ہر گائوں ہریالی ، وَن سے جل جل سے جیون کے اَقدامات کے تحت جموں و کشمیر کے محکمہ جنگلات کے مختلف وِنگز شجرکاری ، پانی کے تحفظ او ربارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی اور جی پیز کی شمولیت سے دیہاتوں میں پودے کی مفت تقسیم میں سرگرم عمل ہیں۔ جموںوکشمیر کے تمام اَضلاع میں رواں برس کے دوران1.35 کروڑ پودے لگائے جارہے ہیں ،پانی ذخیرہ کرنے کے ڈھانچے بنائے گئے ہیں اور چارہ بڑھانے کی سرگرمیاں 4,291جی پی ایس میں کی جارہی ہیں ۔ مقامی لوگوں کو مفت چارہ ، اینڈھن کی لکڑی ، لکڑی اور جی پی فنڈ میں حصہ اَدا کرنے سے فائدہ ہورہا ہے جیسا کہ باغات سے حاصل ہونے والی آمدنی ہے۔