عوامی مفاد عامہ کے تحت دائر عرضی کو جموں کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے سنجیدگی سے لیا
سرینگر// جموں اور سرینگر کی مختلف شاہرائوں پر بڑھتے سڑک حادثات کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے جموں کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت د ی ہے تاکہ آئندہ ایسے حادثات پر روکھتام لگائی جائے ۔ سٹار نیوز نیٹ ورک کے مطابق جموں اور کشمیر کے مختلف حصوں خاص طور پر مغل روڈ، بٹوٹ ،ڈوڈہ کشتواڑ اور رام بن سڑکوں پر بڑھتے سڑ ک حادثات کے پیش نظر مفاد عامہ کے تحت دائر کی گئی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت دی ۔ خیال رہے کہ انتخاب احمد قاضی، بار ایسوسی ایشن ڈوڈہ اور آصف اقبال بٹ کی طرف سے عدالت عالیہ میں جموں کشمیر میں سڑک حادثات کو لیکر تین عرضیاں مفاد عامہ کے تحت دائر کی گئی تھی جس پر چیف جسٹس این کوٹیشور سنگھ اور جسٹس موکش کھجوریا کاظمی پر مشتمل ڈویڑن بنچ کے سامنے سماعت ہوئی ۔ سماعت کے دوران بینچ نے اس معاملے میںماہرین کی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت دی ہے ۔ بینچ نے کہا کہ یہ کمیٹی آئی آئی ٹی جموں کے پروفیسر پر مشتمل ہوگی جو روڈ سیفٹی میں مہارت رکھتے ہیں، ایک انجینئر کو چیف انجینئر سمپارک کے ذریعہ نامزد کیا جائے گا، ایک ایگزیکٹو انجینئر کو چیف انجینئر پی ڈبیلو ڈی جموں کے ذریعہ نامزد کیا جائے گا اور پروفیسر (ڈاکٹر) جی ایم بٹ جموں یونیورسٹی کے شعبہ ارضیات کے سابق ایچ او ڈی، جو قومی شاہراہوں پر لینڈ سلائیڈنگ کے ماہر ہیں اس کمیٹی کے اہم رکن ہونگے ۔ ڈویژن بنچ نے مزید ہدایت دی کہ ڈویڑنل کمشنر، جموں، جو پہلے ہی نوڈل آفیسر کے طور پر تعینات ہیں، ماہر کمیٹی کے کام کاج کو مربوط کرنے کیلئے رہیںن گے جبکہ ماہرین کی کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ قومی شاہراہ اور مغل روڈ کا دورہ کرکے معائنہ کرے تاکہ اکثر سڑک حادثات کی وجوہات اور وجوہات کا پتہ لگایا جا سکے۔










